او آئی سی کی قرارداد

او آئی سی مسلم ممالک کے مسائل اور تنازعات کے حوالے سے عموماً غیر فعال رہی ہے،

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

DADU:
او آئی سی مسلم ممالک کے مسائل اور تنازعات کے حوالے سے عموماً غیر فعال رہی ہے، اس طرز عمل کی وجہ سے عام تاثر یہ ہے کہ اس تنظیم کا شمار نہ زندوں میں ہے نہ مُردوں میں، اس تاثر کی وجہ یہ ہے کہ اس تنظیم کی تشکیل کا بنیادی مقصد ہی مسلم ممالک کے مسائل حل کرانا رہا ہے، مسلم ملکوں کے عوام جب اس تناظر میں او آئی سی کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کا مایوس ہونا ایک فطری اور منطقی بات ہے۔ او آئی سی کی غیر فعالیت کا ایک بڑا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس پر امریکی آسیب کا منحوس سایہ ہے جو اپنی ذیلی یا حلقہ اثر کی تنظیموں کو کسی ایسے مسئلے کے حل کی اجازت نہیں دیتا جس سے اس کے سیاسی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہوں۔ اور اپنی ذیلی یا زیر اثر تنظیموں سے ایسے مسائل حل کرنے کا کام لیتا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو۔

مسلم دنیا کے دو بڑے مسائل ہیں ایک فلسطین دوسرا کشمیر۔ عموماً ان دو عالمی مسائل کو مسلم مسائل اور مسلمانوں کے مفادات کے مسائل سمجھا جاتا ہے اور مسلمانوں کی اکثریت بھی ان مسائل کو اسی تناظر میں دیکھتی ہے۔ لیکن ان مسائل کی صرف یہی ایک جہت نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی اس سے کہیں وسیع بلکہ عالمی اہمیت ہے اور اہل بصیرت، اہل دانش ان مسائل کو اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ملکوں کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ''دفاع'' کے نام پر اربوں کے ہتھیاروں کی خریداری پر لگ جاتا ہے جس کا فائدہ مغرب کی اسلحے کی صنعت کو ہوتا ہے۔ اگر اسلحے کی خریداری کی اس بھاری رقوم کو اس خطے کے غریب عوام کی معاشی حالت سدھارنے میں استعمال کیا جائے تو غریب ہندو اور غریب مسلمان دونوں ہی قوموں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس مسئلے کی وجہ سے عام ہندو اور عام مسلمانوں کے درمیان نفرت اور بے اعتمادی کی ایک ایسی غیر منطقی فضا بن گئی ہے جو سیکڑوں سال تک بھائیوں کی طرح رہنے والے ہندو اور مسلمانوں کو نہ صرف اجنبی بنا کر رکھ دیتی ہے بلکہ ان میں تعصبات اور نفرتوں کی آبیاری کرکے خدا کی اس مخلوق کو ایک دوسرے سے برسر پیکار بھی کر دیتی ہے۔


نیویارک میں 57 رکنی اس تنظیم کے وزرائے خارجہ نے اپنے سالانہ اجلاس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے موقف بڑے احمقانہ ہیں ایک موقف یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب اس قدر پرانی ہو گئی ہیں اور حالات اس قدر بدل گئے ہیں کہ اب ان قراردادوں پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں سچ، حق اور انصاف پر مبنی ہیں اور سچ حق اور انصاف پرانے نہیں ہوتے نہ کبھی ناقابل عمل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بھارتی حکمرانوں کا دوسرا جواز یہ ہے کہ بھارتی آئین کی رو سے کشمیر بھارت کا حصہ اور اٹوٹ انگ ہے لہٰذا اس پر بات نہیں کی جا سکتی۔ پہلی بات یہ ہے کہ آئین خواہ وہ کسی ملک کا ہو کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا کہ اس میں تبدیلی نہ کی جائے، یہ انسانوں کی بنائی ہوئی ایک دستاویز ہوتی ہے جو حکومتوں کو گائیڈ کرتی ہے اور اس دستاویز میں ملک کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور حسب ضرورت اس میں تبدیلی اضافہ اور کمی کی جاتی ہے، دوسری بات یہ کہ اس آئین میں کشمیر کی ایک ایسی خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے جو کشمیر کو متنازعہ حیثیت دیتی ہے۔

یہ تو قانونی اور آئینی لفاظیاں ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا کشمیر کے عوام خود کو بھارت کا شہری تسلیم نہیں کرتے ہیں کیونکہ 68 سال سے مسلسل کوششوں اور 7 لاکھ فوج کشمیریوں کے سروں پر مسلط کرنے کے باوجود بھارتی حکمران کشمیریوں کو اپنا حامی نہ بنا سکے اور اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کشمیر کے طول و عرض میں پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ہم اس نئی صورت حال کو محض کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ کشمیریوں کے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سیاسی حوالے سے بھارت کے دو دعوے ہیں ایک یہ کہ وہ سیکولر ملک ہے، دوسرا یہ کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ کیا یہ دونوں دعوے بھارتی حکمرانوں کے طرز عمل پر پورے اترتے ہیں؟ اگر کشمیر کے تناظر میں ان دعوؤں کو دیکھا جائے تو افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کے یہ دونوں دعوے جھوٹے اور لغو ہیں۔

بھارت کی ابتدائی قیادت آج کی تنگ نظر قیادت کے مقابلے میں زیادہ وسیع النظر مانی جاتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نہرو اور اس کے ساتھیوں نے قومی مفادات کے حصار میں قید ہو کر کشمیر پر قبضے کے مستقبل پر پڑنے والے مضر اثرات کا اندازہ نہیں کیا آج بھارت طاقت کے بل پر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ تو کہہ رہا ہے لیکن غالباً اسے اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ کشمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کا جمہوری چہرہ کس قدر سرخ ہو کر رہ گیا ہے۔ پھر حالیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس میں پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو جس طرح اجاگر کیا اور ایک اصولی اور جرأت مندانہ موقف اختیار کیا اس کا اثر اسمبلی کے شرکا پر پڑنا لازمی تھا۔ بھارتی قیادت ابھی تک تنگ نظرانہ اور مفاد پرستانہ قوم پرستی کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکی جب کہ دنیا اب بہت بدل چکی ہے اب قومی مفادات آہستہ آہستہ عالمی مفادات کے نیچے آ رہے ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ساری دنیا کو ایک گاؤں میں بدل کر رکھ دیا ہے اب کوئی ملک یا قوم دنیا سے الگ تھلگ رہ کر زندہ نہیں رہ سکتا آج ایک ملک کے مسائل دنیا کے مسائل سے جڑ گئے ہیں ایسی بدلی ہوئی دنیا میں بھارت محض کشمیر کی وجہ سے ساری دنیا میں اپنا جمہوری چہرہ مسخ کر رہا ہے۔

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی مسئلہ کشمیر پر متفقہ قرارداد سے اندازہ ہو رہا ہے کہ او آئی سی دوبارہ جان پکڑ رہی ہے او آئی سی بلاشبہ مسلم ملکوں کی نمایندہ تنظیم ہے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر اہم اداروں کی طرح اس پر بھی امریکی آسیب سوار ہے اور امریکا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مسلم ملکوں کو زیر تسلط رکھ کر ان سے اپنے عالمی مفادات پورے کرنے کا کام لے۔ اس سیاست میں عرب بادشاہوں نے امریکا کی بہت مدد کی اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ او آئی سی کی قیادت کا تعلق بھی عرب دنیا سے ہے اگر او آئی سی دنیا کے 57 مسلم ملکوں کی نمایندگی کی دعویدار ہے تو پھر اسے کشمیر اور فلسطین جیسے مسئلوں پر واضح اور منصفانہ موقف اختیار کرنا پڑے گا۔
Load Next Story