الزامات اور جوابی الزامات

اصل میں اس کلچر کے فروغ میں ہمارے وڈیرہ شاہی نظام کا بڑا ہاتھ ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ویسے تو ہماری سیاست میں ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا کلچر بہت پرانا ہے لیکن پچھلے چند سالوں کے دوران یہ کلچر اس قدرمضبوط ہوگیا ہے کہ عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ہی الزامات اور جوابی الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ اس کلچر کے استحکام میں حکمران مسلم لیگ اور تحریک انصاف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹی رہنا چاہتی ہے اور تحریک انصاف ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سیاست میں حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار ہمیشہ کھینچا تانی کی مشکل میں موجود رہتا ہے اور یہ بیماری جمہوریت کی ناگزیر بیماری ہے جس کا مشاہدہ ہم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کرسکتے ہیں لیکن پسماندہ ملکوں میں یہ بیماری طاعون کی طرح پھیلی ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے اگر ہم پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو پاکستان اس کلچر میں سرفہرست نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستانی سیاست اور جمہوریت میں عوام کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہے۔

جمہوریت رائے عامہ سے عبارت ہے لیکن جس جمہوریت میں عوام کا کردار صرف اتنا ہو کہ انھیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر پولنگ اسٹیشنوں تک لایا جائے اور اپنی مرضی کے مطابق انھیں اپنے نشانوں پر ٹھپہ لگوا کر ان کے ووٹ حاصل کیے جائیں تو یہ سیاست غنڈہ گردی تو ہو سکتی ہے جمہوریت ہر گز نہیں ہوسکتی۔

اصل میں اس کلچر کے فروغ میں ہمارے وڈیرہ شاہی نظام کا بڑا ہاتھ ہے۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ہمارے ملک کے اقتدار پر وڈیروں، جاگیرداروں نے قبضہ کرلیا اور اپنی رعیت کو انتخابات میں اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے روبوٹ کی طرح استعمال کیا۔ شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کے دور کے بعد جو ہزاروں سالوں پر پھیلا ہوا تھا اس کی باقیات جاگیرداروں اور وڈیروں نے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کرنا شروع کیا اس کلچر کے خاتمے کے لیے نو آبادیاتی نظام کے بعد آزاد ہونے والے ملکوں نے پہلا کام یہ کیا کہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا۔ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے نتیجے میں جاگیرداروں کا ووٹ بینک (رعیت) ٹوٹ گیا اور وڈیرے جاگیردار سیاسی زندگی میں اچھوت بن کر رہ گئے۔


پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ تقسیم کے نتیجے میں جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے وہ انتہائی پسماندہ نظام جاگیرداری، سرداری، خوانینی اور قبائلی نظاموں میں جکڑے ہوئے تھے، اس کے برخلاف ہندوستان کے حصے میں آنے والے علاقوں کا بڑا حصہ صنعتی کلچر پر مشتمل تھا جو علاقے جاگیردارانہ کلچر کے زیر سایہ تھے۔ انھیں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے ذریعے آزاد کرالیا گیا پاکستان میں سیاست اور اقتدار پر جاگیرداروں اور وڈیروں کے قبضے کی وجہ یہ رہی کہ یہ طبقات تقسیم کے نتائج سے خوفزدہ ہوکر تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ میں شامل ہی نہیں ہوئے بلکہ اس کی قیادت کا حصہ بن گئے اور تقسیم کے بعد بڑی آسانی سے سیاست اور اقتدار پر قابض ہوگئے۔

اس پس منظر میں جانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ 1947 کے بعد ملک میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس کے کردار ماضی کی شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کے ہی کردار ہیں۔ قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی دو خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ذاتی اور قبائلی دشمنی اس کلچر کا حصہ ہوتی ہے اور اس کلچر کے کردار ذاتی اور طبقاتی مفادات کی خاطر اصولوں اور اخلاقی حدوں کو جوتوں تلے دبا دیتے ہیں۔ جمہوریت کچھ اصولوں اور کچھ اخلاقیات سے مشروط ہوتی ہے جس میں ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے الزامات اور جوابی الزامات توہین اور جوابی توہین کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس پس منظر میں اگر ہم اپنی مروجہ سیاست پر نظر ڈالیں تو اس کے گھٹیا پن کی اصل وجوہات آپ کے سامنے آجائیں گی اور اس کے اداکاروں کے کردار کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوجائے گی۔

جمہوری نظام میں انتخابات خواہ وہ قومی ہوں ضمنی ہوں یا بلدیاتی عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے لڑے جاتے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت عوام کے سامنے اپنا انتخابی ایجنڈہ پیش کرتی ہے اور عوام اس ایجنڈے کو دیکھ کر اپنا ووٹ اس پارٹی کے امیدوار کو دیتے ہیں جس کے ایجنڈے کو وہ اپنے مسائل کے حل میں معاون اور موثر سمجھتے ہیں۔ اس حقیقت کے پس منظر میں اگر ہم اپنی انتخابی مہموں کا جائزہ لیں تو ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔

کوئی جماعت کوئی امیدوار کی زبان پر نہ عوام کے مسائل کا ذکر ہے نہ جماعت کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی انتخابی ایجنڈہ ہے اگر کچھ ہے تو الزامات اور جوابی الزامات ہیں توہین اور جوابی توہین ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اربوں روپوں کی کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات جھوٹے ہیں نہ بے بنیاد ہیں ۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ جس کو جتنا موقعہ مل رہا ہے وہ اس کے مطابق عوام کی دولت کی لوٹ مار میں مصروف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس لوٹ مار کے محض الزامات اور جوابی الزامات سے لوٹ مار ختم ہوجائے گی؟

اس لوٹ مار میں حکمران اور اپوزیشن دونوں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طبقات میں نہ عوام شامل ہیں نہ عوام کسی حوالے سے اس کا حصہ ہیں۔ 68 سالوں سے یہ سلسلہ اس لیے بلاروک ٹوک چل رہا ہے کہ حکمران اور اپوزیشن اسی درخت (کرپشن) کی ٹہنیاں ہیں اور اس کے ڈانڈے ماضی کے شخصی اور خاندانی نظام سے ملتے ہیں جس میں عوام نہیں ہوتے تھے بلکہ رعایا ہوتی تھی جس کا کام حکمرانوں کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنا ہوتا تھا۔ کیا کوئی جماعت کوئی رہنما ایسا ہے جو محض الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست کرنے کے بجائے ان ملزموں کوکیفر کردار تک پہنچانے کا عزم اور صلاحیت رکھتے ہوں؟
Load Next Story