پی آئی اے اور پالپا تنازع جلد حل ہونا چاہیے
پی آئی اے اورپاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن( پالپا) کےدرمیان پائلٹس کی ہڑتال کوختم کرنےکے لیےمذاکرات ناکام ہوگئے
ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور پالیا اس تنازع کو جلد از جلد ختم کریں تاکہ حالات نارمل ہو سکیں۔ فوٹو:فائل
پی آئی اے اور پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن( پالپا) کے درمیان پائلٹس کی ہڑتال کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پی آئی اے انتظامیہ نے پالپا کی جانب سے ڈائریکٹر فلائٹ آپریشنز کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے سمیت تین مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ سول ایوی ایشن ڈویژن کے ترجمان کے مطابق پی آئی اے نے پالپا کے تینوں مطالبات کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پالپا کے دیگر دو مطالبات میں پائلٹس کو تادیبی کارروائی کے تحت دیے جانے والے شوکاز نوٹس واپس لینے اور ان کے خلاف شروع کی گئی تحقیقات ختم کرنے کے ساتھ سنیارٹی اور پالپا کی منشاء کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹس کی تنخواہیں مقرر کیے جانے کا مطالبہ شامل ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو اس قضیے کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس صورت حال میں نقصان قومی ادارے کا ہو رہا ہے یا عوام کا۔ پائلٹس حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ معاملات کو قابل قبول شکل میں لائیں تاکہ اس مسئلے کا حل سامنے آ سکے۔ پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ تمام پی آئی اے فلائٹس بالخصوص حج فلائٹس کے آپریشن کو بلارکاوٹ جاری رکھنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی۔
ادھر پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ایک بیان میں کہا کہ پی آئی انتظامیہ اور ایوی ایشن ڈویژن تضادات کا شکار ہیں اور انھیں مسافروں کی کوئی فکر نہیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق پالپا اور انتظامیہ میں تنازع کے باعث پیر کو پانچویں روز بھی 6پروازیں منسوخ اور متاثر ہوئیں، اب تک 64 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس سے قومی ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ مسافروں بھی شدیدمشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور پالیا اس تنازع کو جلد از جلد ختم کریں تاکہ حالات نارمل ہو سکیں۔
پالپا کے دیگر دو مطالبات میں پائلٹس کو تادیبی کارروائی کے تحت دیے جانے والے شوکاز نوٹس واپس لینے اور ان کے خلاف شروع کی گئی تحقیقات ختم کرنے کے ساتھ سنیارٹی اور پالپا کی منشاء کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹس کی تنخواہیں مقرر کیے جانے کا مطالبہ شامل ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو اس قضیے کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس صورت حال میں نقصان قومی ادارے کا ہو رہا ہے یا عوام کا۔ پائلٹس حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ معاملات کو قابل قبول شکل میں لائیں تاکہ اس مسئلے کا حل سامنے آ سکے۔ پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ تمام پی آئی اے فلائٹس بالخصوص حج فلائٹس کے آپریشن کو بلارکاوٹ جاری رکھنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی۔
ادھر پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ایک بیان میں کہا کہ پی آئی انتظامیہ اور ایوی ایشن ڈویژن تضادات کا شکار ہیں اور انھیں مسافروں کی کوئی فکر نہیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق پالپا اور انتظامیہ میں تنازع کے باعث پیر کو پانچویں روز بھی 6پروازیں منسوخ اور متاثر ہوئیں، اب تک 64 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جس سے قومی ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ مسافروں بھی شدیدمشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور پالیا اس تنازع کو جلد از جلد ختم کریں تاکہ حالات نارمل ہو سکیں۔