نیب کا وزیر ایکسائز سندھ سمیت متعدد ارکان اسمبلی افسران کیخلا ف تحقیقات کا فیصلہ

گیان چند،نور شاہ،ایم پی ایزعبدالرؤف،شاہ غلام،عبدالواسع پرغیر قانونی ٹھیکوں کاالزام ہے

خوردبرداورغیرقانونی الاٹمنٹوں پرکے پی ٹی اورسی ڈی اے حکام سے بھی تفتیش ہوگی فوٹو: فائل

نیب نے کرپشن اوراختیارات سے تجاوز پروزیربرائے ایکسائزسندھ گیان چند اسرانی سمیت متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ کیاہےچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی، نیب نے کرپشن، اختیارات سے تجاوز کرنے دھوکہ دہی کے الزام میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (نمز) ایبٹ آباد کے ڈاکٹر عزیز خان اور دیگر کیخلاف کرپشن کا کیس درج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ملزموں پر 54 کروڑ 84 لاکھ خورد برد کا الزام ہے۔

اس موقع پر3 شکایات کی تصدیق کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، پہلی شکایت سندھ کے وزیربرائے ایکسائزگیان چند اسرانی سے متعلق ہے،ان پراختیارات سے تجاوز اور دیگر الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے ایم پی ایزعبدالرؤف، شاہ غلام جارو اوردیگر کیخلاف بھی شکایات کی تصدیق کی جائے گی، ان پر کرپشن، سندھ میں غیرقانونی ٹھیکے دینے اور اختیارات سے تجاوز کے الزامات ہیں جبکہ تیسری شکایات کی تصدیق رکن قومی اسمبلی اورچیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی تھرپارکر پیر نور محمد شاہ جیلانی، ایکسیئن ہائی وے ہاشم چنا اور سب انجینئر ذوالفقار آرائیں سے متعلق ہے۔


ان پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ اجلاس میں 3انکوائریاں کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا۔ پہلی انکوائری بلوچستان کے سابق وزیرمولوی عبدالواسع کیخلاف ہے، ان پر الزام ہے انھوں نے کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے خزانے کو 15 کروڑ 48 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا،دوسری انکوائری ایم ایس عبداللہ شاہ غازی شوگر ملز (لمیٹڈ)کے ڈائریکٹر اور مالک محمد ارشاد بٹ، چیف ایگزیکٹو قمر النسااور دیگر کیخلاف ہے۔

ملزموں نے طے شدہ شرائط اور ٹینڈر کے مطابق ٹی سی پی اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو چینی فراہم نہیں کی جس سے خزانے کو ایک ارب 31 کروڑ 52لاکھ روپے سے زائد کانقصان برداشت کرنا پڑا،تیسری انکوائری وفاقی ترقیاتی ادارہ(سی ڈی اے)کے حکام کیخلاف ہے جن پرکرپشن اورشکرپڑیاں میں کلچرل کمپلیکس کی تعمیر کے دوران خورد برد کا الزام ہے۔

اجلاس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حوالے سے تفتیشوں کابھی فیصلہ کیا گیا، پہلی تفتیش کے پی ٹی کے حکام کیخلاف ہوگی جنھوں نے زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی،دوسری انکوائری ان حکام کیخلاف کی جائیگی جنھوں نے لینڈ مافیاکوغیر قانونی طور پر پلاٹ کی الاٹمنٹ کی جس سے خزانے کو40کروڑ 20لاکھ روپے کانقصان ہوا۔خصوصی خبرنگارکے مطابق نیب نے سابق سیکریٹری اورڈائریکٹرایجوکیشن ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخواطارق اعوان کیخلاف بھی کرپشن کے الزام میں تفتیش کافیصلہ کیا۔
Load Next Story