ایل پی جی درآمدی کمپنیاں بھی انڈرانوائسنگ میں ملوث نکلیں
کسٹمزڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کراچی کی رپورٹ میں کم ویلیو پرکلیئرنس کاانکشاف
مختلف کمپنیوں نے قومی خزانے کو1 کروڑ 81 لاکھ 2 ہزار521 روپے کا نقصان پہنچا،ذرائع فوٹو: فائل
ملک میں مائع پٹرولیم گیس کی درآمدکنندہ کمپنیاں بھی انڈرانوائسنگ میں ملوث پائی گئی ہیں جس کا انکشاف محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ انٹرنل آڈٹ کراچی نے اپنی حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیا ہے کہ ایل پی جی کے درآمدکنندگان نے انڈرانوائسنگ کے ذریعے قومی خزانے کو 1کروڑ روپے سے زائدکانقصان پہنچایا۔ یہ انکشاف مذکورہ ڈائریکٹوریٹ کی جاری کردہ ہدایات نمبر C.NO:1(1)DGI/CUS/1A/2014/131 کے تحت کیا گیا۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ درآمدکنندگان کی جانب سے ایل پی جی کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے ویلیوایشن رولنگ کو نظر اندازکرتے ہوئے درآمدی ایل پی جی کے کنسائنمنٹس کو کم ویلیوپر کلیئر کرایا گیا جس کے نتیجے میں قومی خزانہ کو مجموعی طورپر 1 کروڑ 81 لاکھ 2 ہزار521 روپے کا نقصان پہنچا۔
ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل آڈٹ کسٹمز کراچی نے دسمبر2014 کے لیے مرتب کردہ آڈٹ پروگرام کے تحت ملک میں ایل پی جی کی درآمدکنندہ کمپنیوں کا آڈٹ کیا اور ایل پی جی کے درآمدی کنسائنمنٹس کے ڈیٹاکی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہواکہ محکمہ کسٹمز کے پورٹ قاسم کلکٹریٹ سے درآمدکنندگان میں شامل میسرز پیرامائڈPYRAMID گیس لمیٹڈ، میسرزآفتاب ٹریٹر، میسرزپارکوپرل گیس اور ہزارہ ایفیشنٹ گیس کی جانب سے 1ارب 37کروڑ10لاکھ 29ہزار761روپے مالیت کی ایل پی جی درآمدکی گئی لیکن مذکورہ کمپنیوں نے انڈرانوائسنگ کے ذریعے گڈز ڈیکلریشن میں درآمدی ایل پی جی کی قیمت 1ارب 26کروڑ 11 لاکھ41ہزار83روپے ظاہرکرکے 1کروڑ81لاکھ 2ہزار521روپے مالیت کے سیلز ٹیکس کی چوری کی۔
ذرائع نے بتایاکہ انڈانوائسنگ کے تحت ایل پی جی کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر میسرزآفتاب ٹریڈرزنے ایل پی جی کے 3 کنسائمنٹس کی کلیرنس پر 1 کروڑ 13 لاکھ 31 ہزار 623 روپے، میسرز پیرامائڈ گیس لمیٹڈنے 13 لاکھ 98 ہزار 165 روپے، میسرز پار کو پرل گیس نے 1 لاکھ 90 ہزار617 روپے اورمیسرزہزارہ ایفیشنٹ گیس نے 51لاکھ 82 ہزار 116 روپے مالیت کا سیلز ٹیکس چوری کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے درآمدی گیس کی فروخت پر جی ایس ٹی کی عدم ادائیگیوں کے حوالے سے بھی ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جینس ان لینڈ ریونیو کراچی بھی تحقیقات کررہا ہے اور ملک میں درآمد ہونے والی ایل پی جی کی شمالی علاقوں میں زیادہ فروخت ظاہر کرنے والی کمپنیوں کا ڈیٹا جمع کررہا ہے۔
ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ درآمدکنندگان کی جانب سے ایل پی جی کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے ویلیوایشن رولنگ کو نظر اندازکرتے ہوئے درآمدی ایل پی جی کے کنسائنمنٹس کو کم ویلیوپر کلیئر کرایا گیا جس کے نتیجے میں قومی خزانہ کو مجموعی طورپر 1 کروڑ 81 لاکھ 2 ہزار521 روپے کا نقصان پہنچا۔
ذرائع نے بتایاکہ ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل آڈٹ کسٹمز کراچی نے دسمبر2014 کے لیے مرتب کردہ آڈٹ پروگرام کے تحت ملک میں ایل پی جی کی درآمدکنندہ کمپنیوں کا آڈٹ کیا اور ایل پی جی کے درآمدی کنسائنمنٹس کے ڈیٹاکی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہواکہ محکمہ کسٹمز کے پورٹ قاسم کلکٹریٹ سے درآمدکنندگان میں شامل میسرز پیرامائڈPYRAMID گیس لمیٹڈ، میسرزآفتاب ٹریٹر، میسرزپارکوپرل گیس اور ہزارہ ایفیشنٹ گیس کی جانب سے 1ارب 37کروڑ10لاکھ 29ہزار761روپے مالیت کی ایل پی جی درآمدکی گئی لیکن مذکورہ کمپنیوں نے انڈرانوائسنگ کے ذریعے گڈز ڈیکلریشن میں درآمدی ایل پی جی کی قیمت 1ارب 26کروڑ 11 لاکھ41ہزار83روپے ظاہرکرکے 1کروڑ81لاکھ 2ہزار521روپے مالیت کے سیلز ٹیکس کی چوری کی۔
ذرائع نے بتایاکہ انڈانوائسنگ کے تحت ایل پی جی کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس پر میسرزآفتاب ٹریڈرزنے ایل پی جی کے 3 کنسائمنٹس کی کلیرنس پر 1 کروڑ 13 لاکھ 31 ہزار 623 روپے، میسرز پیرامائڈ گیس لمیٹڈنے 13 لاکھ 98 ہزار 165 روپے، میسرز پار کو پرل گیس نے 1 لاکھ 90 ہزار617 روپے اورمیسرزہزارہ ایفیشنٹ گیس نے 51لاکھ 82 ہزار 116 روپے مالیت کا سیلز ٹیکس چوری کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے درآمدی گیس کی فروخت پر جی ایس ٹی کی عدم ادائیگیوں کے حوالے سے بھی ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جینس ان لینڈ ریونیو کراچی بھی تحقیقات کررہا ہے اور ملک میں درآمد ہونے والی ایل پی جی کی شمالی علاقوں میں زیادہ فروخت ظاہر کرنے والی کمپنیوں کا ڈیٹا جمع کررہا ہے۔