انتخابات عدلیہ یا فوج کی نگرانی میں کرانے کا تاثر درست نہیں چیف الیکشن کمشنر
عدالتی افسران کوریٹرننگ افسرتعینات کرنے کیلیے چیف جسٹس سے جوڈیشل پالیسی پرنظرثانی کی درخواست کی، مقصدنگرانی کرانا نہیں
الیکشن کمیشن ضرورت پڑنے پرفوج اورعدلیہ کی مددلے سکتا ہے،دہری شہریت والوںکیخلاف کارروائی کی جائیگی،فخرالدین ابراہیم۔ فوٹو: فائل
چیف الیکشن کمشنرجسٹس (ر)فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات فوج یا عدلیہ کی نگرانی میںکرانے کا تاثر درست نہیں،شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔
چیف جسٹس کو خط میں جوڈیشل پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے، مقصد انتخابات کی نگرانی کرانا نہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے جسٹس( ر) فخر الدین جی ابراہیم نے کہاکہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن ضرورت پڑنے پر فوج اور عدلیہ سے مدد لے سکتا ہے تاہم انتخابی عمل کی نگرانی خودکرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط میں جوڈیشل پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے اس کا مقصد انتخابات کی نگرانی کرانا نہیں۔
جوڈیشل پالیسی میں کہا گیا تھا کہ عدالتی افسران کو ریٹرننگ افسر تعینات نہیںکیا جاسکتا جس پر الیکشن کمیشن نے نظرثانی کی درخواست کی تھی۔آئی این پی کے مطابق چیف الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ دہری شہر یت والوںکیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور حلف نامے جمع کرانے کی آخری تاریخ کے بعدکارروائی کا باقاعدہ آغازکر دیا جا ئیگا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شفاف ہونگے اور میرا سارا دن کام آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے حوالے سے ہی ہوتا ہے ۔
چیف جسٹس کو خط میں جوڈیشل پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے، مقصد انتخابات کی نگرانی کرانا نہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے جسٹس( ر) فخر الدین جی ابراہیم نے کہاکہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن ضرورت پڑنے پر فوج اور عدلیہ سے مدد لے سکتا ہے تاہم انتخابی عمل کی نگرانی خودکرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط میں جوڈیشل پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے اس کا مقصد انتخابات کی نگرانی کرانا نہیں۔
جوڈیشل پالیسی میں کہا گیا تھا کہ عدالتی افسران کو ریٹرننگ افسر تعینات نہیںکیا جاسکتا جس پر الیکشن کمیشن نے نظرثانی کی درخواست کی تھی۔آئی این پی کے مطابق چیف الیکشن کمشنرکا کہنا تھا کہ دہری شہر یت والوںکیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور حلف نامے جمع کرانے کی آخری تاریخ کے بعدکارروائی کا باقاعدہ آغازکر دیا جا ئیگا۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شفاف ہونگے اور میرا سارا دن کام آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے حوالے سے ہی ہوتا ہے ۔