بھارت ہوش کے ناخن لے

’’اگر پاکستان بھارت جتنا طاقتور ہوتا تو کیا مسئلہ کشمیر پیدا ہوتا؟

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

WASHINGTON:
ایک سیدھا سا اور آسان سوال جس کا جواب ہم بھارتی حکمرانوں سے چاہیں گے وہ یہ ہے کہ ''اگر پاکستان بھارت جتنا طاقتور ہوتا تو کیا مسئلہ کشمیر پیدا ہوتا؟ یا پیدا ہو گیا تو کیا بھارت اس کے حل سے اسی طرح گریزاں رہتا؟'' اس ایک سوال میں بھارت کی ساری سیاست، دادا گیری اور جمہوریت پنہاں ہے۔ بھارت کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا اڈہ اور دہشت گردوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

بلاشبہ پاکستان مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن کیا بھارتی حکمراں طبقہ یہ سمجھنے کے لیے یہ بات ماننے کے لیے تیار ہے کہ پاکستان ہی نہیں یہ پورا خطہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بن گیا ہے؟ جو مذہبی انتہا پسندی کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے مسلم ملکوں میں پیدا ہو گئی ہے اب وہ کشمیر پاکستان یا ہندوستان تک محدود نہیں رہی، پہلے مذہبی انتہا پسند صرف لال قلعہ دہلی پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے اب وہ واشنگٹن، ماسکو، برلن، پیرس، بیجنگ سمیت ساری دنیا پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ اس جوہری تبدیلی میں کیا کشمیر فلسطین اور بھارتی اور اسرائیلی حکمرانوں کی حماقتوں کا کوئی دخل ہے؟

بھارت کا حکمران طبقہ ہمیشہ سیکولر بھارت پر فخر کرتا رہا ہے حتیٰ کہ موجودہ مذہبی انتہا پسند حکمران بھی جو بھارت کو رام راجیہ بنانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ٹھوس اقدامات بھی کر رہے ہیں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت اب بھی سیکولر ملک ہے۔ کیا ایسا ملک جو مذہبی انتہا پسند پیدا کرتا ہے یا اس کا سبب بنتا ہے، سیکولر ہو سکتا ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ بھارت کے حکمران طبقے سے زیادہ بھارت کا اہل قلم، اہل دانش، اہل فکر اس حوالے سے سب سے بڑا مجرم ہے جو مسئلہ کشمیر کو یا تو محض بھارت کے تناظر میں دیکھ رہا ہے یا سیکولرازم کے ''تصور'' کے تناظر میں دیکھ رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتی اہل دانش، اہل قلم خاص طور پر میڈیا مسئلہ کشمیر کو جنوبی ایشیا کے غریب عوام، مذہبی انتہا پسندی کے فروغ اور دنیا کے 7 ارب غریب عوام کے مستقبل کے تناظر میں دیکھے۔

امریکا کے صدر بارک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ زمانہ نہیں کہ کوئی طاقتور ملک کسی دوسرے ملک پر طاقت کے ذریعے قبضہ کر لے۔ اب دنیا کے مسائل امریکا تنہا حل نہیں کر سکتا بلکہ دنیا کے مسائل دنیا کے ملک مل جل کر ہی حل کر سکتے ہیں۔

اسی جنرل اسمبلی میں بھارت کے نمایندے بھی موجود تھے یقینا انھوں نے بھی اوباما کی تقریر سنی ہو گی کہ اب دنیا میں کوئی ملک طاقت کے ذریعے دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کر سکتا اس حوالے سے اوباما نے عراق پر امریکی قبضے کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ امریکا کی بہت بڑی غلطی تھی کہ اس نے طاقت کے بل پر عراق پر قبضہ کیا جس کی بہت بھاری قیمت امریکا کو ادا کرنی پڑی۔ امریکا کی تاریخ دوسرے ملکوں پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی تاریخ ہے لیکن اب وہ دور نہیں رہا کہ طاقتور ملک اپنی فوجیں بھیج کر جس ملک پر چاہیں قبضہ کر لیں۔ امریکا اس کلچر کے نقصانات کو سمجھ چکا ہے۔


بھارت کے نمایندے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود تھے۔ کیا انھوں نے دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر کی تقریر سے کوئی سبق سیکھا؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے کیونکہ بھارت کے ذمے دار لوگ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ان مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر شامل نہیں ہو گا۔

بھارتی حکمران ٹولہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ 7-6 لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوں کو زیر کر لے گا لیکن اس کے اس خواب کی خطرناک تعبیر اب سامنے آنے لگی ہے۔ آج تک کشمیر میں صرف بھارت کے خلاف مظاہرے ہوتے تھے، اب کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا عام ہو گیا ہے۔ کیا بھارتی حکومت اور کشمیر میں متعین اس کی 7-6 لاکھ فوج کشمیریوں کی اس نئی لہر کو طاقت کے ذریعے روک سکتی ہے؟

دنیا میں جب تک بادشاہی نظام قائم تھا اس وقت تک طاقت کے ذریعے دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنا آسان تھا اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ عوام میں یہ رجحان مضبوط تھا کہ ہر نئے حکمران کی آنکھ بند کر کے فرمانبرداری کریں اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام میں اپنے حقوق کا احساس نہ تھا شخصی حکمران عوام کو ہمیشہ فرمانبردار رعایا بنا کر رکھتے تھے۔

لیکن جب سے دنیا میں جمہوری نظام متعارف ہوا ہے صورت حال میں جوہری تبدیلی آ گئی ہے اب حکمران خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے عوام کی اجتماعی طاقت کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ کشمیر کے عوام اپنے ملک پر بھارت کا قبضہ پسند نہیں کرتے اور ہر قیمت پر اس سے نجات چاہتے ہیں اس حوالے سے انھوں نے اب تک 70 ہزار کشمیریوں کی قربانیاں دی ہیں۔ کیا ستر ہزار کشمیریوں کا خون وہ رائیگاں جانے دیں گے؟

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ بھارت کا اہل قلم، اہل دانش کشمیر کے مسئلے پر دم سادھے پڑا ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کا ایک سابق سربراہ کہہ رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب حل ہونا چاہیے وہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں پیش رفت کے لیے پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیے گئے چار نکات بنیاد بن سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے بھارتی میڈیا جو آزاد کہلاتا ہے روز اول سے بھارتی حکمرانوں کی طاقت کی پالیسی کا ہمنوا رہا ہے اگر بھارتی میڈیا دنیا کے بدلتے ہوئے مزاج اور کشمیریوں کی نئی حکمت عملی کو سمجھ سکے تو پھر وہ بھارتی حکمران طبقے کی زبان بننے کے بجائے کشمیریوں کی زبان بن جائے گا جس کا فائدہ صرف بھارت ہی کو نہ ہو گا بلکہ اس خطے کے تمام غریب عوام کو ہو گا۔ اگر بھارتی حکمران طبقہ میں نہ مانوں کی زبان بولتا رہا تو کشمیر میں ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جس کا بجھانا بھارت کی 7 لاکھ فوج کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا۔
Load Next Story