گلگت بلتستان پر نظر کرم کی آئینی ضرورت
سینیٹ کمیٹی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا جائے
سینیٹ کمیٹی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا جائے، فوٹو:فائل
KARACHI:
سینیٹ کمیٹی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا جائے، پاکستان میں بعض فیصلے عجلت میں کر تو لیے جاتے ہیں، لیکن ان میں کوئی نہ کوئی سقم بھی رہ جاتا ہے، جس کی ذمے داری بلاشبہ بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے، اسی ضمن میں سینیٹر رحمن ملک نے ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور مقتدر حلقوں کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو دیگرصوبوں کی طرح مکمل طور پر آئینی اور انتظامی خود مختاری دی جائے، ورنہ اس علاقے میں فرقہ واریت میں تیزی آجائے گی بلکہ یہ علاقہ بھی پاکستان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔رحمٰن ملک نے یہ سفارشات سینیٹر پروفیسرساجد میرکی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورکشمیروگلگت بلتستان کے اجلاس کے دوران پیش کیں۔
پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا،گوکہ یہ ایک سیاسی اورمستحسن فیصلہ تھا، لیکن بیوروکریسی کاکیا کیا جائے جس نے اپنی روش قیام پاکستان سے لے کرآج تک نہیں بدلی ۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے، ہمیں دہشتگردی اور توانائی کے بحران کا سامنا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے جس پر یقیناً گلگت بلتستان پرعملدرآمدکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جس سے امن بحال کرنے میں کافی مدد ملے گی، دوسری جانب پاکستان کو توانائی کے جس بحران کا سامنا ہے، حکومت اس ضمن میں متعدد منصوبوں پر بلاشبہ کام کر رہی ہے،گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے ، دیامربھاشا ڈیم اسی علاقے میں بننا ہے ، لیکن آئینی طور پر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے باعث دیامربھاشا ڈیم کے لیے ورلڈ بینک سمیت دیگر بڑے ڈونرز فنڈزدینے کو تیار نہیں، لہذا قانونی سقم کو فی الفور دورکرکے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوشش کی جانی چاہیے ۔
اس ضمن میں سینیٹر رحمان ملک کی پاکستان سے الحاق کے لیے ریفرنڈم کرانے کی تجویز انتہائی صائب ہے جس پر عمل کیا جا سکتا ہے، عوامی رائے عامہ کو اہمیت دی جائے گی تو یقیناً اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے ، اور ہمیں توانائی کے منصوبوں کے لیے عالمی فنڈز بھی بآسانی ملے سکیں گے کیونکہ دیا مر اور بونجی ڈیموں سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
جب کہ اسی علاقے میں بجلی پیدا کرنیوالے پچاس سے زائد منصوبوں پرکام جاری ہے،حکومت کو فی الفور اس مسئلے کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کرتے ہوئے آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں تاکہ گلگت بلتستان کے باسی بھی خود کو پاکستان کا لازم وملزوم حصہ اور ملک کا باشندہ سمجھیں۔
سینیٹ کمیٹی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا جائے، پاکستان میں بعض فیصلے عجلت میں کر تو لیے جاتے ہیں، لیکن ان میں کوئی نہ کوئی سقم بھی رہ جاتا ہے، جس کی ذمے داری بلاشبہ بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے، اسی ضمن میں سینیٹر رحمن ملک نے ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور مقتدر حلقوں کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو دیگرصوبوں کی طرح مکمل طور پر آئینی اور انتظامی خود مختاری دی جائے، ورنہ اس علاقے میں فرقہ واریت میں تیزی آجائے گی بلکہ یہ علاقہ بھی پاکستان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔رحمٰن ملک نے یہ سفارشات سینیٹر پروفیسرساجد میرکی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورکشمیروگلگت بلتستان کے اجلاس کے دوران پیش کیں۔
پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا،گوکہ یہ ایک سیاسی اورمستحسن فیصلہ تھا، لیکن بیوروکریسی کاکیا کیا جائے جس نے اپنی روش قیام پاکستان سے لے کرآج تک نہیں بدلی ۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے، ہمیں دہشتگردی اور توانائی کے بحران کا سامنا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے جس پر یقیناً گلگت بلتستان پرعملدرآمدکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جس سے امن بحال کرنے میں کافی مدد ملے گی، دوسری جانب پاکستان کو توانائی کے جس بحران کا سامنا ہے، حکومت اس ضمن میں متعدد منصوبوں پر بلاشبہ کام کر رہی ہے،گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے ، دیامربھاشا ڈیم اسی علاقے میں بننا ہے ، لیکن آئینی طور پر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے باعث دیامربھاشا ڈیم کے لیے ورلڈ بینک سمیت دیگر بڑے ڈونرز فنڈزدینے کو تیار نہیں، لہذا قانونی سقم کو فی الفور دورکرکے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوشش کی جانی چاہیے ۔
اس ضمن میں سینیٹر رحمان ملک کی پاکستان سے الحاق کے لیے ریفرنڈم کرانے کی تجویز انتہائی صائب ہے جس پر عمل کیا جا سکتا ہے، عوامی رائے عامہ کو اہمیت دی جائے گی تو یقیناً اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے ، اور ہمیں توانائی کے منصوبوں کے لیے عالمی فنڈز بھی بآسانی ملے سکیں گے کیونکہ دیا مر اور بونجی ڈیموں سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
جب کہ اسی علاقے میں بجلی پیدا کرنیوالے پچاس سے زائد منصوبوں پرکام جاری ہے،حکومت کو فی الفور اس مسئلے کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کرتے ہوئے آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں تاکہ گلگت بلتستان کے باسی بھی خود کو پاکستان کا لازم وملزوم حصہ اور ملک کا باشندہ سمجھیں۔