طالب علموں کا اخراج

ایسا ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ ٰاور یورپی ممالک میں برس ہا برس سے ہوتا رہا ہے

tauceeph@gmail.com

دنیا بھر کی جامعات سے سیاسی طور پر سرگرم یا حکومت مخالف طلبا یونینوں کے عہدیداروں، پُر جوش اور مہم جو طالب علموں، اور دیگر انقلابی منشور رکھنے والے اسٹوڈنٹ لیڈرز کے اخراج کی روایت نئی نہیں ہے۔

ایسا ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ ٰاور یورپی ممالک میں برس ہا برس سے ہوتا رہا ہے، پاکستان میں بھی ماضی میں کئی طلباء کو یونیورسٹیوں سے خارج کیا گیا ہے مگر جامعات کی انتظامیہ نے ایسا انتہائی قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا ہے اور ملکی و غیر ملکی دانشوروں، فنون لطیفہ سے وابستہ عالمگیر شہرت کے حامل فنکاروں، اپنے شعبہ مین کمال رکھنے والے مہمانوں، اعزازی لیکچررز اور طلبا یونینوں کی دعوت پر خصوصی لیکچر دینے کے لیے آنے والی سیاسی شخصیات کی آمد میں رواداری برتی ہے اور اپنی شاندار روایات، اقدار اور وقار کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا ہے جب کہ بحرانی دور میں یا کسی سیاسی کشمکش کے دوران کئی بار تحفظات کے ساتھ بھی مہمانوں کو یونیورسٹیوں میں اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا۔

کیونکہ جامعات میں مشہور و معروف شخصیات کے خیالات سننے کی روایت فکری، ادبی اور علمی اعتبار سے لائق تحسین سمجھی جاتی ہے۔ مگر گزشتہ دنوں جامعہ کراچی میںمنی لانڈرنگ کیس میں ملوث ایک ماڈل گرل ایان علی کو مدعو کرنے پر تنازع کھڑا ہوا اور اس کے نتیجہ میں دو طالب علموں کی تعلیمی تسلسل متاثر ہوا اور ان کے لواحقین نے طلبہ کے اخراج پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایان علی پر غیر ملکی کرنسی دبئی لے جانے کا الزام ہے۔ ان کے خلاف راولپنڈی کی انسداد اسمگلنگ عدالت میں کئی ماہ کی پیشی کے بعد بھی نہ مقدمہ کا مکمل چالان ہوا اور نہ ہی ان کی ضمانت کی درخواست منظور ہوئی، نہ فرد جرم عائد ہوئی تاہم یہ مقدمہ ابھی تک موجود ہے اور جب تک اس مقدمے سے باعزت برات نہیں ہوتی، ماڈل کو بے گناہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے پبلک ایڈمنسٹریشن میں مارکیٹنگ کے طلباء اس متنازعہ ماڈل کو بلایا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے ماڈل کو انتظامیہ نے مدعو نہیں کیا تھا۔ اور یہ کہ یہ طلباء کی اپنی کارروائی تھی۔ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کا اس پروگرام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے دونوں طلباء کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور معاملہ نظم ونسق کمیٹی کو بھیج دیا۔ پھر ایک طالب علم کا داخلہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جب کہ دوسرے پر یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ طالب علم اب جامعہ کراچی اور اس سے ملحقہ بعض اداروں میں داخلے کے اہل نہیں۔


تدریسی اور علمی تناظر میں یونیورسٹی کو ایک سماجی ادارہ کی حیثیت سے تفاخر و وقار کا درجہ حاصل ہے۔ یہ علم کا سرچشمہ ہے، پیکر سازی اس کا مشن ہے، یونیورسٹی کی معاشرے میں اہمیت اس بناء پر ہوتی ہے کہ وہاں اساتذہ اور طالب علم تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ تحقیق کرنے کے لیے تجربات کرتے ہیں اور بغیر کسی رکاوٹ دنیا بھر کے موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور پھر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو یونیورسٹیوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کے خیالات کوسنا جاتا ہے اور پھر ان خیالات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح طالب علموں میں اپنے خیالات سے متصادم خیالات سننے اور اپنے نظریات سے مخالف نظریات کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی میں لیکچرز، سیمینار، ورکشاپ، کانفرنس، مباحثوں کے انعقاد کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔ یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں میں متضاد نظریات رکھنے والے اوپن لیڈرز کو مدعو کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں صرف محقق، شاعر، ادیب، دانشور، سائنس دان، سیاست دان ہی مدعو نہیں کیے جاتے بلکہ اداکار، ماڈلز، فلاحی اور سوشل ایکٹیوسٹ بھی بلائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی شہرت اچھی نہیں ہوتی مگر اکثر یونیورسٹیوں میں انھیں مدعو کیا جاتا ہے۔ بہرحال یونیورسٹیوں کا ایک تقدس ہوتا ہے اور مہمان کو مدعو کرتے ہوئے اس کا تقدس ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے اور کسی ایسی شخصیت کو نہیں بلایا جانا چاہیے جس پر منی لانڈرنگ یا مالی کرپشن کے مقدمات ہوں اور وہ ان میں الجھا ہوا ہو۔

جب دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی تو امریکا کے فوجی جنرل میکارتھی نے زندگی کے مختلف شعبوں سے کمیونسٹوں کے خلاف نظری مہم چلائی۔ اس مہم کے اثرات امریکی یونیورسٹیوں میں بھی آئے۔ یوں بہت سے ماہرین کو کمیونسٹ ہونے کے جرم میں امریکی یونیورسٹیوں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

ایسا پاکستان میں بھی ہوا۔ نوبل انعام یافتہ بین الاقوامی سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام کے خیالات کو فزکس کے طالب علم محض اس بناء پر نہیں سن پائے کہ وہ بھی پاکستان میں متنازعہ بن گئے تھے۔ اسی طرح عظیم شاعر فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی بھی ایسی ہی صورتحال کا شکار ہوئے۔بہر حال یہ شخصیات علم و ادب میں اپنے نام کے باعث قابل عزت تھیں اور ہیں ۔

کراچی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر مطاہر شیخ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں انتہاپسندی کی حمایت کرنے والوں کو مدعو کیا گیا مگر ان پر کوئی بڑا اعتراض نہیں کیا گیا۔ مگر اب ایک ماڈل کو بلانے پر طلبہ کے خلاف انتہائی قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ طلباء کو اپنی اِن سرگرمیوں کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینی چاہیے تا کہ تمام سرگرمیاں طریقہ کار کے مطابق ہوں اور یونیورسٹی میں اس قسم کی بدامنی کی صورتحال پیدا نہ ہو مگر طلبہ کے لیے اتنی سخت سزا کا جواز نہیں ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ طلبہ سے نرمی برتی جانی چاہیے۔ اس وقت کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایک علمی شخصیت ہیں۔ وہ حقائق کو سمجھتے ہیں اور علمی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر طالب علموں کی اخراج کی شکل میں دی جانے والی سزا ختم کر دیں گے تا کہ ان کا علمی تسلسل بحال ہو جائے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ طالب علم ہمارا اثاثہ ہیں۔یہ نو عمر بھی ہوتے ہیں لہٰذا انھیں معاف کر دینا ہی زیادہ بہتر چیز ہے۔
Load Next Story