الیکشن کمیشن کاحکمایف بی آرنے کسان پیکیج روک لیا
وزارت خزانہ کی ہدایت پرٹیکس رعایتوں کے متعلق ورکنگ مکمل کر لی گئی تھی
نفاذموخرکیا،قانونی رکاوٹ دورہوتے ہی نوٹیفکیشن جاری کردیے جائیں گے، ذرائع فوٹو: فائل
KARACHI:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے وزیراعظم کے اعلان کردہ کسان پیکیج کے تحت درآمدی و مقامی زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی شرح 43 سے کم کرکے9فیصد اور ایگریکلچرڈلیوری چین کے لیے 3سال تک ٹیکس چھوٹ سمیت ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں دیگر رعایتوں و کمی کے فیصلے پر عملدرآمد موخر کردیا۔
اس ضمن میں ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کسان پیکیج پر عملدرآمد کے لیے وزارت خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکو17 ستمبر کو لیٹر لکھا تھا جس میں خزانہ ڈویژن کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی گئی تھی کہ کسان پیکیج کے تحت زرعی شعبہ کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی و رعایت کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرکے 3 دن میں رپورٹ پیش کی جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے اس حوالے سے تمام ورکنگ مکمل کرلی ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عملدرآمد روکنے کے احکام کی وجہ سے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں کمی کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے اور عارضی طور پر موخر کردیے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ایف بی آر کو لکھے گئے لیٹر کی ''ایکسپریس'' کو دستیاب کاپی کے مطابق خزانہ ڈویژن نے ایف بی آر کوکہا گیاکہ وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے مطابق درآمدی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی زرعی مشینری پر مجموعی ٹیکس کی شرح 43فیصد سے کم کرکے 9فیصد کی جائے جبکہ زرعی ڈلیوری چین کے لیے 3 سال تک ٹیکس چھوٹ دی جائے، حلال میٹ پروڈکشن پلانٹس کو انکم ٹیکس اور مچھلی سمیت دیگر زرعی پیداوار کو ودہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ دی جائے جبکہ رواں مالی سال کے لیے رائس ملوں کو کم ازکم ٹرن اوورٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔
دستاویز میں ایف بی آر سے کہا گیا کہ مذکورہ اقدامات پر عملدرآمد کرکے 3 دن میں وزارت خزانہ کو عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے تاکہ وزیراعظم کو اس بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ ایف بی آرذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے مطابق مذکورہ بالا ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ و رعایت کے حوالے سے تمام ورکنگ مکمل کرلی گئی ہے جیسے ہی کسان پیکیج پر عملدرآمد کا عدالتی فیصلہ آئے گا یا اس بارے میں حائل قانونی رکاوٹ دورہوجائے گی تو نوٹیفکیشن جاری کردیے جائیں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے وزیراعظم کے اعلان کردہ کسان پیکیج کے تحت درآمدی و مقامی زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی شرح 43 سے کم کرکے9فیصد اور ایگریکلچرڈلیوری چین کے لیے 3سال تک ٹیکس چھوٹ سمیت ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں دیگر رعایتوں و کمی کے فیصلے پر عملدرآمد موخر کردیا۔
اس ضمن میں ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کسان پیکیج پر عملدرآمد کے لیے وزارت خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکو17 ستمبر کو لیٹر لکھا تھا جس میں خزانہ ڈویژن کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی گئی تھی کہ کسان پیکیج کے تحت زرعی شعبہ کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی و رعایت کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرکے 3 دن میں رپورٹ پیش کی جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے اس حوالے سے تمام ورکنگ مکمل کرلی ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عملدرآمد روکنے کے احکام کی وجہ سے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں کمی کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے اور عارضی طور پر موخر کردیے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ایف بی آر کو لکھے گئے لیٹر کی ''ایکسپریس'' کو دستیاب کاپی کے مطابق خزانہ ڈویژن نے ایف بی آر کوکہا گیاکہ وفاقی کابینہ کے فیصلوں کے مطابق درآمدی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی زرعی مشینری پر مجموعی ٹیکس کی شرح 43فیصد سے کم کرکے 9فیصد کی جائے جبکہ زرعی ڈلیوری چین کے لیے 3 سال تک ٹیکس چھوٹ دی جائے، حلال میٹ پروڈکشن پلانٹس کو انکم ٹیکس اور مچھلی سمیت دیگر زرعی پیداوار کو ودہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ دی جائے جبکہ رواں مالی سال کے لیے رائس ملوں کو کم ازکم ٹرن اوورٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔
دستاویز میں ایف بی آر سے کہا گیا کہ مذکورہ اقدامات پر عملدرآمد کرکے 3 دن میں وزارت خزانہ کو عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے تاکہ وزیراعظم کو اس بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ ایف بی آرذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے مطابق مذکورہ بالا ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ و رعایت کے حوالے سے تمام ورکنگ مکمل کرلی گئی ہے جیسے ہی کسان پیکیج پر عملدرآمد کا عدالتی فیصلہ آئے گا یا اس بارے میں حائل قانونی رکاوٹ دورہوجائے گی تو نوٹیفکیشن جاری کردیے جائیں گے۔