’’پنجاب میں اسکولوں کی حالت زار حکومتی دعوئوں کے برعکس‘‘
ضلع اوکاڑہ کے اکثر اسکولوں کی چاردیواری نہیں،کچھ کی عمارتیں گر چکیں، کئی پر زمیندار قابض
ضلع اوکاڑہ کے اکثر اسکولوں کی چاردیواری نہیں،کچھ کی عمارتیں گر چکیں، کئی پر زمیندار قابض۔ فوٹو: رائٹرز, فائل
تعلیم کے ساتھ جو سلوک پاکستان میں ہو رہا ہے وہ شاہد ہی دنیا میں کہیں اور ہوتا ہو، حکومت پنجاب تعلیم عام کرنے، اسکولوں میں سہولیات ہونے کے دعوے تو بہت کرتی ہے مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی حقیقت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
ضلع اوکاڑہ کے گرد ونواح کے دیہات میں واقع بچیوں اور بچوں کے اکثر سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے، کچھ سکولوں کی عمارتیں گر چکی ہیں اور یہ اسکول کھنڈر کا منظر پیش کر رہے، بچیوں کے اسکولوں پر زمینداروں کا قبضہ ہے جہاں مویشی بندھے ہوئے ہیں۔ کئی اسکولوں میں 10 سے 15 سال ہو چکے کلاس نہیں لگی جبکہ جن اسکولوں میں تعلیم جاری ہے وہاں بیٹھنے کیلیے ڈیسک یا بینچ نہیں، بچے ٹاٹ بھی گھر سے لیکر آتے ہیں، بارش ہو تو مجبوراً چھٹی کرنا پڑتی ہے، کئی اسکولوں میں صرف ایک ٹیچر اور بعض میں دو ٹیچر ہیں۔ یہ صورتحال ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' کے میزبان عمران خان نے اپنے پروگرام میں بتائی۔
علاقے کے لوگوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انکے علاقے میں تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم عام ہو۔ ٹیچروں نے بتایا کہ انکے اسکولوں میں کوئی سہولت نہیں ہے اگر سہولیات ہوں تو ہم بہتر تعلیم دے سکتے ہیں۔ عمران خان نے پروگرام کے اختتام سے قبل میاں منظور وٹو کے حلقے میں واقع ایک ایسا اسکول دکھایا جسکی حال میں تزئین وآرائش کی گئی تھی اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، منظور وٹو، جہانگیر منظور وٹو اور روبینہ وٹو کے نام کی تختی لگی تھی مگر یہ تختی لگنے کے بعد اسمیں ایک دن بھی کلاس نہیں ہوئی تھی اور یہ بند پڑا تھا۔
ضلع اوکاڑہ کے گرد ونواح کے دیہات میں واقع بچیوں اور بچوں کے اکثر سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے، کچھ سکولوں کی عمارتیں گر چکی ہیں اور یہ اسکول کھنڈر کا منظر پیش کر رہے، بچیوں کے اسکولوں پر زمینداروں کا قبضہ ہے جہاں مویشی بندھے ہوئے ہیں۔ کئی اسکولوں میں 10 سے 15 سال ہو چکے کلاس نہیں لگی جبکہ جن اسکولوں میں تعلیم جاری ہے وہاں بیٹھنے کیلیے ڈیسک یا بینچ نہیں، بچے ٹاٹ بھی گھر سے لیکر آتے ہیں، بارش ہو تو مجبوراً چھٹی کرنا پڑتی ہے، کئی اسکولوں میں صرف ایک ٹیچر اور بعض میں دو ٹیچر ہیں۔ یہ صورتحال ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''تکرار'' کے میزبان عمران خان نے اپنے پروگرام میں بتائی۔
علاقے کے لوگوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انکے علاقے میں تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم عام ہو۔ ٹیچروں نے بتایا کہ انکے اسکولوں میں کوئی سہولت نہیں ہے اگر سہولیات ہوں تو ہم بہتر تعلیم دے سکتے ہیں۔ عمران خان نے پروگرام کے اختتام سے قبل میاں منظور وٹو کے حلقے میں واقع ایک ایسا اسکول دکھایا جسکی حال میں تزئین وآرائش کی گئی تھی اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، منظور وٹو، جہانگیر منظور وٹو اور روبینہ وٹو کے نام کی تختی لگی تھی مگر یہ تختی لگنے کے بعد اسمیں ایک دن بھی کلاس نہیں ہوئی تھی اور یہ بند پڑا تھا۔