خسارے میں چلنے والی پی آئی اے کی طرف سے افسروں میں قیمتی گاڑیاں مفت بانٹنے کا انکشاف
2005-06 میں 19 قیمتی گاڑیاں اپنے افسران کو نوازنے کیلیے مفت دی گئیں، پی اے سی میں انکشاف
کنٹینر سے بیلٹ تک ڈالنے کے درمیان مسافروں کا سامان چوری ہوتا ہے، سیکرٹری سول ایوی ایشن۔ فوٹو: اے پی پی/فائل
خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کی جانب قیمتی گاڑیاں اپنے افسروں میں مفت بانٹنے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ خسارے میں چلنے والے ادارے پی آئی اے کی جانب سے 2005-06 میں 19 قیمتی گاڑیاں اپنے افسران کو نوازنے کیلیے مفت دی گئیں جب کہ سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تسلیم کیاہے کہ کنٹینر سے بیلٹ تک ڈالنے کے درمیان مسافروں کا سامان چوری ہوتا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس منگل کو کنوینرعاشق حسین گوپانگ کی زیرصدارت ہوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران بتایا گیا کہ پی آئی اے حکام نے اپنے ملازمین کو 2005-06 میں 51 لاکھ 63 ہزار کی بک ویلیوں 19 قیمتی گاڑیاں مفت میں دیں جن میں ایک ٹویوٹاکرولاکار بھی تھی۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ خسارے میں چلنے والے ادارے پی آئی اے کی جانب سے 2005-06 میں 19 قیمتی گاڑیاں اپنے افسران کو نوازنے کیلیے مفت دی گئیں جب کہ سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تسلیم کیاہے کہ کنٹینر سے بیلٹ تک ڈالنے کے درمیان مسافروں کا سامان چوری ہوتا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس منگل کو کنوینرعاشق حسین گوپانگ کی زیرصدارت ہوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران بتایا گیا کہ پی آئی اے حکام نے اپنے ملازمین کو 2005-06 میں 51 لاکھ 63 ہزار کی بک ویلیوں 19 قیمتی گاڑیاں مفت میں دیں جن میں ایک ٹویوٹاکرولاکار بھی تھی۔