اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کی فریاد سنی جائے

آزاد کشمیر زلزلے کی دسویں برسی منائی گئی جس میں 75 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جب کہ ایک لاکھ تیس ہزار زخمی ہوئے تھے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کے مسائل و مشکلات حل کرے اور ان کے مطالبات پورے کرے۔ فوٹو : فائل

آزاد کشمیر زلزلے کی دسویں برسی منائی گئی جس میں 75 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جب کہ ایک لاکھ تیس ہزار زخمی ہوئے تھے۔ دریں اثنا اگلے دن ملک بھر میں قدرتی آفات سے آگاہی کا قومی دن بھی منایا گیا۔ آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلہ سے مظفرآباد اور بالاکوٹ کے شہر کھنڈرمیں تبدیل ہو گئے تھے جب کہ راولاکوٹ، باغ، گڑھی حبیب اﷲ وغیرہ میں سیکڑوں دیہات تباہ ہوئے اور ہزاروں افراد ملبہ تلے دب گئے۔

لاکھوں مکان، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، سرکاری عمارات، پانی کی اسکیموں اور ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ مگر کس قدر افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ دس سال گزرنے کے باوجود متاثرین آج بھی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔بہت سے مہاجرین خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ زلزلے کے دس سال بعد بھی لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ آج کے بالاکوٹ کو شہر ناپرساں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ لوگ عارضی مکانات میں مقیم ہیں۔ دس سال سے لوگ اس امید پر یہاں رہ رہے ہیں کہ حکومت انھیں مکان بنا کر دے گی لیکن اب یہ امید ناامیدی میں بدل رہی ہے۔


زلزلے نے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔ شہر میں کوئی اسپتال نہیں ہے۔ شہر کا بڑا اسپتال ایک کرائے کے مکان میں منتقل کر دیا گیا جہاں صرف ایک یا دو ڈاکٹر ہوتے ہیں اور لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ بالاکوٹ کے غم کا اندازہ آپ کو یہاں پہنچ کر ہی ہوتا ہے۔ جہاں کے لوگوں سے حکومت کا وعدہ تھا کہ ان کے لیے ایک نیا شہر بنایا جائے گا۔ یہ کام دو تین برسوں میں ہونا تھا۔ لیکن دس سال گزر گئے کچھ نہ کیا گیا۔ اس دوران مظفرآباد کا نقشہ بدل گیا۔ وہ متاثرہ علاقے کا سب سے بڑا شہر تھا اور وہاں نقصان بھی خاصا ہوا لیکن وہاں نئے پل بن گئے، اسکول، اسپتال، اور مسجدیں تعمیر ہو گئیں۔

لیکن بالاکوٹ وہیں کا وہیں رہ گیا۔ جہاں تک حکومتی وعدوں کے وفا ہونے کا تعلق ہے تو یہ سن کر سخت حیرت ہوتی ہے کہ کئی دہائیاں قبل تعمیر ہونے والے منگلہ ڈیم کے کچھ متاثرین بھی ابھی تک واویلہ کر رہے ہیں۔ اگر اس زاویئے سے دیکھا جائے تو نئے ڈیموں کی تعمیر میں جو اصل رکاوٹ ہے وہ یہی ہے کہ حکومت بے گھر ہونے والوں کو حسب وعدہ متبادل سہولتیں دینے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی چنانچہ ڈیم کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی متوقع متاثرین مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کے مسائل و مشکلات حل کرے اور ان کے مطالبات پورے کرے۔
Load Next Story