امن اور معاشی ناہمواریاں

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سبق بلکہ المناک سبق سے امریکا کا حکمران طبقہ اپنی جارحانہ پالیسیوں میں تبدیلی لاتا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

اقوام متحدہ کے 70 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر، چینی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بعض ایسی باتیں کی ہیں جن کا دنیا کے ماضی حال اور مستقبل سے گہرا تعلق ہے، اس لیے ان پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ عراق سے یہ سبق ملا کہ طاقت اور دولت کے ذریعے دوسرے ملکوں میں امن نہیں لایا جا سکتا۔ ہم کئی بڑی اقوام کو تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کر سکتی ہیں جب وہ سب کو ساتھ لے کر امن کی راہ تلاش کرتی ہیں۔ امریکی صدر نے یہ دلچسپ بات بھی کی ہے کہ ''ہم متحد ہو کر ہی دنیا سے غربت ختم کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔''

امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے امریکا میں یہ روایت رہی ہے کہ سپر پاور کی حیثیت سے امریکا کو دنیا کے مسائل حل کرنے اور دنیا کے ملکوں میں رخنہ اندازی کا حق حاصل ہے۔ بلکہ ہم اسے امریکا کی سرکاری پالیسی کہہ سکتے ہیں۔ کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت سے دنیا کے امن کو کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ان مداخلت زدہ ملکوں کے علاوہ خود امریکا کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ویت نام کی جنگ ویت نام پر امریکا کی کھلی جارحیت تھی۔ جنگ میں ویت نامیوں کو بہت بڑے جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن خود امریکا کو 59 ہزار فوجیوں کا جانی نقصان اور کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا اور نتیجہ ایک ذلت ناک شکست کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سبق بلکہ المناک سبق سے امریکا کا حکمران طبقہ اپنی جارحانہ پالیسیوں میں تبدیلی لاتا لیکن سپر پاور ہونے کے غرور نے امریکی حکمرانوں کو خود اپنے فائدے نقصان سے لاپرواہ کر دیا، اس غرور نے بش جونیئر کو عراق پر چڑھ دوڑنے کی راہ پر ڈال دیا۔ عراق پر امریکی حملے سے پہلے دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں نے عراق پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا لیکن جنگجو ذہنیت کے حامل بش نے کروڑوں عوام کے احتجاج کو نظرانداز کر کے عراق پر حملہ کر دیا۔ ویت نام کے تلخ تجربے کے بعد بش کو اس قسم کی حماقت کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن یہ حماقت کی گئی اور اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔


بارک اوباما کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکا کی تاریخ میں پہلی بار اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا مثبت رجحان پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کی 70 ویں کانفرنس سے خطاب میں بارک اوباما نے نہ صرف عراق میں دہرائی جانے والی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ یہ اعتراف بھی کیا کہ امریکا اکیلا دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ یہ اعتراف بھی امریکا کی ماضی کی خارجہ پالیسیوں کی تردید تھا۔ بارک اوباما نے کہا کہ ہم سب یعنی دنیا کے ممالک مل کر دنیا سے غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ سیاسی مشیر بھی عموماً سطحی مشورے دیتے ہیں جن کا واحد مقصد حاضرین کی واہ واہ وصول کرنا اور دنیا کے عوام کو جھوٹی تسلیاں دینا ہوتا ہے۔ بارک اوباما نے غربت کے خاتمے کے لیے جس نسخے کا ذکر کیا ہے وہ بادی النظر میں تو واہ واہ کرنے کے قابل ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں کے سب سے اہم مسئلے ''غربت'' کے خاتمے کی امریکی صدر نے بات تو کی ہے لیکن سب مل کر کس طرح غربت کا خاتمہ کریں گے یہ فارمولا نہیں بتایا۔غربت خدا کی دین ہے نہ قسمت کی عطا بلکہ اس نظام کی پیداوار ہے جسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔

کیا اس استحصالی نظام کو ختم کیے بغیر محض دنیا کے ملک متحد ہوکر غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟ اور تو اور ہمارے چینی صدر نے بھی اپنی تقریر میں یہی فرمایا ہے کہ ''معاشی ناہمواریوں سے دنیا کا امن تباہ ہوچکا ہے۔'' معاشی ناہمواریاں خواہ وہ قوموں کی سطح پر ہوں یا عوام کی سطح پر دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں اور ان ناہمواریوں سے دنیا کا اور دنیا کے ملکوں کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ اور قابل افسوس بات ہے کہ چین کا شمار ماضی کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جنھوں نے دنیا میں معاشی ناہمواریاں دور کرنے کے لیے ایک موثر نظام کو اپنایا اور اپنی کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے اس نظام کو کامیاب نہیں ہونے دیا کیونکہ اس نظام کی کامیابی سے اشرافیہ کی لوٹ مار کا خاتمہ ہو جاتا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ اس نظام کو آگے بڑھانے، مستحکم کرنے اور اس میں ممکنہ طور پر موجود خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے چین نے اس منصفانہ نظام سے ہی دست بردار ہوکر سرمایہ دارانہ نظام کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اور اس نظام میں رہتے ہوئے چینی صدر کا یہ اعتراف کرنا کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ ''معاشی ناہمواریوں نے دنیا کا امن تباہ کردیا۔''

دنیا کا امن ریاستوں کی سطح پر معاشی ناہمواریوں اور ان ناہمواریوں کو دور کرنے کی احمقانہ اور منفی کوششوں کی وجہ سے تباہ ہو رہا ہے۔ امریکی اور چینی صدر کیا اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ دنیا کے 7 ارب انسان جن ''معاشی ناہمواریوں '' کا شکار ہیں وہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کی ذمے داری کسی ایک ملک یا قوم پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ان ناہمواریوں کی ذمے داری اس معاشی نظام پر عائد ہوتی ہے جس کا کام ہی قوموں اور عوام کی سطح پر معاشی ناہمواریاں پیدا کرنا ہے۔ اگر امریکی اور چینی صدر اس حقیقت سے واقف ہیں اور یقیناً واقف ہوں گے تو اس کا علاج اقوام متحدہ میں رونا گانا نہیں بلکہ اس نظام کو ختم کرکے ایک ایسا منصفانہ نظام متعارف کرانا ہے جو قومی اور عوامی سطح پر معاشی ناہمواریوں کو دور کر سکے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فرمایا ہے کہ ''ہم دنیا میں امن اور سکون چاہتے ہیں اور دنیا کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔''

بان کی مون اس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہیں جو ساری دنیا کی نمایندہ ہے اور اقوام متحدہ کی بنیادی ذمے داری ہی یہی ہے کہ دنیا کے تمام متنازعہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں کوریا، ویت نام وغیرہ کی جنگیں کیوں ہوئیں؟ بات چیت کے ذریعے ان جنگوں کو شروع ہونے سے پہلے کیوں نہیں روکا گیا؟ فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو اقوام متحدہ بات چیت کے ذریعے حل کرانے میں 68 سال سے کیوں ناکام ہے؟ اقوام متحدہ نے امریکا کو عراق اور افغانستان پر حملوں سے کیوں نہیں روکا؟ کیا ان سوالوں کا جواب امن کے خواہش مند بان کی مون دے سکتے ہیں؟ برادرم بان کی مون اور بارک اوباما سن لیں نہ تقریروں سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے نہ دنیا میں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی غربت ختم ہو سکتی ہے۔
Load Next Story