مزار قائد بھی لے جائیں
ہر خاندان میں یوں تو متعدد افراد ہوتے ہیں اور ان کی انفرادیت مختلف ہوتی ہے
لاہور:
ہر خاندان میں یوں تو متعدد افراد ہوتے ہیں اور ان کی انفرادیت مختلف ہوتی ہے اور جو سب سے زیادہ کماتا ہے اور اپنی آمدنی سے سارے خاندان کے اخراجات اٹھا کر سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اس کی خاندان میں اہمیت بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کا کہا بھی مانا جاتا ہے اور کبھی اس کے نخرے بھی برداشت کیے جاتے ہیں، اس کا سب سے زیادہ خیال بھی رکھا جاتا ہے، وہ کماؤ پُتر کہلاتا ہے اور خاندان میں اس کی عزت بھی دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستان بھی چاروں صوبوں کا ایک خاندان ہے جس میں اس کی ایک شہ رگ کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا بھی شامل ہے اور کوئی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ ملک بھر میں سیکڑوں چھوٹے بڑے شہر ہیں اور ملک کا سب سے بڑا اور دنیا بھر میں مشہور شہر کراچی ہے جو قیام پاکستان کے بعد ملک کا دارالحکومت قرار پایا تھا۔ کراچی کو یہ اعزاز بانی پاکستان قائداعظم نے دیا تھا اور اس وقت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ملک کے دو بڑے صوبے تھے۔ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے ہزار میل دور تھا مگر قائداعظم کے فیصلے سے کسی نے اختلاف نہیں کیا تھا۔
راقم کو کراچی آئے 25 سال گزرے ہیں اور میں نے اپنے آبائی شہر شکارپور سے کراچی آنا جانا تقریباً 45 سال قبل شروع کیا تھا اور اس خوبصورت اور پرامن شہر سے واپس جانے کو دل نہیں کرتا تھا۔ کراچی اس وقت واقعی روشنیوں کا شہر اور شاہراہ فیصل سب سے مصروف اور روشنیوں سے جگمگاتی شاہراہ تھی، اسی وقت کراچی میں بسوں کے علاوہ ٹرامیں اور ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلا کرتی تھیں اور کراچی کا سمندر اور روشنیاں دیکھنے ملک بھر سے لوگ آیا کرتے تھے اور ملک بھر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے لوگ بھی کراچی میں رہتے تھے۔
1958 کے مارشل لا کے بعد پہلے فوجی صدر جنرل محمد ایوب خان نے ملک کا نیا دارالحکومت اسلام آباد کو بنایا جس سے ملک کو منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا خوبصورت نیا شہر اسلام آباد تو مل گیا اور کراچی سے دارالحکومت منتقل ہوجانے سے کراچی متاثر تو ہوا مگر کراچی کی اہمیت بڑھتی گئی کیونکہ کراچی ساحل سمندر پر ہی واقع نہیں تھا بلکہ یہاں سب سے زیادہ صنعتیں اور ملک کی واحد بندرگاہ بھی کراچی ہی تھا۔ کراچی کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ بانی پاکستان اور شہید ملت بھی کراچی میں دفن کیے گئے تھے اور بعد میں سردار عبدالرب نشتر، محترمہ فاطمہ جناح و دیگر قائدین بھی مزار قائد پر سپرد خاک کیے گئے۔
کراچی سے دارالحکومت منتقل ہوجانے کے بعد بھی کراچی کی اہمیت اور آبادی مسلسل بڑھتی رہی اور کراچی منی پاکستان قرار پایا۔ راقم کو یاد ہے کہ جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ کے دور میں مختلف ممالک کے سربراہ جب بھی پاکستان آتے ان کی پہلی منزل کراچی ہوا کرتی تھی۔ وہ کراچی ایئرپورٹ پر اتر کر شاہراہ فیصل کے راستے مزار قائد پر خصوصی طور پر حاضری دیتے اور مسلم حکمران فاتحہ خوانی کرتے تھے۔ اس وقت شاہراہ فیصل جو غالباً ڈرگ روڈ کے نام سے مشہور تھی اور اس اہم سڑک کے درمیان اور دونوں طرف نصب بجلی کے پولز پر دو اضافی ڈنڈے لگے ہوتے تھے اور کسی غیر ملکی سربراہ کے کراچی آنے پر ہر پول کے دونوں ڈنڈوں پر متعلقہ ملک اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جاتے تھے۔
فوجی دور کے بعد بھٹو صاحب کا عوامی دور شروع ہوا۔ سقوط ڈھاکہ سے ملک دولخت ہوچکا تھا۔ عوامی دور میں کراچی نظر انداز کیا جانے لگا۔ اسلامی ممالک کی پہلی سربراہ کانفرنس بھٹو صاحب نے کراچی کے بجائے لاہور میں منعقد کروائی حالانکہ اس وقت بھی کراچی انتہائی پرامن شہر تھا۔ عوام دہشت گردی کے نام سے بھی واقف نہیں تھے اور بعد میں ہر عوامی اور فوجی سربراہ کی توجہ اسلام آباد پر ہی مرکوز ہوکر رہ گئی۔
اب پہلے کی طرح غیر ملکی سربراہ پاکستان آتے نہیں اور جو آتے ہیں انھیں اسلام آباد تک محدود رکھا جاتا ہے اور اب اسلام آباد ہی پاکستان ہے جب کہ اس سے قبل غیر ملکی سربراہوں کو کراچی اور لاہور بھی لایا جاتا تھا۔ شریف برادران کا شہر لاہور پھر بھی خوش قسمت ہے کہ بعض غیر ملکی سربراہوں کو لاہور دکھا دیا جاتا ہے اور اب کئی عشروں سے کوئی غیر ملکی سربراہ پشاور اور کوئٹہ تو کیا کراچی بھی نہیں لایا جاتا اور غیر ملکی وزیروں کا دورہ بھی اسلام آباد تک محدود رکھا جاتا ہے اور غیر ملکی سربراہ اگر پاکستان آتے ہیں تو انھیں بانی پاکستان کے مزار پر حاضری کے لیے نہیں لایا جاتا۔
اسلام آباد خوبصورت اور جدید شہر تو ہے مگر وہاں ہمارے کسی بھی قومی رہنما کا مزار نہیں ہے اور اگر کوئی غیر ملکی سربراہ لاہور آئے تو اس سے علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دلوا دی جاتی ہے۔ کراچی کی آمدنی سے پورا ملک چل رہا ہے۔ ملکی آمدنی کا 62 فیصد سے زائد کراچی فراہم کرتا ہے۔ دو کروڑ آبادی سے بھی زیادہ افراد کا شہر کراچی اب غیر ملکی وزرا تو کیا اپنے ملک کے وزیروں کی آمد سے بھی محروم ہے ملکی وزیر بھی کراچی کو اہمیت نہیں دیتے اور وہ بھی بعض اداروں کی دعوت پر ہی کراچی آنا گوارا کرتے ہیں۔ مزار قائد پر حاضری سال میں ایک دو بار صرف سندھ کے حکمرانوں تک محدود ہوگئی ہے۔ خود ہمارے نومنتخب صدر اور وزیر اعظم بھی حلف اٹھاتے ہی کراچی آکر اپنے محسن اور بانی پاکستان کے مزار پر حاضر ہونا ضروری نہیں سمجھتے اور عشروں سے مزار قائد کسی غیر ملکی حکمران کی آمد کی راہ تک رہا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کو اہمیت نہیں دیتیں اور نہ اپنے بجٹ میں کراچی کو ترجیح دیتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں کراچی کو صرف گرین لائن بس منصوبے کے قابل سمجھا جب کہ کے فور منصوبہ کراچی کی اشد ضرورت ہے۔ شہری پانی کو ترس رہے ہیں کے الیکٹرک نے کراچی کی روشنیاں بجھا دی ہیں، روشنیوں کا شہر خواب بن چکا ہے۔ لوگ پہلے روشنیاں دیکھنے کراچی آتے تھے اب کراچی والے جان اور بھتے کے خوف سے اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔ کے الیکٹرک اب کراچی کا سب سے بڑا اور بااثر مافیا بن چکا ہے جس کے خلاف روز احتجاج ہوتا ہے مگر حکومت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کراچی کی سیکڑوں صنعتیں بند پڑی ہیں اور کراچی سے باہر منتقل ہو رہی ہیں۔ ملک بھر کے بیروزگار پہلے کراچی آکر روزگار حاصل کرتے تھے مگر اب ملک بھر سے جرائم پیشہ عناصر اور رشوت خور کراچی کو لوٹ رہے ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کرنے کو حکومت جرم نہیں سمجھتی۔ کراچی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر سندھ اور وفاقی حکومت کے نزدیک کراچی میں سب کچھ ٹھیک ہے۔
کراچی کا مزار قائد اب تفریح گاہ بن چکا ہے۔ بانی پاکستان اور قائدین کی آخری آرام گاہ اب بدقماشوں اور جرائم پیشہ عناصر کا مسکن بھی ہے اور شرمناک واقعات بھی منظر عام پر آچکے ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ وفاقی حکومت کچھ اور کرے نہ کرے مزار قائد پر موجود قائدین کے احترام اور ان کی ارواح کو مطمئن اور پرسکون رکھنے کے لیے مزار قائد کو بھی اسلام آباد منتقل کروا دے تاکہ غیر ملکی حکمرانوں کو بانی پاکستان کے متعلق کچھ بتایا جاسکے۔
ہر خاندان میں یوں تو متعدد افراد ہوتے ہیں اور ان کی انفرادیت مختلف ہوتی ہے اور جو سب سے زیادہ کماتا ہے اور اپنی آمدنی سے سارے خاندان کے اخراجات اٹھا کر سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اس کی خاندان میں اہمیت بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کا کہا بھی مانا جاتا ہے اور کبھی اس کے نخرے بھی برداشت کیے جاتے ہیں، اس کا سب سے زیادہ خیال بھی رکھا جاتا ہے، وہ کماؤ پُتر کہلاتا ہے اور خاندان میں اس کی عزت بھی دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستان بھی چاروں صوبوں کا ایک خاندان ہے جس میں اس کی ایک شہ رگ کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا بھی شامل ہے اور کوئی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ ملک بھر میں سیکڑوں چھوٹے بڑے شہر ہیں اور ملک کا سب سے بڑا اور دنیا بھر میں مشہور شہر کراچی ہے جو قیام پاکستان کے بعد ملک کا دارالحکومت قرار پایا تھا۔ کراچی کو یہ اعزاز بانی پاکستان قائداعظم نے دیا تھا اور اس وقت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ملک کے دو بڑے صوبے تھے۔ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے ہزار میل دور تھا مگر قائداعظم کے فیصلے سے کسی نے اختلاف نہیں کیا تھا۔
راقم کو کراچی آئے 25 سال گزرے ہیں اور میں نے اپنے آبائی شہر شکارپور سے کراچی آنا جانا تقریباً 45 سال قبل شروع کیا تھا اور اس خوبصورت اور پرامن شہر سے واپس جانے کو دل نہیں کرتا تھا۔ کراچی اس وقت واقعی روشنیوں کا شہر اور شاہراہ فیصل سب سے مصروف اور روشنیوں سے جگمگاتی شاہراہ تھی، اسی وقت کراچی میں بسوں کے علاوہ ٹرامیں اور ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلا کرتی تھیں اور کراچی کا سمندر اور روشنیاں دیکھنے ملک بھر سے لوگ آیا کرتے تھے اور ملک بھر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے لوگ بھی کراچی میں رہتے تھے۔
1958 کے مارشل لا کے بعد پہلے فوجی صدر جنرل محمد ایوب خان نے ملک کا نیا دارالحکومت اسلام آباد کو بنایا جس سے ملک کو منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا خوبصورت نیا شہر اسلام آباد تو مل گیا اور کراچی سے دارالحکومت منتقل ہوجانے سے کراچی متاثر تو ہوا مگر کراچی کی اہمیت بڑھتی گئی کیونکہ کراچی ساحل سمندر پر ہی واقع نہیں تھا بلکہ یہاں سب سے زیادہ صنعتیں اور ملک کی واحد بندرگاہ بھی کراچی ہی تھا۔ کراچی کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ بانی پاکستان اور شہید ملت بھی کراچی میں دفن کیے گئے تھے اور بعد میں سردار عبدالرب نشتر، محترمہ فاطمہ جناح و دیگر قائدین بھی مزار قائد پر سپرد خاک کیے گئے۔
کراچی سے دارالحکومت منتقل ہوجانے کے بعد بھی کراچی کی اہمیت اور آبادی مسلسل بڑھتی رہی اور کراچی منی پاکستان قرار پایا۔ راقم کو یاد ہے کہ جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ کے دور میں مختلف ممالک کے سربراہ جب بھی پاکستان آتے ان کی پہلی منزل کراچی ہوا کرتی تھی۔ وہ کراچی ایئرپورٹ پر اتر کر شاہراہ فیصل کے راستے مزار قائد پر خصوصی طور پر حاضری دیتے اور مسلم حکمران فاتحہ خوانی کرتے تھے۔ اس وقت شاہراہ فیصل جو غالباً ڈرگ روڈ کے نام سے مشہور تھی اور اس اہم سڑک کے درمیان اور دونوں طرف نصب بجلی کے پولز پر دو اضافی ڈنڈے لگے ہوتے تھے اور کسی غیر ملکی سربراہ کے کراچی آنے پر ہر پول کے دونوں ڈنڈوں پر متعلقہ ملک اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جاتے تھے۔
فوجی دور کے بعد بھٹو صاحب کا عوامی دور شروع ہوا۔ سقوط ڈھاکہ سے ملک دولخت ہوچکا تھا۔ عوامی دور میں کراچی نظر انداز کیا جانے لگا۔ اسلامی ممالک کی پہلی سربراہ کانفرنس بھٹو صاحب نے کراچی کے بجائے لاہور میں منعقد کروائی حالانکہ اس وقت بھی کراچی انتہائی پرامن شہر تھا۔ عوام دہشت گردی کے نام سے بھی واقف نہیں تھے اور بعد میں ہر عوامی اور فوجی سربراہ کی توجہ اسلام آباد پر ہی مرکوز ہوکر رہ گئی۔
اب پہلے کی طرح غیر ملکی سربراہ پاکستان آتے نہیں اور جو آتے ہیں انھیں اسلام آباد تک محدود رکھا جاتا ہے اور اب اسلام آباد ہی پاکستان ہے جب کہ اس سے قبل غیر ملکی سربراہوں کو کراچی اور لاہور بھی لایا جاتا تھا۔ شریف برادران کا شہر لاہور پھر بھی خوش قسمت ہے کہ بعض غیر ملکی سربراہوں کو لاہور دکھا دیا جاتا ہے اور اب کئی عشروں سے کوئی غیر ملکی سربراہ پشاور اور کوئٹہ تو کیا کراچی بھی نہیں لایا جاتا اور غیر ملکی وزیروں کا دورہ بھی اسلام آباد تک محدود رکھا جاتا ہے اور غیر ملکی سربراہ اگر پاکستان آتے ہیں تو انھیں بانی پاکستان کے مزار پر حاضری کے لیے نہیں لایا جاتا۔
اسلام آباد خوبصورت اور جدید شہر تو ہے مگر وہاں ہمارے کسی بھی قومی رہنما کا مزار نہیں ہے اور اگر کوئی غیر ملکی سربراہ لاہور آئے تو اس سے علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دلوا دی جاتی ہے۔ کراچی کی آمدنی سے پورا ملک چل رہا ہے۔ ملکی آمدنی کا 62 فیصد سے زائد کراچی فراہم کرتا ہے۔ دو کروڑ آبادی سے بھی زیادہ افراد کا شہر کراچی اب غیر ملکی وزرا تو کیا اپنے ملک کے وزیروں کی آمد سے بھی محروم ہے ملکی وزیر بھی کراچی کو اہمیت نہیں دیتے اور وہ بھی بعض اداروں کی دعوت پر ہی کراچی آنا گوارا کرتے ہیں۔ مزار قائد پر حاضری سال میں ایک دو بار صرف سندھ کے حکمرانوں تک محدود ہوگئی ہے۔ خود ہمارے نومنتخب صدر اور وزیر اعظم بھی حلف اٹھاتے ہی کراچی آکر اپنے محسن اور بانی پاکستان کے مزار پر حاضر ہونا ضروری نہیں سمجھتے اور عشروں سے مزار قائد کسی غیر ملکی حکمران کی آمد کی راہ تک رہا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کو اہمیت نہیں دیتیں اور نہ اپنے بجٹ میں کراچی کو ترجیح دیتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں کراچی کو صرف گرین لائن بس منصوبے کے قابل سمجھا جب کہ کے فور منصوبہ کراچی کی اشد ضرورت ہے۔ شہری پانی کو ترس رہے ہیں کے الیکٹرک نے کراچی کی روشنیاں بجھا دی ہیں، روشنیوں کا شہر خواب بن چکا ہے۔ لوگ پہلے روشنیاں دیکھنے کراچی آتے تھے اب کراچی والے جان اور بھتے کے خوف سے اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔ کے الیکٹرک اب کراچی کا سب سے بڑا اور بااثر مافیا بن چکا ہے جس کے خلاف روز احتجاج ہوتا ہے مگر حکومت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کراچی کی سیکڑوں صنعتیں بند پڑی ہیں اور کراچی سے باہر منتقل ہو رہی ہیں۔ ملک بھر کے بیروزگار پہلے کراچی آکر روزگار حاصل کرتے تھے مگر اب ملک بھر سے جرائم پیشہ عناصر اور رشوت خور کراچی کو لوٹ رہے ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کرنے کو حکومت جرم نہیں سمجھتی۔ کراچی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر سندھ اور وفاقی حکومت کے نزدیک کراچی میں سب کچھ ٹھیک ہے۔
کراچی کا مزار قائد اب تفریح گاہ بن چکا ہے۔ بانی پاکستان اور قائدین کی آخری آرام گاہ اب بدقماشوں اور جرائم پیشہ عناصر کا مسکن بھی ہے اور شرمناک واقعات بھی منظر عام پر آچکے ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ وفاقی حکومت کچھ اور کرے نہ کرے مزار قائد پر موجود قائدین کے احترام اور ان کی ارواح کو مطمئن اور پرسکون رکھنے کے لیے مزار قائد کو بھی اسلام آباد منتقل کروا دے تاکہ غیر ملکی حکمرانوں کو بانی پاکستان کے متعلق کچھ بتایا جاسکے۔