افغانستان کی افسوس ناک الزام تراشیاں
پاک فوج کے ترجمان نے ان افغان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیا
پاک فوج کے ترجمان نے ان افغان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیا، فوٹو:فائل
KARACHI:
افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج 'اچھے اور برے' طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی، بڈھ بیر ائیر بیس کیمپ پر حملہ اس کا ثبوت ہے، پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔
جنرل جان کیمبل نے اس حقیقت کا اظہار امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دیے گئے تحریری بیان میںکیا کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے اور فوجی آپریشنز کے باعث غیرملکی دہشتگرد مشرقی اور شمالی افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ لیکن جو اہم اور بنیادی حقیقت امریکیوں کو بتانا ضروری ہے وہ پاکستان پر افغان ارباب اختیار کے بے بنیاد، مخاصمانہ اور دلآزاری پر مبنی بیانات کے انسداد کا بھی ہے، جان کیمبل کو اس جھوٹ کا بھی کھوج لگانا چاہیے کہ کس بیدردی سے قندوز کے شہری اسپتال پر بمباری کی گئی محض اس سازش اور دروغ گوئی کی وجہ سے کہ اس میں طالبان چھپے ہوئے ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ غلط اطلاع ان بد باطن عناصر کی ہو جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان شعلوں کو ہوا دینے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔
اسی پس منظر میں پاک فوج کے ترجمان نے ان افغان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیاہے کہ قندوز پر طالبان کے حملہ میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار بھی ملوث تھے، ایک بیان میں ترجمان آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان اس حملہ کی مذمت کر چکا ہے جب کہ وہ افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کرتا چلا آیا ہے ۔ امریکی جنرل کے تجزیہ کے مطابق پاکستان نے افغان امن معاہدے کے لیے تعاون کیا اور افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور 2016ء کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں مگر انتہاپسندی کا مشترکہ خطرہ دونوں ملکوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا افغانستان کو طالبان سے مصالحت سے قبل پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔ انھوں نے کہا بڑے گروپوں یا بڑی تعداد میں طالبان نے داعش میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔ قندوز میں اسپتال پر فضائی حملے کے حوالے سے جان کیمبل نے کہا یہ حملہ غلطی تھی، اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ تاہم انکوائری جلد مکمل ہو اور اس سانحہ کے متاثرین کی مالی امداد اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ندامت بھی شامل ہونا چاہیے۔
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق تاریخی ، جغرافیائی اور مذہبی حوالہ سے افغان حکام کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ دونوں ملک قدیم زمانہ سے تہہ در تہہ قریبی پڑوسی ہونے کے ناتے خیر سگالی کی ایک مثالی ڈور میں بندھے ہونے چاہییں ، مگر اسی رپورٹ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ انداز نظر پیش کیا گیا کہ افغانستان کی طرف سے مشترکہ مفادات، دو طرفہ خیرسگالی، تزویراتی ہم آہنگی اور تاریخی تجربات سے ان رشتوں سے فیضیاب ہونے کا ہر موقع ضایع کیا گیا اور الزام تراشی اور مخاصمت افغان سیاست کا سلوگن عنصر رہا جس نے اس وقت بھی وزیراعظم لیاقت علی خان کی طرف سے دوستی کا ہاتھ جھٹک دیا تھا جب انھوں نے نوزائیدہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بات چیت کی کھلی پیشکش کی تھی ۔
امریکی مبصر رابرٹ کپلان نے داستان سرائی کی ہے کہ افغانستان میں آتش بازی پاکستان اور بھارت کے درمیان 'انعام ' کا درجہ رکھتی ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم نتیجہ افغانستان کی بربادی میں ہی نکلے گا۔ مگر اسی رپورٹ میں اس نے عیارانہ بھارتی عزائم، افغانستان میں دخل در معقولات کرنے اور پاکستان کو تنہائی کا شکار بنانے کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا۔ حقیقت میں جنرل جان کیمبل کا پاکستان میں موجود انتہاپسند اور کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن سے متعلق اعتراف نامہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے حقیقت شناسی کی ایک خوش آئند پیش رفت ہے ورنہ دہشت گردی کے انسداد اور سرحد پار تخریب کاری و دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان نے جتنی کوششیں کیں اور جتنے صدمے اٹھائے اس پر امریکی تان اسی بات پر ٹوٹتی رہی کہ ''ڈو مور'' جب کہ اہل پاکستان کے لیے یہ حکم ''اک ستم اور '' کے مترادف تھا۔
اب جاکر جان کیمبل کا اعتراف سامنے آیا جو زمینی حقائق کا عینی گواہ ہے۔ ایک امریکی اخبار نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور وسیع و عریض جائیداد کے مالک ہیں اور ان کے منشیات کے اسمگلروں سے تعلقات ہیں۔ یہی عناصر داعش کو چارہ ڈالنے والے ہیں۔ مشتری ہشیار باش۔ ادھر عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گردی کے واقعات نہ ہوتے تو پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح سالانہ 5 فی صد سے بھی بڑھ جاتی، دہشت گردی کے معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں،2013ء کے دہشت گردی کے مجموعی واقعات میں سے 60 فی صد صرف4ممالک میں ہوئے جن میں پاکستان اور عراق سر فہرست ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان حکمراں الزام تراشی عاقبت نااندیشی اور بدگمانی کی جس دلدل میں پھنسے ہیں وہ اس سے نکلنے اور سیاسی عملیت پسندی کے افق کی طرف کب سفر کا آغاز کریں گے وقت کو اسی کا انتظار ہے ۔
افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج 'اچھے اور برے' طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی، بڈھ بیر ائیر بیس کیمپ پر حملہ اس کا ثبوت ہے، پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔
جنرل جان کیمبل نے اس حقیقت کا اظہار امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دیے گئے تحریری بیان میںکیا کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے اور فوجی آپریشنز کے باعث غیرملکی دہشتگرد مشرقی اور شمالی افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ لیکن جو اہم اور بنیادی حقیقت امریکیوں کو بتانا ضروری ہے وہ پاکستان پر افغان ارباب اختیار کے بے بنیاد، مخاصمانہ اور دلآزاری پر مبنی بیانات کے انسداد کا بھی ہے، جان کیمبل کو اس جھوٹ کا بھی کھوج لگانا چاہیے کہ کس بیدردی سے قندوز کے شہری اسپتال پر بمباری کی گئی محض اس سازش اور دروغ گوئی کی وجہ سے کہ اس میں طالبان چھپے ہوئے ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ غلط اطلاع ان بد باطن عناصر کی ہو جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان شعلوں کو ہوا دینے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔
اسی پس منظر میں پاک فوج کے ترجمان نے ان افغان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیاہے کہ قندوز پر طالبان کے حملہ میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار بھی ملوث تھے، ایک بیان میں ترجمان آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان اس حملہ کی مذمت کر چکا ہے جب کہ وہ افغانستان میں امن و مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کرتا چلا آیا ہے ۔ امریکی جنرل کے تجزیہ کے مطابق پاکستان نے افغان امن معاہدے کے لیے تعاون کیا اور افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور 2016ء کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں مگر انتہاپسندی کا مشترکہ خطرہ دونوں ملکوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا افغانستان کو طالبان سے مصالحت سے قبل پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔ انھوں نے کہا بڑے گروپوں یا بڑی تعداد میں طالبان نے داعش میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔ قندوز میں اسپتال پر فضائی حملے کے حوالے سے جان کیمبل نے کہا یہ حملہ غلطی تھی، اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ تاہم انکوائری جلد مکمل ہو اور اس سانحہ کے متاثرین کی مالی امداد اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار ندامت بھی شامل ہونا چاہیے۔
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق تاریخی ، جغرافیائی اور مذہبی حوالہ سے افغان حکام کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ دونوں ملک قدیم زمانہ سے تہہ در تہہ قریبی پڑوسی ہونے کے ناتے خیر سگالی کی ایک مثالی ڈور میں بندھے ہونے چاہییں ، مگر اسی رپورٹ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ انداز نظر پیش کیا گیا کہ افغانستان کی طرف سے مشترکہ مفادات، دو طرفہ خیرسگالی، تزویراتی ہم آہنگی اور تاریخی تجربات سے ان رشتوں سے فیضیاب ہونے کا ہر موقع ضایع کیا گیا اور الزام تراشی اور مخاصمت افغان سیاست کا سلوگن عنصر رہا جس نے اس وقت بھی وزیراعظم لیاقت علی خان کی طرف سے دوستی کا ہاتھ جھٹک دیا تھا جب انھوں نے نوزائیدہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بات چیت کی کھلی پیشکش کی تھی ۔
امریکی مبصر رابرٹ کپلان نے داستان سرائی کی ہے کہ افغانستان میں آتش بازی پاکستان اور بھارت کے درمیان 'انعام ' کا درجہ رکھتی ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے تاہم نتیجہ افغانستان کی بربادی میں ہی نکلے گا۔ مگر اسی رپورٹ میں اس نے عیارانہ بھارتی عزائم، افغانستان میں دخل در معقولات کرنے اور پاکستان کو تنہائی کا شکار بنانے کا بھانڈہ بھی پھوڑ دیا۔ حقیقت میں جنرل جان کیمبل کا پاکستان میں موجود انتہاپسند اور کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن سے متعلق اعتراف نامہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے حقیقت شناسی کی ایک خوش آئند پیش رفت ہے ورنہ دہشت گردی کے انسداد اور سرحد پار تخریب کاری و دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان نے جتنی کوششیں کیں اور جتنے صدمے اٹھائے اس پر امریکی تان اسی بات پر ٹوٹتی رہی کہ ''ڈو مور'' جب کہ اہل پاکستان کے لیے یہ حکم ''اک ستم اور '' کے مترادف تھا۔
اب جاکر جان کیمبل کا اعتراف سامنے آیا جو زمینی حقائق کا عینی گواہ ہے۔ ایک امریکی اخبار نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور وسیع و عریض جائیداد کے مالک ہیں اور ان کے منشیات کے اسمگلروں سے تعلقات ہیں۔ یہی عناصر داعش کو چارہ ڈالنے والے ہیں۔ مشتری ہشیار باش۔ ادھر عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گردی کے واقعات نہ ہوتے تو پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح سالانہ 5 فی صد سے بھی بڑھ جاتی، دہشت گردی کے معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں،2013ء کے دہشت گردی کے مجموعی واقعات میں سے 60 فی صد صرف4ممالک میں ہوئے جن میں پاکستان اور عراق سر فہرست ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان حکمراں الزام تراشی عاقبت نااندیشی اور بدگمانی کی جس دلدل میں پھنسے ہیں وہ اس سے نکلنے اور سیاسی عملیت پسندی کے افق کی طرف کب سفر کا آغاز کریں گے وقت کو اسی کا انتظار ہے ۔