آدمی انسان کب بنے گا

دنیا کے حل طلب اور خطرناک ترین مسائل میں فلسطین کا مسئلہ نہ صرف شامل ہے بلکہ سرفہرست ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

دنیا کے حل طلب اور خطرناک ترین مسائل میں فلسطین کا مسئلہ نہ صرف شامل ہے بلکہ سرفہرست ہے یہ مسئلہ نیا نہیں، بلکہ کشمیر کے مسئلے کی طرح پرانا ہے۔ اس مسئلے نے 67 سال کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کی جانیں لیں اور لاکھوں کو بے گھر بے وطن کر دیا، آج ساری دنیا میں کشمیری دربدر غریب الوطن پھر رہے ہیں۔

تارکین وطن خواہ ان کے وطن چھوڑنے کی وجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جس المناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کا اندازہ اور مشاہدہ ان تارکین وطن کے المیوں سے کیا جا سکتا ہے جو یورپ کے کسی ملک میں جائے پناہ تلاش کرنے کے لیے کشتیوں کا پر خطر سفر کر رہے ہیں۔ کشتیاں زیادہ مسافروں کی وجہ سے ڈوب رہی ہیں اور سیکڑوں تارکین وطن جن میں خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچے شامل ہیں، سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔

ان المناک سانحات کے باوجود تارکین وطن پناہ کی تلاش میں کشتیوں کے پر خطر سفر میں مصروف ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ بے قصور ہیں یہ مظلوم یا تو جنگوں کی تباہ کاریوں سے گھبرا کر وطن چھوڑ رہے ہیں یا دہشت گردوں کی درندگی سے خوفزدہ ہوکر یا مذہبی، لسانی تعصبات کی وجہ سے اپنی دھرتی کو خیر باد کہہ رہے ہیں۔

آج دنیا کے بیشتر ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں جو فلسطینی غریب الوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس کی واحد وجہ اسرائیلی حکومت کی درندگی ہے۔

صابرہ اور شتیلا سے لے کر آج تک اسرائیل فلسطینیوں پر جو غیر انسانی ظلم ڈھا رہا ہے، اس کی مثال عرب تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہٹلر نے یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے اس کی بھی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہٹلر کے بے پناہ مظالم کی وجہ سے یہودی ساری دنیا میں غریب الوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے لیکن مغربی ملکوں خصوصاً برطانیہ کی کوششوں سے یہودیوں کو ایک وطن اسرائیل حاصل ہوا لیکن یہودیوں کو اسرائیل دلوانے والوں نے اسرائیل سے یہ ضمانت حاصل نہ کی کہ جن فلسطینیوں کو ملک بدر کرکے اس کو تشکیل دیا جا رہا ہے۔

اس میں فلسطینیوں کے لیے بھی رہائش کا بندوبست ہونا چاہیے۔ اس یکطرفہ مغربی حمایت کی وجہ سے اس المیے نے جنم لیا جسے انسانی المیوں کی تاریخ کا بدترین المیہ کہا جاتا ہے افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ غریب الوطنی اور ظلم و ستم سہنے والی یہودی قوم کو یہ احساس بھی نہیں رہا کہ وہ مدتوں ان ہی المیوں میں مبتلا رہی ہے جن المیوں میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو دھکیل دیا ہے۔


اقوام متحدہ کو ورلڈ فورم کا درجہ حاصل ہے وہ دنیا بھر کے ملکوں کی ترجمانی اور دادرسی کرنے والی تنظیم کہلاتی ہے، اس تنظیم پر سامراجی ملکوں خصوصاً امریکا کی بالادستی کا عالم یہ ہے کہ یہ قوتیں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ایک مذمتی قرارداد تک منظور ہونے نہیں دیتے فلسطینیوں کے لیے الگ وطن کی بات دور ہے۔ لیکن ظلم جب بڑھتا ہے تو خود اپنی دوا بن جاتا ہے۔ آج سامراجی ملکوں کی سخت مخالفت کے باوجود دنیا کے ملکوں نے فلسطینیوں کے لیے ایک الگ ریاست کے مطالبے کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے اور اقوام متحدہ کی عمارت پر دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کا پرچم بھی لہرا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ عالمی ضمیر اب بیدار ہو رہا ہے۔

فلسطین کے حوالے سے جو سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا فلسطینیوں کو اپنی رہائش کے لیے زمین کے ایک ٹکڑے کی ضرورت نہیں؟ اگر مغربی ملکوں کو یہودیوں کی غریب الوطنی گوارا نہیں تھی تو کیا فلسطینی انسان نہیں کہ 67 سال سے دنیا خصوصاً بااختیار مغربی ملک فلسطینیوں کی غریب الوطنی کو انتہائی بے شرمی اور بے حسی سے دیکھ رہے ہیں؟ کیا عالمی طاقتیں خصوصاً بااختیار مغربی ملک اسرائیل کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے ایک خطہ زمین فراہم کرے؟

اس انتہائی اہم ترین سوال کے ایک سے زیادہ جواب ہیں لیکن سب سے بڑا جواب یہ ہے کہ عرب ملکوں سے اربوں کھربوں کی دولت بٹورنے کے لیے مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کی دادا گیری برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ اسرائیلی طاقت سے خوفزدہ عرب ملک اسرائیل سے تحفظ کے نام پر مغربی ملکوں سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ عرب ملکوں کی وجہ ہی سے مغرب کی اسلحہ انڈسٹری چل رہی ہے اور اس انڈسٹری کے مالکان کھربوں ڈالر کا منافع کما رہے ہیں کیا امریکا اور اس کی برادری ان کھربوں ڈالروں سے دست بردار ہو سکتی ہے؟ فلسطین کا تنازعہ ختم ہونے کی صورت میں ان کی آمدنی کا یہ سب سے بڑا وسیلہ ختم ہو جاتا ہے کیا اشرف المخلوقات ہونے کا دعویدار انسان اس قدر گر سکتا ہے؟

مسئلہ صرف فلسطین کا ہی نہیں ہے بلکہ کشمیر سمیت دنیا میں کئی مسائل ایسے ہیں جو جنگوں کا سبب بنتے رہے ہیں بن رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔ جب ہم اس حوالے سے دنیا کے مسائل پر غور کرتے ہیں تو فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ان جنگوں، نفرتوں، تعصبات کی وجہ کیا ہے؟ اس کا ایک منطقی جواب یہ ہے کہ چاند پر ہو آنے والا اور مریخ پر جانے کی تیاری کرنے والا کرہ ارض کا انسان یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ کرہ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسان خون کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہر مذہب کے ماننے والے کسی نہ کسی نام سے اپنے جد امجد آدم کو مانتے ہیں۔

جب کرہ ارض پر بسنے والا ہر فرد آدم ہی کی اولاد ہے تو پھر انسانوں کے درمیان نفرت، تعصب وغیرہ کا جواز کیا ہے؟ دنیا میں مذہب کے بعد انسانوں کی تقسیم کا دوسرا بڑا سبب ملک و ملت ہے۔ کوئی امریکی ہے، کوئی جرمن ہے، کوئی فرانسیسی ہے، کوئی برٹش ہے، کوئی روسی ہے، کوئی چینی ہے، کوئی پاکستانی ہے، کوئی ہندوستانی ہے غرض دنیا میں جتنے ملک ہیں اتنی ہی قومیتیں ہیں نہ علیحدہ ملک ہونا کوئی بری بات ہے نہ علیحدہ مذہب ہونا کوئی بری بات ہے۔ بری بات یہ ہے کہ ان حوالوں سے انسان انسان سے نفرت کرے، تعصبات برتے کیونکہ یہی عوامل آخر کار جنگوں اور تباہ کاریوں کا سبب بنتے ہیں۔

ہم نے فلسطین کے مسئلے سے اپنی بات کا آغاز کیا تھا کشمیر کا مسئلہ بھی فلسطین ہی کی نوعیت کا ہے۔ ہندوستان میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ہندوستان پر ایک ہزار سال تک مسلمان حکومت کرتے رہے ہیں اور اس وقت کے ہندوستان میں بھی کشمیر شامل تھا۔

پھر ایک ہزار سال کے دوران چھوٹی چھوٹی لڑائیاں تو ہوتی رہیں لیکن مذہب کے نام پر کوئی 1947ء جیسا خون خرابہ کیوں نہ ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان ذات پات، دین دھرم کو جنگوں نفرتوں کا جواز نہیں بناتا تھا نہ عوام اس حوالے سے اس طرح تقسیم تھے جیسے آج تقسیم نظر آ رہے ہیں۔ اس فرق کی اگر انسان وجہ تلاش کر لے تو شاید نہ نفرتیں رہیں گی نہ جنگیں۔ اچھے انسانوں کے ذہن میں ایک سوال کھڑا ہے کہ آدمی، انسان کب بنے گا؟
Load Next Story