پی آئی اے نے پالپا کے تینوں مطالبات مسترد کر دیئے

مطالبات پی آئی اے انتظامیہ کی رٹ چیلنج کرنے کے مترادف ہیں، ترجمان

مطالبات پی آئی اے انتظامیہ کی رٹ چیلنج کرنے کے مترادف ہیں، ترجمان۔ فوٹو : فائل

پی آئی اے اور پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن( پالپا) کے درمیان پائلٹس کی ہڑتال کو ختم کرنے کیلیے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

پی آئی اے انتظامیہ نے پالپا کی جانب سے ڈائریکٹر فلائٹ آپریشنز کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے سمیت 3 مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ سول ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان کے مطابق پی آئی اے نے پالپا کے تینوں مطالبات کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پالپا کے دیگر 2 مطالبات میں پائلٹس کو تادیبی کارروائی کے تحت دیے جانے والے شوکاز نوٹس واپس لینے اور ان کیخلاف شروع کی گئی تحقیقات ختم کرنے کے ساتھ سنیارٹی اور پالپا کی منشا کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹس کی تنخواہیں مقرر کیے جانے کا مطالبہ شامل ہے۔

ترجمان کے مطابق پالپا کے صدر کیپٹن عامر ہاشمی کو پیر کی سہ پہر سینئر جوائنٹ سیکریٹری سول ایوی ایشن ڈویژن کیپٹن احمد لطیف نے اپنے دفتر بلا کر بتایا کہ پالپا کی جانب سے اتوار کو پیش کئے جانیوالے مطالبات پی آئی اے انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کرنیکے مترادف ہیں۔ پالپا کی جانب سے کسی قسم کی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئیں اور نارمل فلائٹ آپریشن فوری طور پر شروع ہو جانا چاہیے۔ تاہم پی آئی اے انتظامیہ پالپا کیساتھ مل بیٹھنے اور ان کے جائز مطالبات کے بارے میں ان کی بات سننے کیلیے تیار ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پالپا کو یہ تجویز دی گئی کہ اگلے 24 سے لیکر 48گھنٹے میں تمام معاملات حل کرنے کیلیے 10 رکنی ٹیم بنائی جائے جس میں پی آئی اے کے 4 سینئر پائلٹس، پالپا کے4 نمائندے اور پی آئی اے انتظامیہ سے 2افراد کو مبصرین کے طور پر شامل کیا جائے تاہم بدقسمتی سے پالپا کے صدر نے یہ تجویز مسترد کر دی اور اپنی بات پر مصر رہے کہ ان کے تینوں مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں۔ ان کی ضد اور سخت گیر موقف کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور قومی ایئرلائن کو بھی مالی نقصان پہنچا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ تمام پی آئی اے فلائٹس بالخصوص حج فلائٹس کے آپریشن کو بلارکاوٹ جاری رکھنے کیلیے تمام اقدامات کرے گی۔ ایوی ایشن ڈویژن اور پی آئی اے انتظامیہ ان پائلٹس کا شکریہ ادا کرتیہے جو پالپا کے دباؤ میں نہیں آئے، پائلٹس کی ممکنہ کمی کو پورا کرنے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

ادھر پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ایک بیان میں کہا کہ پی آئی انتظامیہ اور ایوی ایشن ڈویژن تضادات کا شکار ہیں اور انھیں مسافروں کی کوئی فکر نہیں۔ موجودہ صورت حال سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ایوی ایشن ڈویژن، پی آئی انتظامیہ اور وزیر اعظم کے مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کو ایئر لائن کی ترقی اورمسافروں کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں ہے۔


ورکنگ ایگریمنٹ کے حوالے سے پالپا کے مطالبات کو سنے بغیر ہی مسترد کردیا گیا جس کا مطلب ہے کہ پالپا ٹیم کو اسلام آباد بلوانا محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان ایک طرف تو مطالبات مسترد کرنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف کمیٹی بنانے کا کہتے ہیں۔ ہم ایئر لائن میں سیفٹی رولز کا اطلاق اور اس کے مطابق پروازوں کو آپریٹ کرنا چاہتے ہیں تاہم انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہم ایئر لائن کے قواعد کیخلاف کام کر رہے ہیں۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ہم نے ڈی ایف او کو ہٹانے کیلیے دباؤ ڈالا، ہم نے صرف رٹائرڈ ملازمین کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔

انتظامیہ کا یہ تاثر بھی غلط ہے کہ پالپا ہڑتال کر رہی ہے۔ صرف وہ پروازیں متاثر ہوئیں جو شیڈول نہیں کی گئی تھیں اور اس بدنظمی کی وجہ فلائٹ آپریشن ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے۔ فلائٹ کریو ناکافی آرام کی وجہ سے فلائٹ آپریٹ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ ہم وزیر اعظم سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ موجودہ صورت حال کا نوٹس لیں کیونکہ مذاکرات میں شامل افراد کی انا قومی ایئر لائن کے مفادات سے بھی بڑی ہے اور وہ صورت حال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔

پالپا کے وفد نے کیپٹن ہاشمی کی قیادت میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ملاقات کی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم خود پالپا کے انتظامیہ سے اختلافات کے معاملے کو فوری طور پر دیکھیں تاکہ ادارہ مالی نقصان سے اور عوام پریشانی سے بچ سکیں۔ مطالبات کا مناسب جائزہ لیے بغیر انھیں یکسر رد کرنا مناسب نہیں اور حکومت کو دونوں اطراف کی بات سن کر غیر جانبدارانہ اقدامات اٹھانے چاہیئں۔ وفد نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی طرف سے احتجاج تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کیلیے ہے۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی نے پالپا کے تنازع کے حوالے سے قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی۔

علاوہ ازیں پالپا اور انتظامیہ میں تنازع کے باعث پیر کو پانچویں روز بھی 6 پروازیں منسوخ اور متاثر ہوئیں، اب تک 64 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس سے قومی ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ مسافروں بھی شدیدمشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ پائلٹوں کی بین الاقوامی تنظیم ایفالپا (IFALPA) نے مسئلے کے حل کیلیے عالمی ایوی ایشن رولز کی روشنی میں پالپا کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایئر لیگ آف پی آئی اے ایمپلائز (سی بی اے) کے مرکزی صدر شمیم اکمل نے ایک بیان میں کہاکہ پالپا کے غیر قانونی مطالبات کسی طور پر تسلیم نہ کیے جائیں۔اسٹاف رپورٹر کے مطابق تنازعے کی وجہ سے اب تک درجنوں پروازوں کا شیڈول بری طرح سے متاثر ہورہا ہے جبکہ منسوخ ہونے والی پروازوں میں سے کراچی کی 28پروازیں بھی شامل ہیں،پیر کوکراچی سے کوئٹہ اسلام آباد پی کے352، اسلام آباد ملتان کراچی پی کے 381، پی کے607اسلام آباد گلگت اور ڈی جی خان سے اسلام آباد پی کے687منسوخ کردی گئیں۔

ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن انتظامیہ کی نااہلی کے باعث نوٹس کے باوجود متعدد پروازیں سیفٹی رسک ہونے کی وجہ سے منسوخ کردی گئیں۔ دوسری جانب پائلٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کئی پروازیں انتظامیہ کی ناہلی اورتیکنیکی خرابی کے باعث منسوخ ہورہی ہیں، ترجمان پائلٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ مختلف ہتکھنڈوں سے حج آپریشن کو خود ہی ناکام بنانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب چیرمین پی آئی اے ناصر جعفر کا کہنا تھا کہ پالپا ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن تبدیل کرنا چاہتی ہے اور چند لوگ قوم اور ادارے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جب کہ ہڑتالی عناصر سے بات کرنے کی پوری کوشش کی اور ہم نے ان سے مذارکرات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہوں نے شرائط رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے کسی کو نوٹس جاری نہیں کیے، 2 پائلٹس کو نوٹس پی آئی اے نے نہیں سی اے اے نے دیے جب کہ کچھ عناصر قومی خزانے کو نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج پروازیں بروقت آرہی ہیں اور جسطرح کی صورتحال ہے، ہمیں امید ہےشاید نیوی کےجہازوں کی ضرورت نہ پڑے کیوں کہ فرسٹ آفیسر ملاکر 431 پائلٹس ہمارے پاس موجود ہیں۔
Load Next Story