این اے 122 کا نتیجہ آنے کے بعد کیا ہوگا
ایک الیکشن کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔
جمہوریت کا راگ لاپنے سے جمہوریت نہیں آتی بلکہ اداروں کی مضبوطی، قانون پر عملدرآمد اور مساوات ہی جمہوریت کی اصل روح ہیں۔ فوٹو : فائل
تختِ لاہور کس پارٹی کا ہے اس کا فیصلہ تو 11 اکتوبر کو عوام ہی کرینگے، لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ نتیجہ آنے کے بعد کیا ہوگا؟ اگرچہ انتخابی مہم کا وقت تو ختم ہوگیا مگر اس وقت بھی دونوں جماعتیں یعنی سرکاری پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف جیت کے لیے سر توڑ محنت کرنے میں مصروف ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کے ضابطہِ اخلاق کی کھل کر خلاف ورزی کی گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں تو غلط نہیں ہوگا۔ وزراء کا انتخابی مہم چلانا ہو یا پھر پیسوں کے ذریعے ووٹ خردینے کی کوششیں، سب عوامی نمائندوں کی جانب سے قانون کی عزت و احترام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
بہرحال ابھی ہمارا موضوع کچھ اور ہے۔ پی ٹی آئی جو اب تک قانونی جنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ البتہ عوام کی عدالت میں اسے ہمیشہ ہار ہی کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور اِس کی تازہ مثال لاہور کنٹونمنٹ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے خلاف ن لیگ کی کامیابی ہے۔ لیکن اِس شکست کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے جنونی بہت پُراعتماد نظر آتے ہیں کہ وہ این اے 122 میں ایاز صادق کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا بلکہ وہ تو اِس بات کے بھی منتظر ہیں کہ خواجہ سعد رفیق صاحب کب سپریم کورٹ سے نکل کر دوبارہ عوام کے کٹہرے میں آتے ہیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
پی ٹی آئی یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی ہے کہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے ذریعے اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر عبدالعلیم خان سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو شکست دے دیتے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف اپنے دونوں موقف ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کہ ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی۔ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو الیکشن کے نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ دوسری جانب یہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہوگا، ایک طرف لاہور کی ایک اہم سیٹ پی ٹی آئی کی جیب میں چلی جائے گی اور دھرنوں کے بعد سے کپتان کی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال ہوجائے گی۔ اس جیت کے اثرات پورے شہر میں پھیل سکتے ہیں خاص کر این اے 125 میں جہاں کبھی نہ کبھی دوبارہ الیکشن تو ہونے ہی ہیں۔
تحریک انصاف اپنا مقدمہ جیتنے کے بعد ن لیگ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ن لیگ دوبارہ سے کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اپنا موقف درست ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کہ لاہور کی عوام اب بھی ان کے ساتھ ہے، لیکن پھر بھی قانونی اور اخلاقی طور پر حکومتی پارٹی کو شکست ہی کا سامنا رہے گا، کیونکہ عوام کا انتخابات کے طریقہ کار پر اعتماد اب بھی بحال نہیں ہوا ہے جبکہ الیکشن کے نظام کو شفاف بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن ٹریبیونل کے فیصلوں کی روشنی میں الیکشن کے انعقاد میں مجرمانہ غفلت برتنے والے افسران کا محاسبہ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کا کام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنا ہے۔ ان نمائندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی بہبود کے لیے قانون سازی کریں۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ حکومتی وزراء نہ جانے کس منہ سے اپنے مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں جبکہ، کرپٹ عناصر کو پکڑنا حکومت ہی کا کام ہے، اگر وہ یہ نہیں کرتی تو وہ بدیانتی کی مرتکب ہوتی ہے۔ کیا یہ حکومت منافق اور بدیانت ہے؟ اس بات کا اندازہ الیکشن کیمپین میں وزراء کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کا راگ لاپنے سے جمہوریت نہیں آتی بلکہ اداروں کی مضبوطی، قانون پر عملدرآمد اور مساوات ہی جمہوریت کی اصل روح ہیں۔ انہیں پسِ پشت ڈال کر جمہوریت کا کھیل کھیلنے والوں کو اکثر کسی اور طریقے سے ہی گھر جانا پڑ جاتا ہے۔ آپ تو کہتے بھی یہ ہیں کہ آپ نے اس جمہوریت کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں اب اسے حقیقی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کچھ کام بھی کر لیجئے۔
حکومت اگر جیت جاتی ہے تو انہیں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، نہ کہ تکبر اور غرور میں آکر مخالفین کو مزید نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔ دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی جیتے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے، جس سے عوام کو سستا اور فوری انصاف ملے، غریب کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، کوئی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے بنا سسک سسک کے نہ مر جائے۔ اس ملک کا کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہے۔ ایک الیکشن کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت کی طرف توجہ مبذول کی جائے، نہیں تو انجام کیا ہوگا یہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں ایک بے ضرر سوال کہ اِس الیکشن میں بھی فتحیاب کوئی بھی ہو لیکن عوام کی جیت کب ہوگی؟
[poll id="708"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس
بہرحال ابھی ہمارا موضوع کچھ اور ہے۔ پی ٹی آئی جو اب تک قانونی جنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ البتہ عوام کی عدالت میں اسے ہمیشہ ہار ہی کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور اِس کی تازہ مثال لاہور کنٹونمنٹ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے خلاف ن لیگ کی کامیابی ہے۔ لیکن اِس شکست کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے جنونی بہت پُراعتماد نظر آتے ہیں کہ وہ این اے 122 میں ایاز صادق کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا بلکہ وہ تو اِس بات کے بھی منتظر ہیں کہ خواجہ سعد رفیق صاحب کب سپریم کورٹ سے نکل کر دوبارہ عوام کے کٹہرے میں آتے ہیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
پی ٹی آئی یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی ہے کہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے ذریعے اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اگر عبدالعلیم خان سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو شکست دے دیتے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف اپنے دونوں موقف ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کہ ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی۔ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو الیکشن کے نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ دوسری جانب یہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہوگا، ایک طرف لاہور کی ایک اہم سیٹ پی ٹی آئی کی جیب میں چلی جائے گی اور دھرنوں کے بعد سے کپتان کی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال ہوجائے گی۔ اس جیت کے اثرات پورے شہر میں پھیل سکتے ہیں خاص کر این اے 125 میں جہاں کبھی نہ کبھی دوبارہ الیکشن تو ہونے ہی ہیں۔
تحریک انصاف اپنا مقدمہ جیتنے کے بعد ن لیگ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ن لیگ دوبارہ سے کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اپنا موقف درست ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کہ لاہور کی عوام اب بھی ان کے ساتھ ہے، لیکن پھر بھی قانونی اور اخلاقی طور پر حکومتی پارٹی کو شکست ہی کا سامنا رہے گا، کیونکہ عوام کا انتخابات کے طریقہ کار پر اعتماد اب بھی بحال نہیں ہوا ہے جبکہ الیکشن کے نظام کو شفاف بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن ٹریبیونل کے فیصلوں کی روشنی میں الیکشن کے انعقاد میں مجرمانہ غفلت برتنے والے افسران کا محاسبہ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کا کام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنا ہے۔ ان نمائندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی بہبود کے لیے قانون سازی کریں۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ حکومتی وزراء نہ جانے کس منہ سے اپنے مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں جبکہ، کرپٹ عناصر کو پکڑنا حکومت ہی کا کام ہے، اگر وہ یہ نہیں کرتی تو وہ بدیانتی کی مرتکب ہوتی ہے۔ کیا یہ حکومت منافق اور بدیانت ہے؟ اس بات کا اندازہ الیکشن کیمپین میں وزراء کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کا راگ لاپنے سے جمہوریت نہیں آتی بلکہ اداروں کی مضبوطی، قانون پر عملدرآمد اور مساوات ہی جمہوریت کی اصل روح ہیں۔ انہیں پسِ پشت ڈال کر جمہوریت کا کھیل کھیلنے والوں کو اکثر کسی اور طریقے سے ہی گھر جانا پڑ جاتا ہے۔ آپ تو کہتے بھی یہ ہیں کہ آپ نے اس جمہوریت کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں اب اسے حقیقی طور پر مضبوط بنانے کے لیے کچھ کام بھی کر لیجئے۔
حکومت اگر جیت جاتی ہے تو انہیں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، نہ کہ تکبر اور غرور میں آکر مخالفین کو مزید نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے۔ دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی جیتے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے، جس سے عوام کو سستا اور فوری انصاف ملے، غریب کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، کوئی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے بنا سسک سسک کے نہ مر جائے۔ اس ملک کا کوئی نوجوان بے روزگار نہ رہے۔ ایک الیکشن کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت کی طرف توجہ مبذول کی جائے، نہیں تو انجام کیا ہوگا یہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں ایک بے ضرر سوال کہ اِس الیکشن میں بھی فتحیاب کوئی بھی ہو لیکن عوام کی جیت کب ہوگی؟
[poll id="708"]
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس