مصحف میر کی شہادت ناکارہ طیارے کے باعث ہوئی پی اے سی ذیلی کمیٹی میں انکشاف

اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر کیلیے خریدا گیا ایئر کرافٹ ناقص تھا

کراچی پورٹ ٹرسٹ کی سیکڑوں ایکڑ اراضی لینڈ مافیا سے واگزار کرائی جائے، قائمہ کمیٹی کی ہدایت، پی اے سی کا 3 روزہ اجلاس آج شروع ہوگا فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق ایئر چیف مارشل مصحف علی میر اور 10افسران کی شہادت ناکارہ طیارے کے باعث ہوئی کیونکہ ان کیلیے8 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے خریدا گیا ایئرکرافٹ ناکارہ اور سرپلس تھا جو اپنی اڑان پوری کر چکا تھا جبکہ ایئر فورس حکام نے کہا کہ حادثہ پائلٹ کی غلطی اور موسم کی خرابی کے باعث پیش آیا۔

پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی رانا افضال کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت دفاع کے مالی سال 1990تا 1997کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر کیلیے خریدا گیا ایئر کرافٹ ناقص تھا، 1994میں یہ ایئر فورس کے حوالے کیا گیا، ناکارہ طیارہ خریدنے کے باعث 8 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، یہ طیارہ پہلے ہی اپنے گھنٹے پورے کر چکا تھا، یہ طیارہ پہلے نیوی اور پھر پی آئی اے کو آفر کیا گیا مگر انھوں نے یہ طیارہ نہ لیا جس پر کنوینر کمیٹی رانا افضال نے کہا کہ ہم نے ناکارہ طیارہ خرید کر ایئر چیف مارشل گنوا دیا، ایسا طیارہ کیوں خریدا گیا جس پر ایئر فورس کے ایئر کموڈور شہزاد نے بتایا کہ 90کی دہائی میں تین چار ایسی ڈیلز کی گئیں جس کے تحت ہم اسکریپ جہاز اٹھاتے تھے اور پھر اس کو اڑانے کے قابل بناتے تھے۔


یہ تجربہ بھی اسی بنیاد پر کیا گیا، 1990سے2000 تک ایسی ڈیلز کیں جس کے تحت ہم نے ایسے جہاز جو نہ اڑ سکتے تھے وہ اٹھائے اور پھر ریکور کیے، یہ ڈیل آرمی کی تھی اور پھر پی اے ایف کو دیا گیا، یہ طیارہ 10سال اڑا،کنوینر کمیٹی نے پوچھا کہ جہازوں کی خریداری کا فیصلہ کون کرتا ہے جس پر ایئرفورس کے حکام نے بتایا کہ یہ طیارہ میری ٹائم سیکیورٹی سے لیا گیا تھا اور خریداری کا تعین ایئر فورس خود کرتی ہے جس پر آڈیٹر جنرل نے کہا کہ طیارہ سرپلس تھا پھر اس کو کیوں خریداگیا جس وجہ سے یہ آڈٹ اعتراض بنا ہے۔

وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ذیلی کمیٹی میں بھی آیا اور پھر جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کو معاملہ ریفر کردیا، علاوہ ازیں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پورٹ اینڈ شپنگ نے 3 ماہ کے اندرکراچی پورٹ ٹرسٹ کی سیکڑوں ایکڑ اراضی قبضہ گروپس اور لینڈ مافیا سے واگزار کرا کر رپورٹ دینے کی ہدایت کر دی، اجلاس چیئرمین سید غلام مرتضیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا، کمیٹی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ایڈمرل(ر) شفقت جاوید نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ حکومت سندھ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں۔

اس وقت کراچی میں 780ایکڑ ایریا پر قبضہ مافیا، لینڈ مافیا اور حکومت سندھ نے قبضہ کر رکھا ہے، یونس آباد میں 85 ایکڑ، مچھر کالونی 339 ایکڑ، سکندر آباد میں 244 ایکڑ زمین پر قنضہ ہے، این ایل سی، ڈکس کالونی، حجرات کالونی، انٹیلی جنس اسکول سمیت دیگر علاقوں میں بھی ان کی زمینوں پر قبضہ ہے ،کئی زمینیں حکومت سندھ نے الاٹ کی ہیں اور بعض پر کچی آبادیاں اور قبضہ گروپ قابض ہیں، ابھی تک قبضہ گروپس سے صرف 69 ایکڑ زمین واگزارکرائی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا 3 روزہ اجلاس آج (منگل کو) شروع ہوگا، صدارت کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ کریں گے، پی اے سی ریونیو ڈویژن کے 2010-11 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لے گی ۔
Load Next Story