ایم کیو ایم حکومت معاہدہ

وفاقی حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان معاہدہ ہوگیا ۔

tauceeph@gmail.com

وفاقی حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان معاہدہ ہوگیا ۔ اس معاہدے کے تحت ایم کیو ایم اپنے منتخب اراکین کے استعفیٰ واپس لے لے گی۔ وفاقی حکومت کراچی میں جاری آپریشن کے بارے میں شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹی قائم کرے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ڈاکٹر فاروق ستار نے (MOU) مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس ایم او یو کے تحت حکومت اگلے 5دن میں اس کمیٹی کا نوٹیفیکشن جاری کرے گی۔ کمیٹی کے کنوینر وفاقی سیکریٹری داخلہ ہوں گے۔

حکومت اور ایم کیو ایم اپنے دو دو اراکین کو نامزدکرے گی۔ حکومت اپنے قوائد وضوابط خود تیار کرے گی۔ یہ کمیٹی شکایتوں کا 90 دن میں فیصلہ کرنے کی پابندہوگی۔ جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تھا توآپریشن کی نگرانی کے لیے غیرجانبدار افراد پر مشتمل کمیٹی کے قیام پر اتفاق رائے ہوا تھا مگر وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی مخالفت کی بناء پر یہ کمیٹی نہیں بن سکی۔ قائم علی شاہ کا موقف تھا کہ وہ اس آپریشن کے کپتان ہیں اور ان کی نگرانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کراچی آپریشن کو شروع ہوئے 2 سال ہوچکے ہیں ۔ پولیس، سی آئی ڈی، رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اشتراک سے ایپکس کمیٹی قائم ہوئی۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، چیف آف آرمی اسٹاف،کورکمانڈراور رینجرزکے ڈائریکٹر جنرل شریک ہوئے۔ اس مربوط کمانڈ کے تحت طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کیا گیا۔ شہر میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، سندھ حکومت کے کرپٹ افسروں کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

شہر میں اغواء برائے تاوان اور بھتہ وصول کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی ہوا۔اس آپریشن کی بناء پرکراچی میں صورتحال خاصی حد تک معمول کے قریب پہنچ گئی مگر اس آپریشن کا براہ راست نشانہ لیاری گینگ وار میں ملوث گروہ اور ایم کیو ایم کے کارکن بنے۔ رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں لیاری کے بہت سے نوجوان ہلاک ہوئے جو مجرمانہ پس منظر رکھتے تھے۔ اس آپریشن کی بناء پر ان گروہوں کے سربراہ لیاری چھوڑ کراندرون سندھ اور بلوچستان میں روپوش ہوئے کچھ بیرون ملک چلے گئے۔

اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں کہ ایک گروہ کے سربراہ عزیر بلوچ دبئی میں گرفتار ہوئے ہیں ۔ایک اور مطلوب ملزم بابا لاڈلہ کے ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں محافظوں کی فائرنگ سے ہلاکت کی خبریں بھی آئیں۔ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوئی۔جب رینجرز کے آپریشن کے نتیجے میںلیاری میں بعض نوجوان ہلاک ہوئے تو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے احتجاج کیا اور جلوس نکالے ۔جب رینجرز نے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹرنائن زیروپر چھاپہ مارا اور بہت سے ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تو ایم کیو ایم کی قیادت نے رینجرز پر شدید تنقید شروع کردی۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں ایجنسیوں پر الزامات لگائے۔ ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں کے اغواء اور مسخ شدہ لاشیں ملنے پر ہڑتالوں کا اعلان کیا مگر پولیس اور رینجرز کے سخت اقدامات کی بناء پر ماضی کی سی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنے منتخب اراکین کو فوری طور پر استعفیٰ دینے کی ہدایت کی۔


منتخب اراکین نے مشترکہ طور پر اسمبلیوں میں استعفے جمع کرادیے ۔ اس وقت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے فوری طور پر استعفے منظورکرنے کا اعلان کیا۔ سینیٹ کے چیئرپرسن اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے یہاں بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر استعفے قبول کرنے سے انکار کیا ۔ بعد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر نے استعفیٰ کے معاملے کو التواء میں ڈال دیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پرجمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے مصالحتی بات چیت شروع کی ۔

ایم کیو ایم نے ایک پالیسی بیان میں اقرارکیا گیا کہ 90کی دہائی میں ہونے والے آپریشن کے بعد ہزاروں کارکن بھارت چلے گئے تھے مگر ان کے بھارت جانے، وہاں کی سرگرمیوں کا ایم کیو ایم سے تعلق نہیں تھا۔اس بیان میں ایم کیو ایم کو پاکستان کی حامی جماعت قرار دیا گیا اور اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ معاملات کو درگزر سے کام لینا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے اس پالیسی بیان سے کراچی کے حالات میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہوئی۔اس بیان سے ایم کیو ایم کو ایک کھلی جماعت میں تبدیل ہونے اور عسکری ونگ سے لاتعلقی کی پالیسی سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اب ایم کیو ایم کی قیادت ایسے فیصلے کرے گی کہ تشدد کے مقابلے میں جمہوری رویے کو تقویت ملے۔ ترقی پذیر ممالک میں مسلح تنظیموں کی جدوجہد پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی یہ رائے ہے کہ اب گلوبلائزیشن کے دور میں تشدد کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نیپال، سری لنکا، بھارت میں تحریکوں کو چلانے والی جماعتوں نے اپنے عسکر ی ونگز کوبند کر کے جمہوری تحریک کا راستہ اختیارکیا تو انھیں بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

جب کہ مسلح جدوجہد کرنے والے گروہ اپنا راستہ تبدیل نہ کرنے کی بناء پر ختم ہوگئے ۔ اس لیے ایم کیو ایم اپنی صفوں سے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے عناصر کو علیحدہ کرکے اور اسمبلیوں میں واپس جاکر ہی اپنے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نادیدہ قوتیں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں اورایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے کہ آیندہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کا میئر منتخب نہ ہوسکے۔ رینجرزکے اہلکار اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بار بار یہ کہتے تھے کہ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے یہ صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہے۔

شہر میں امدادی سرگرمیوں کا آغازکرنے والے ایک رفاہی ٹرسٹ کے اہم عہدیدار بار بار کہتے ہیں کہ رینجرز کا آپریشن ہی کراچی کو بچانے کا واحد حل ہے ۔ اگر یہ آپریشن شروع نہ ہوتا تو شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کی مافیاز کا قبضہ ہو جاتا اور کراچی بیروت جیسی صورتحال کا شکارہوجاتا ۔ اب وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 90دن میں ایم کیو ایم کی ان شکایت کا ازالہ کیا جائے گا ۔

اس معاہدے پر عمل ہوا تو ایم کیو ایم اور وفاقی حکومت کے تعلقات بہتر رہیں گے جس کے نتیجے میں شہرکے حالات بہتر ہوں گے اور بلدیاتی انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہوں گے اور نئی بلدیاتی قیادت کو شہرکو موئن جو دڑو بننے سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے مگر اسٹیبلشمنٹ اس معاہدے پر کیا ردعمل کرے گی، اگلے ماہ واضح ہو جائے گا۔
Load Next Story