پاک بھارت مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے

پاکستان نے اس مسئلے پر بارہا بھارت سے احتجاج کیا کہ وہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز رہے

بھارت کو بھی اب اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ سرحدی کشیدگی یا جنگی جنون کو ہوا دینے سے علاقے کے مسائل کبھی حل نہیں ہونگے۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو وطن واپسی سے قبل لندن میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے بھارت کے پاس پاکستان کی تجاویز پر عمل کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں، کئی دہائیوں سے بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، بھارت کو ایک نہ ایک دن کشمیرمیں ظلم کا راستہ چھوڑنا پڑے گا، عالمی سطح پر کشمیر کے بارے میں پاکستان کی بات سنی اور مانی جا رہی ہے، پاکستان کے پاس ''را'' کی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں جنھیں اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیا گیا ہے، سرحد پار سے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کو ختم ہونا چاہیے، دونوں ملکوں کو متوازن سوچ اختیارکرنی چاہیے کیونکہ الزام تراشی سے امن قائم نہیں ہوتا، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی سے ترقیاتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صرف مسائل ہی نہیں ان کا حل بھی بتایا، خطے میں امن کے لیے خلوص کے ساتھ تجاویز دی ہیں، امن اور مسائل کے حل کا راستہ وہی ہے جو ہم نے تجویز کیا ہے، امن کے لیے پاکستان کی تجاویز پر عمل کرنا ہو گا، اس راستے پر آج آیا جائے یا کل راستہ یہی ہے، جتنی جلد یہ راستہ اختیار کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل صائب کہا کہ بھارت کو آج نہیں تو کل امن کی طرف آنا ہو گا کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اس خطے کے متنازعہ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھارت کے ساتھ امن کے لیے چار نکاتی فارمولا دیتے ہوئے اسے جنگ نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش کی تھی۔ اس چار نکاتی فارمولے میں لائن آف کنٹرول پر مکمل فائر بندی، طاقت کے استعمال کی دھمکیاں نہ دینا، کشمیر سے فوجیں نکالنا ، سیاچن کو خالی کرنا اور اسے غیر فوجی علاقہ قرار دینا شامل تھا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں بڑا جراتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کے عمل کو اقوام متحدہ کی ناکامی قرار دیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 70 سال سے چلے آ رہے متنازعہ مسائل حل کرنے کے لیے جنگیں بھی ہوئیں مگر اس سے بھی بات نہ بنی اور متنازعہ معاملات جوں کے توں چلے آ رہے ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پہلے تو کشمیر کا مسئلہ تھا مگر اب بھارت نے سیاچن کے ایک حصہ پر قبضہ کرنے کے علاوہ سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کر کے کشیدگی کا ماحول پیدا کر رکھا ہے تو دوسری جانب وہ پاکستان کو داخلی سطح پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد اور علیحدگی پسند جماعتوں کی معاونت کر رہا ہے۔


پاکستان نے اس مسئلے پر بارہا بھارت سے احتجاج کیا کہ وہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے باز رہے اور متنازعہ مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے مگر ردعمل میں بھارت نے منفی رویہ اختیار کیا اور سرحدوں پر کشیدگی کے عمل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مداخلت جاری رکھی۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر بھارت کو اس کی مداخلت کے ثبوت بھی پیش کیے جب اس سے بھی بات نہ بنی تو اس امید کے ساتھ امریکا کو بھی اس کے تمام ثبوت فراہم کیے کہ شاید امریکا بھارت پر دباؤ بڑھائے گا جس سے وہ اپنے منفی کردار سے باز آجائے گا مگر امریکا نے بھی مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی جس سے پاکستانی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا کہ اس سے بات نہیں بنے گی، معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا لہٰذا گزشتہ دنوں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بھارتی مداخلت کے تمام ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو متنازعہ مسائل حل کرنے کے لیے امن فارمولا بھی دیا۔

مگر نفرت اور تعصب پر مبنی بھارتی رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی اور بھارت نے امن فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ برقرار رکھا۔ بھارت ممبئی حملوں میں پاکستانی مداخلت کا جو ڈھنڈورا پیٹتا ہے اس کا پول بھی کھل چکا ہے کہ ممبئی حملے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھارتی ایجنسیوں ہی کی سازش تھی۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بالکل درست کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے اور بڑی تعداد میں کشمیری شہید ہو چکے ہیں یہ بھارت کے لیے بہتر نہیں اسے یہ راستہ چھوڑنا ہو گا، مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں امن ممکن نہیں۔ بھارت کو بھی اب اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ سرحدی کشیدگی یا جنگی جنون کو ہوا دینے سے علاقے کے مسائل کبھی حل نہیں ہونگے، اس کا بہترین راستہ مذاکرات ہی ہیں اور جلد یا بدیر اسے اس راستے پر آنا ہو گا جتنی جلدی وہ اس راستے پر آجائیں اتنی جلدی ہی اس خطے میں امن قائم ہونے میں مدد ملے گی۔
Load Next Story