ترکی میں ہولناک خود کش دھماکے کثیر ہلاکتیں

دھماکے کے بعد لوگوں نے پولیس کی گاڑیوں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور ’قاتل پولیس‘ کے نعرے لگائے۔

ترکی میں دہشت گردی اور خود کش حملے کرنے کا مقصد اس قدرے ترقی یافتہ ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرنا ہے۔ فوٹو : فائل

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امن ریلی کے دوران یکے بعد دیگرے دو خود کش دھماکوں میں 86 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہوگئے۔ اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دھماکے شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت ہوئے جب وہاں بائیں بازو کی کُرد نواز سیاسی جماعت ایچ ڈی پی کی جانب سے 'کام، امن اور جمہوریت' کے عنوان سے ریلی نکالی جا رہی تھی جس کا مقصد کرد علیحدگی پسند گروپ 'پی کے کے' کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ جدید ترکی میں یہ تاریخ کا مہلک ترین حملہ ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ حملے ہمارے اتحاد اور ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں۔'' یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خود کُش حملہ دہشت گردوں کا ایک ایسا مہلک ہتھیار ہے جس کا یقینی توڑ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب تک دریافت نہیں کر سکے۔


ویسے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والا اصولاً تو وہ ہونا چاہیے جسے اپنے مشن کی سچائی پر کامل اعتقاد ہو لیکن ہم نے اپنے یہاں خوکُش حملوں کی گزشتہ لہر کے دوران یہ دیکھا کہ یہ کام کم عمر لڑکوں کی برین واشنگ کر کے بھی لیا گیا۔ تاہم ترکی میں ہونے والے اس سانحے میں عالمی طاقتوں کی ایک دیرینہ ناانصافی کا بھی دخل ہے جو کرد مسلمانوں کی قوم کو چار ممالک یعنی عراق، شام، ترکی اور ایران میں تقسیم کر کے جنگ عظیم کے زمانے میں کی گئی تھی، جس کا تاحال مداوا نہیں ہو سکا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان منقسم کرد باشندوں سے متذکرہ چاروں ممالک میں کوئی اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ انھیں اپنی نمایندگی سے محروم رکھا جاتا ہے، چنانچہ وہ تنگ آمد بجنگ آمد کی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ ترک وزیر اعظم احمد اوغلو نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کے خودکش ہونے کے قوی شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے کہا دہشتگردی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بھی دھماکوں کو خودکُش حملے قرار دیا۔ ترکی میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں لوگوںکو گھبراہٹ میں بھاگتے اور خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد لوگوں نے پولیس کی گاڑیوں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور 'قاتل پولیس' کے نعرے لگائے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ پاکستان نے انقرہ حملوںکی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ترک عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی اور اس کے تمام مظاہر کی مذمت کرتا ہے۔ یورپی یونین کے فارن پالیسی چیف نے ترک حکومت اور عوام سے دہشتگردوں کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسس اولاندے، روسی صدر پوٹن، امریکی سفیر جان باس نے بھی حملوںکی مذمت کی اور ترک عوام سے اظہار ہمدری کیا۔ جب سے شام اور عراق کا بحران پیدا ہوا ہے اور یہاں داعش کا ظہور ہوا اس وجہ سے بھی ترکی میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ ترکی میں دہشت گردی اور خود کش حملے کرنے کا مقصد اس قدرے ترقی یافتہ ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرنا ہے۔ ترک حکومت کو ان خطرات کو سامنے رکھ کر اپنے معاملات کو ہینڈل کرنا چاہیے۔
Load Next Story