افغانستان کے بگڑتے حالات

افغانستان کے علاقے قندوزمیں 3 اکتوبر کوایک اسپتال پر امریکی طیاروں کی بمباری سے 22شہری مارے گئے تھے

اگر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک زمینی حقائق کے مطابق پالیسی اختیار کریں تو افغانستان میں حالات بہتری کا رخ اختیار کر سکتے ہیں ورنہ معاملات خراب ہی رہیں گے۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
افغانستان کے علاقے قندوزمیں 3 اکتوبر کوایک اسپتال پر امریکی طیاروں کی بمباری سے 22شہری مارے گئے تھے، اس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل ہوا۔افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اسپتال میں طالبان موجود تھے اس حوالے سے افغانستان میں تعینات امریکی جنرل کیمبل نے اخباری نمایندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ افغان فورسز کی طرف سے درخواست آئی تھی کہ وہ طالبان کے حملے کی زد میں ہیں اس لیے افغان فورسز کی مدد کی جائے جس پر امریکی فوج نے طالبان پر بمباری کی تاہم عام شہری غلطی سے نشانہ بن گئے۔ آپریشن میں 23 طالبان بھی مارے گئے۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ادھر بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز( ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ قندوز میں تنظیم کے اسپتال پر فضائی کارروائی پر افغان حکومت کا بیان نفرت انگیز ہے اور جنگی جرائم کے اقبال کے مترادف ہے۔

ایم ایس ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان حکومت کا بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ امریکی اور افغان فورسز نے اسپتال پر بمباری کرنے کا فیصلہ ان اطلاعات پر کیا تھا کہ طالبان جنگجو اسپتال میں موجود ہیں۔ ایم ایس ایف کا کہنا تھاے کہ اس بیان سے اشارے ملتے ہیں کہ افغان اور امریکی فورسز نے اکٹھے یہ فیصلہ کیا کہ فعال اسپتال کو تباہ کر دیا جائے جس میں 180اسٹاف اور مریض موجود تھے کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ اسپتال میں طالبان موجود تھے۔ ادھر امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے اسپتال پر بمباری کو انسانی جانوں کا المناک ضیاع قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

قندوز میں جو کچھ ہوا 'اس میں بہت سے اسرار چھپے ہوئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ طالبان نے کیسے قندوز پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ افغانستان میں طالبان اب بھی ایک بڑی قوت ہیں جب کہ حکومت کمزور پوزیشن پرہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ قندوز افغانستان کے شمالی علاقے میں واقع ہے۔ یہ علاقہ شمالی اتحاد کے زیراثر ہے جب کہ شمالی اتحاد کے نمایندہ عبداللہ عبداللہ اس وقت افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ایسی صورت میں قندوز پر طالبان کا قبضہ ہونا اور وہاں بھرپور لڑائی ہونا، اس امر کی دلالت ہے کہ افغان حکومت کا ملک پر کنٹرول نہیں ہے۔


اس سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کی لابی بھی کمزور ہے اور شمالی اتحاد میں بھی طالبان کے اندر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ افغانستان کی سیکیورٹی فورسز اس قابل نہیں کہ وہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں، حالت یہ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو امریکی فوج کی مدد طلب کرنا پڑی۔ امریکی طیاروں نے افغانستان کی انٹیلی جنس کی اطلاعات پر اسپتال پر بمباری کر دی جس میں بے گناہ افراد کی اموات ہوئی ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو افغانستان میں اطلاعات کا نظام بھی انتہائی ناقص ہے۔ افغان اہلکار یا تو جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں یا انھیں حقائق کا علم نہیں تھا اور انھوں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے اسپتال کی نشاندہی کر دی۔ بہر حال یہ ایک المناک واقعہ ہے ، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ویسے بھی افغانستان میں ایسا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، ماضی میں کئی بار امریکی جہازوں نے عام شہریوں پر گولہ باری کی ہے جس سے بے گناہ افراد کی جانیں ضایع ہوئی ہیں، اس وجہ سے افغانستان میں امریکا کے خلاف نفرت کے جذبات بھی پیدا ہوئے، یہی نہیں کہ پاکستان کی حدود کے اندر بھی امریکی طیاروں نے کارروائی کی ہے اور اس وجہ سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بھی کشیدہ رہے ہیں۔

افغانستان کے سیکیورٹی اہلکار بھی پاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ افغانستان کی حکومت اور اس کی سیکیورٹی ایجنسیاں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ملک میں امن قائم کر سکیں۔ ان کی پروفیشنل صلاحیتیں بہت پسماندہ ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ امریکی پالسی ساز کس طرح یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ حکومت اور اس کے زیر کنٹرول ادارے اس ملک میں امن قائم کر سکیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

انھیں پاکستان کے تحفظات کو وزن دینا چاہیے اور افغانستان میں برسرپیکار طالبان سے قابل قبول انداز میں بات چیت کرنی چاہیے۔ افغانستان کا موجودہ سیٹ اپ افغان باشندوں کا نمایندہ نہیں ہے، انھیں اتنا ہی وزن دیا جانا چاہیے جتنی ان کی حیثیت ہے۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک زمینی حقائق کے مطابق پالیسی اختیار کریں تو افغانستان میں حالات بہتری کا رخ اختیار کر سکتے ہیں ورنہ معاملات خراب ہی رہیں گے۔
Load Next Story