زرعی سائنسدان تحقیقی عمل تیزکریں چیئرمین پی اے آرسی
زرعی تحقیق مسلسل ایک عمل ہے
ڈاکٹر افتخار احمد نے کہاہے کہ زرعی سائنسدان اور سرکاری ملازمین اپنی محنت اور لگن سے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. فوٹو: ایکسپریس/فائل
چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقی کونسل (پی اے آر سی) ڈاکٹر افتخار احمد نے کہاہے کہ زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کیلیے صوبوں اور دیگر اداروں سے مل کر کام کرنا ہوگا۔
زرعی تحقیق مسلسل ایک عمل ہے، اس کے نتائج کاشتکاروں تک پہنچانے سے ملکی معیشت میں مثبت اثرات پڑتے ہیں، زرعی سائنسدان اور سرکاری ملازمین اپنی محنت اور لگن سے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ملک ہمیں بہت کچھ دے رہا ہے، وقت آ گیا ہے کہ زرعی ماہرین اور دیگر ملازمین کو تھوڑی سہولتوں کی قربانی دے کر تحقیقی عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے ریٹائرڈ سائنسدانوں اور دیگر ملازمین کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب میں کیا ۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ زرعی ماہرین اور سائنسدانوں کی محنت اورلگن سے فصلوں کی نئی نئی اقسام کو متعارف کرانا زرعی تحقیقی کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں کامیابی کی عکاسی ہے جس سے ملک میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ہونے والے زرعی سائنسدانوں اور دیگر عملے نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی اور امید ہے کہ آنے والے وقت میں ہمارے زرعی سائنسدان اور دیگر سرکاری ملازمین بھرپور لگن اور نئے مطالعے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو عام کاشتکار تک پہنچائیں گے اور نئی اقسام اور کم وقت میں تیار ہونے والی اقسام بالخصوص پانی کے کم سے کم استعمال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جائیگی اور ایسی اقسام متعارف کرائی جائیں گی جو قوت مدافعت بھی رکھتی ہوں گی۔ اس موقع پرڈائریکٹر جنرل قومی زرعی تحقیقی سینٹر ڈاکٹر شریف کلہو نے کہا کہ میری ذمے داری ہے کہ میں سائنسدانوں اور ملازمین کو سہولتیں مہیا کروں تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں جو قومی ترقی میں ایک مثال ثابت ہوں۔
زرعی تحقیق مسلسل ایک عمل ہے، اس کے نتائج کاشتکاروں تک پہنچانے سے ملکی معیشت میں مثبت اثرات پڑتے ہیں، زرعی سائنسدان اور سرکاری ملازمین اپنی محنت اور لگن سے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ملک ہمیں بہت کچھ دے رہا ہے، وقت آ گیا ہے کہ زرعی ماہرین اور دیگر ملازمین کو تھوڑی سہولتوں کی قربانی دے کر تحقیقی عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے ریٹائرڈ سائنسدانوں اور دیگر ملازمین کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب میں کیا ۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ زرعی ماہرین اور سائنسدانوں کی محنت اورلگن سے فصلوں کی نئی نئی اقسام کو متعارف کرانا زرعی تحقیقی کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں کامیابی کی عکاسی ہے جس سے ملک میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ہونے والے زرعی سائنسدانوں اور دیگر عملے نے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی اور امید ہے کہ آنے والے وقت میں ہمارے زرعی سائنسدان اور دیگر سرکاری ملازمین بھرپور لگن اور نئے مطالعے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو عام کاشتکار تک پہنچائیں گے اور نئی اقسام اور کم وقت میں تیار ہونے والی اقسام بالخصوص پانی کے کم سے کم استعمال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جائیگی اور ایسی اقسام متعارف کرائی جائیں گی جو قوت مدافعت بھی رکھتی ہوں گی۔ اس موقع پرڈائریکٹر جنرل قومی زرعی تحقیقی سینٹر ڈاکٹر شریف کلہو نے کہا کہ میری ذمے داری ہے کہ میں سائنسدانوں اور ملازمین کو سہولتیں مہیا کروں تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں جو قومی ترقی میں ایک مثال ثابت ہوں۔