روسی فوج کا علیحدگی پسندوں کیخلاف بڑا آپریشن 49 ہلاک

33سال بعد بھی آزادی کی تحریکوں پر قابو نہیں پایا جاسکا، روسی صدر ولاد یمر پوتن کا اظہار ناراضی۔

سیکیورٹی افسران کو سرمائی اولمپکس اورفٹبال ورلڈ کپ کا محفوظ انعقاد یقینی بنانے کی تاکیدکردی گئی. فوٹو: اے ایف پی

روسی فوج نے ایک بڑے آپریشن کے دوران 49 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔


تاہم صدر پوتن نے شورش زدہ مسلم آبادی والے علاقوں میں تشدد بڑھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق قومی انسداد دہشت گردی کمیٹی نے بتایا ہے کہ آپریشن متعدد شورش زدہ ریاستوں میں کیا گیا ہے اور اس دوران بہت سے گوریلا کمانڈوز ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ کردیے گئے ہیں، تاہم آپریشن کا دورانیہ نہیں بتایا گیا۔

یاد رہے کہ سویت یونین ٹوٹنے کے بعد سے مسلم اکثریت والی ریاستوں چیچنیا، داغستان،انگوشتیا اور شمالی کائو کاس میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پوتن نے ایک اجلاس کے دوران اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ 33 سال بعد بھی ان علاقوں میں آزادی کی تحریکوں پر قابو نہیں پایا جاسکا، جبکہ 2014 میں سرمائی اولمپکس اور2018 میں فٹبال کا ورلڈ کپ روس میں ہونیوالا ہے۔ صدر نے سیکیورٹی افسران سے کہا کہ ان عالمی مقابلوں کا محفوظ انعقاد یقینی بنایا جائے۔
Load Next Story