پاکستان انگلینڈ کی ایشنر فتح کا نشہ ہرن کرنے کیلیے تیار
کمر کی تکلیف کے سبب یاسر شاہ کی آج شروع ہونے والے ابوظبی ٹیسٹ میں شرکت مشکوک
ابوظبی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق ورزش کررہے ہیں ،انگلینڈ سے 3میچز کی ٹیسٹ سیریز کا آغاز آج ہوگا ۔ فوٹو : اے ایف پی
پاکستان انگلینڈ کی ایشز فتح کا نشہ ہرن کرنے کیلیے تیار ہے، کمر کی تکلیف کے سبب پہلے ٹیسٹ میں یاسر شاہ کی شرکت مشکوک ہوگئی، حتمی فیصلہ صبح میچ سے قبل کیا جائیگا، لیگ اسپنر کی عدم دستیابی پر اضافی پیسر کھلانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے،کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فتح کا مشن مکمل کرنے کیلیے بیٹسمینوں کو بڑی ذمہ داری لینا ہوگی، مہمان اسپنرز کے کم تجربہ کا بھرپور فائدہ اٹھانا اور پیسرز کو سنبھل کر کھیلنا ہوگا۔
انگلش ٹیم بھی پیر کی انجری کا شکار اسٹیون فن کی خدمات سے محروم ہوگئی، معین علی اوپنر، جونی بیراسٹو 5 ویں نمبر پر بیٹنگ کیلیے آئیں گے، جوز بٹلر کو بحیثیت وکٹ کیپر بیٹسمین میدان میں اتارا جائے گا، اسپنر عادل راشد کا ڈیبیو ہوگا۔کپتان الیسٹرکک نے یاسر شاہ کی انجری کو میزبانوں کیلیے بھاری نقصان قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور انگلینڈ کے مابین یواے ای میں شیڈول سیریز کا پہلا ٹیسٹ آج سے ابوظبی میں شروع ہوگا، میزبان ٹیم نے 2012 میں اسپنرز سعید اجمل اور عبدالرحمان کی شاندار بولنگ کی بدولت اس وقت کی عالمی نمبرایک انگلش سائیڈ کو 3-0سے کلین سویپ کیا تھا۔
ایشز فتح سے پر اعتماد ٹیم کیلیے اس بار بھی اسپن کا جال بچھایا جاچکا ، پاکستان یاسر شاہ اور ذوالفقاربابر کے ذریعے ماضی جیسی کارکردگی دہرانے کیلیے پرعزم ہے، حریف اسکواڈ بھی اس امتحان سے گزرنے کیلیے پلان بنانے میں مصروف تھا لیکن پہلا معرکہ شروع ہونے سے قبل ہی میزبان ٹیم کو ایک بڑا دھچکا لگ گیا، یاسر شاہ نیٹ سیشن کے دوران گیند کراتے ہوئے یاسر کمر میں تکلیف میں مبتلا ہوکرمیدان سے باہر چلے گئے، خدشہ ہے کہ لیگ اسپنر پہلے میچ میں شریک نہیں ہوپائیں گے۔
اس صورتحال میں یونس خان، کپتان مصباح الحق اور سرفراز احمد کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے جن کو حریف پر دباؤ بڑھانے کیلیے بڑی اننگز کھیلنا ہوں گی، یاسر شاہ کے بہتر متبادل کی تلاش بھی پاکستان کیلیے ایک مشکل عمل ہو گا، فی الحال ظفر گوہرکوطلب کرلیاگیا ہے، لیٖفٹ آرم بولر نے انگلینڈ کیخلاف دونوں وارم اپ میچز میں حصہ لیا تھا، تاہم بعدازاں وطن واپس لوٹ گئے تھے، ان کی میچ کے آغاز سے قبل ابوظبی آمد مشکل نظر آتی ہے۔
اس صورت میں پاکستان کو ایک اضافی فاسٹ بولر کیساتھ میدان میں اترنا پڑیگا۔ چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کو احتیاطاً ایک متبادل درکار ہے، ہم اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل ایک کھلاڑی بینچ پر موجود ہو۔ ٹیم منیجر انتخاب عالم کے مطابق فزیو یاسر شاہ کی تکلیف کا جائزہ لے رہے ہیں، امید ہے کہ میچ سے قبل فٹنس بحال ہوجائے گی۔
کپتان مصباح الحق نے بھی یاسر شاہ کی انجری کو بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ میچ سے قبل پریس کانفرنس میں انھوں نے واضح کیا کہ لیگ اسپنر کا ٹیم میں کلیدی کردار ہے، ان کو کھلانے یا آرام کرانے کا فیصلہ میچ کی صبح صورتحال دیکھ کر کیا جائیگا، تاہم فی الحال ان کی شرکت مشکل نظر آرہی ہے، تمام تر دباؤ بیٹسمینوں پر آگیا اور اب انھیں فتح کا مشن مکمل کرنے کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مڈل آرڈر بیٹسمین اظہر علی پیر میں انفیکشن کے سبب ابوظبی ٹیسٹ سے باہر ہوگئے تھے۔
ان کا خلا پر کرنے کیلیے شعیب ملک موجود ہیں جن کی بولنگ ایک اضافی سہولت ہوگی، مصباح الحق نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ انگلینڈ کا موجودہ اسکواڈ اسپن بولنگ کے شعبے میں 3سال پہلے والی ٹیم سے کمزور ہے، انھوں نے کہاکہ گریم سوان اور مونٹی پنیسرکافی آزمودہ کار بولرز تھے، معین علی اور عادل رشید اچھی بولنگ کر رہے ہیں لیکن ان کا تجربہ کم ہے جس کا ہمیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، انگلینڈ کے پیسرز جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ نے گذشتہ سیریز میں بھی عمدہ بولنگ کی تھی، ان کیخلاف ہمارے بیٹسمینوں کو ذمے داری سے بیٹنگ کرنا ہوگی۔
یاسر شاہ کی خدمات سے محروم رہے تو فتح کا مشن مکمل کرنے کیلیے بیٹنگ لائن کو بڑا چیلنج قبول کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ انگلش ٹیم اس بار بہتر تیاری کیساتھ یواے ای میں آئی ہے،گذشتہ سیریز میں کی جانے والی غلطیوں سے بھی آگاہ ہے، ہمیں بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی، تاہم جیت کیلیے پر عزم ہیں۔ دوسری جانب پہلے میچ سے قبل انگلینڈ کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے، ان فارم بولر اسٹیون فن پیر کی انجری کے سبب پہلے میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔
انگلش کپتان الیسٹر کک نے کہا کہ پیسر کو ٹیم میں شامل کرنے کیلیے غور کیا جا رہا تھا کیونکہ انھوں نے دوسرے وارم اپ میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا،ان کی انجری ہمارے لیے بڑا دھچکا ہے لیکن امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ میچ کیلیے دستیاب ہوں گے۔ مہمان کپتان نے بتایا کہ ان کیساتھ معین علی اوپننگ، جونی بیرسٹو 5 ویں نمبر بیٹنگ کیلیے آئیں گے، جوز بٹلر بحثیت وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم کا حصہ ہونگے، اسپنر عادل راشد اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کرینگے، انجری کے سبب ایشز میں شرکت سے محروم رہنے والے جیمز اینڈرسن کی ٹیم میں واپسی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ عادل راشد ایک خطرناک بولر ہیں اور ٹیم کو میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ یاسر شاہ ایک شاندار بولر ہیں، ہم میں سے کئی ان کا سامنا کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے، اگر وہ کھیل نہ پائے تو پاکستان کا بھاری نقصان ہوگا۔
انگلش ٹیم بھی پیر کی انجری کا شکار اسٹیون فن کی خدمات سے محروم ہوگئی، معین علی اوپنر، جونی بیراسٹو 5 ویں نمبر پر بیٹنگ کیلیے آئیں گے، جوز بٹلر کو بحیثیت وکٹ کیپر بیٹسمین میدان میں اتارا جائے گا، اسپنر عادل راشد کا ڈیبیو ہوگا۔کپتان الیسٹرکک نے یاسر شاہ کی انجری کو میزبانوں کیلیے بھاری نقصان قرار دیدیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور انگلینڈ کے مابین یواے ای میں شیڈول سیریز کا پہلا ٹیسٹ آج سے ابوظبی میں شروع ہوگا، میزبان ٹیم نے 2012 میں اسپنرز سعید اجمل اور عبدالرحمان کی شاندار بولنگ کی بدولت اس وقت کی عالمی نمبرایک انگلش سائیڈ کو 3-0سے کلین سویپ کیا تھا۔
ایشز فتح سے پر اعتماد ٹیم کیلیے اس بار بھی اسپن کا جال بچھایا جاچکا ، پاکستان یاسر شاہ اور ذوالفقاربابر کے ذریعے ماضی جیسی کارکردگی دہرانے کیلیے پرعزم ہے، حریف اسکواڈ بھی اس امتحان سے گزرنے کیلیے پلان بنانے میں مصروف تھا لیکن پہلا معرکہ شروع ہونے سے قبل ہی میزبان ٹیم کو ایک بڑا دھچکا لگ گیا، یاسر شاہ نیٹ سیشن کے دوران گیند کراتے ہوئے یاسر کمر میں تکلیف میں مبتلا ہوکرمیدان سے باہر چلے گئے، خدشہ ہے کہ لیگ اسپنر پہلے میچ میں شریک نہیں ہوپائیں گے۔
اس صورتحال میں یونس خان، کپتان مصباح الحق اور سرفراز احمد کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے جن کو حریف پر دباؤ بڑھانے کیلیے بڑی اننگز کھیلنا ہوں گی، یاسر شاہ کے بہتر متبادل کی تلاش بھی پاکستان کیلیے ایک مشکل عمل ہو گا، فی الحال ظفر گوہرکوطلب کرلیاگیا ہے، لیٖفٹ آرم بولر نے انگلینڈ کیخلاف دونوں وارم اپ میچز میں حصہ لیا تھا، تاہم بعدازاں وطن واپس لوٹ گئے تھے، ان کی میچ کے آغاز سے قبل ابوظبی آمد مشکل نظر آتی ہے۔
اس صورت میں پاکستان کو ایک اضافی فاسٹ بولر کیساتھ میدان میں اترنا پڑیگا۔ چیف سلیکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کو احتیاطاً ایک متبادل درکار ہے، ہم اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل ایک کھلاڑی بینچ پر موجود ہو۔ ٹیم منیجر انتخاب عالم کے مطابق فزیو یاسر شاہ کی تکلیف کا جائزہ لے رہے ہیں، امید ہے کہ میچ سے قبل فٹنس بحال ہوجائے گی۔
کپتان مصباح الحق نے بھی یاسر شاہ کی انجری کو بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ میچ سے قبل پریس کانفرنس میں انھوں نے واضح کیا کہ لیگ اسپنر کا ٹیم میں کلیدی کردار ہے، ان کو کھلانے یا آرام کرانے کا فیصلہ میچ کی صبح صورتحال دیکھ کر کیا جائیگا، تاہم فی الحال ان کی شرکت مشکل نظر آرہی ہے، تمام تر دباؤ بیٹسمینوں پر آگیا اور اب انھیں فتح کا مشن مکمل کرنے کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مڈل آرڈر بیٹسمین اظہر علی پیر میں انفیکشن کے سبب ابوظبی ٹیسٹ سے باہر ہوگئے تھے۔
ان کا خلا پر کرنے کیلیے شعیب ملک موجود ہیں جن کی بولنگ ایک اضافی سہولت ہوگی، مصباح الحق نے اس تاثر سے اتفاق کیا کہ انگلینڈ کا موجودہ اسکواڈ اسپن بولنگ کے شعبے میں 3سال پہلے والی ٹیم سے کمزور ہے، انھوں نے کہاکہ گریم سوان اور مونٹی پنیسرکافی آزمودہ کار بولرز تھے، معین علی اور عادل رشید اچھی بولنگ کر رہے ہیں لیکن ان کا تجربہ کم ہے جس کا ہمیں بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، انگلینڈ کے پیسرز جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ نے گذشتہ سیریز میں بھی عمدہ بولنگ کی تھی، ان کیخلاف ہمارے بیٹسمینوں کو ذمے داری سے بیٹنگ کرنا ہوگی۔
یاسر شاہ کی خدمات سے محروم رہے تو فتح کا مشن مکمل کرنے کیلیے بیٹنگ لائن کو بڑا چیلنج قبول کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ انگلش ٹیم اس بار بہتر تیاری کیساتھ یواے ای میں آئی ہے،گذشتہ سیریز میں کی جانے والی غلطیوں سے بھی آگاہ ہے، ہمیں بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی، تاہم جیت کیلیے پر عزم ہیں۔ دوسری جانب پہلے میچ سے قبل انگلینڈ کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے، ان فارم بولر اسٹیون فن پیر کی انجری کے سبب پہلے میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔
انگلش کپتان الیسٹر کک نے کہا کہ پیسر کو ٹیم میں شامل کرنے کیلیے غور کیا جا رہا تھا کیونکہ انھوں نے دوسرے وارم اپ میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا،ان کی انجری ہمارے لیے بڑا دھچکا ہے لیکن امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ میچ کیلیے دستیاب ہوں گے۔ مہمان کپتان نے بتایا کہ ان کیساتھ معین علی اوپننگ، جونی بیرسٹو 5 ویں نمبر بیٹنگ کیلیے آئیں گے، جوز بٹلر بحثیت وکٹ کیپر بیٹسمین ٹیم کا حصہ ہونگے، اسپنر عادل راشد اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کرینگے، انجری کے سبب ایشز میں شرکت سے محروم رہنے والے جیمز اینڈرسن کی ٹیم میں واپسی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ عادل راشد ایک خطرناک بولر ہیں اور ٹیم کو میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ یاسر شاہ ایک شاندار بولر ہیں، ہم میں سے کئی ان کا سامنا کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے، اگر وہ کھیل نہ پائے تو پاکستان کا بھاری نقصان ہوگا۔