نظریہ کرسی کا بول بالا

پچھلے دنوں ہماری ملاقات ایک سبزی فروش سے ہوئی جو کوئی عام سبزی فروش نہیں

barq@email.com

پچھلے دنوں ہماری ملاقات ایک سبزی فروش سے ہوئی جو کوئی عام سبزی فروش نہیں بلکہ ''ممتاز'' سبزی فروش ہے اور ممتاز سبزی فروشوں کے ایک ممتاز خاندان سے تعلق رکھتا ہے، عام سبزی فروش تو صرف ''سبزی فروشی'' کرتے ہیں لیکن موصوف یوں کہئے کہ ٹو ان ون ہے کیونکہ ''سبزی'' الگ کرتے ہیں اور ''فروشی'' الگ ... ناواقف لوگ عجلت میں اسے سبزی فروش سمجھ اور کہہ دیتے ہیں لیکن درحقیقت سبزی اور فروشی میں ایک لمبا پاز دے کر لکھنا اور بولنا چاہیے یا بہتر ہے کہ سبزی + فروشی لکھا اور کہا جائے، چونکہ سبزی کا ''موسم'' کے ساتھ گہرا تعلق ہے اسلیے ایک لحاظ سے ان کو آپ ''موسمی'' بھی کہہ سکتے ہیں جب موسم سازگار ہوتا ہے تو ''موسمی سبزی'' بیچتے ہیں لیکن اگر موسم ناسازگار ہو یا دھندے میں مندے کا رجحان ہو تو موصوف کچھ اور ''فروشیاں'' بھی کر لیتے ہیں جن میں دوسری آٹھ دس ''فروشیوں'' کے ساتھ خود فروشی اور اجداد فروشی بھی شامل ہے یعنی

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر

بہت سے لوگوں کو ''خود فروشی'' کے دھندے کا علم نہیں ہے لیکن واقفان اسرار و کاروبار جانتے ہیں کہ فی زمانہ سب سے زیادہ آسان اور نفع آور دھندہ خود فروشی کا ہے کہ اس میں نہ چونا لگتا ہے نہ پھٹکری اور رنگ سارے کے سارے چوکھے آجاتے ہیں، سبز، سرخ، نیلا، کالا، سفید حتیٰ کہ چتکبرا رنگ بھی آجاتا ہے یوں کہئے کہ خود فروشی کا دھندہ کچھ کبوتر فروشی سے ملتا ہوا دھندہ ہے، ہم ایک ایسے آدمی سے واقف ہیں جس کے پاس صرف آٹھ دس کبوتر ہیں لیکن وہ ان سے سیکڑوں کبوتر فروخت کر چکا ہے بچوں کی صورت میں نہیں بلکہ یہی آٹھ دس کبوتر ہی ہیں جو سیکڑوں مرتبہ فروخت ہوئے اور پھر واپس آکر دوبارہ سہ بارہ بلکہ کئی بارہ فروخت ہوتے رہے یعنی

وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
اک یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

ویسے جب پروین شاکر کا یہ شعر ہمارے ذہن میں آیا تو ہم نے موصوف کو غور سے دیکھا تب پتہ چلا کہ ''لوٹا'' کا مطلب کیا ہے وہ بھی بغیر پیندے اور ٹونٹی کا ... موصوف کے تخلص ''ممتاز سبزی فروش'' کی ایک الگ داستان ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسے ممتاز سے ہاتھ ملانے کا شرف حاصل کیا جس کے جد محترم نے ''اصلی ممتاز'' سے ایک زمانے میں ہاتھ ملانے کا اعزاز پایا ہوا تھا۔

موصوف سے ہم نے تازہ ترین دھندے کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ موصوف آج کل انصاف فروشی کا دھندہ چلا رہے ہیں ایک ریڑھے پر انصاف ڈال کر ہاتھ میں ترازو لیے گلی گلی انصاف فروشی کرتے ہیں کیوں کہ سبزی میں موسم کی خرابی کے باعث نقصان اٹھا چکے ہیں ۔پوچھا تو کیا سبزی فروشی کا دھندہ بالکل چھوڑ چکے؟ ویسے ہم نے تو سنا ہے کہ پنجاب میں موسمی سبزی کا دھندہ اچھا خاصا ٹاپ پر جارہا ہے۔

بولے، وہ تو ٹھیک ہے لیکن پنجاب میں موسمی سبزی فروشی پر وہاں کے بڑے بڑے فروشوں کی اجارہ داری ہے چنانچہ ہم نے اپنی دکان پر ترپال کھینچ کر یہ دوسرا دھندہ شروع کیا۔ ہم نے کہا گویا آپ سبزی کا دھندہ اب نہیں کریں گے۔ بولے، نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں بھلا اپنا خاندانی دھندہ بھی کوئی چھوڑتا ہے لیکن موسم کا خیال تو رکھنا پڑتا ہے جب بھی موسم سازگار ہوا یا کوئی اور دھندہ مفید نظر آیا کر لیں گے کیونکہ ہم تو دکاندار ہیں جس کام میں دو چار پیسے کا نفع ہو گا وہی کریں گے

سو پشت سے پیشہ آبا سوداگری
اک سبزی تو ذریعہ عزت نہیں مجھے


وہ کیا کیا بولتے رہے اور ہم کیا کیا سنتے بلکہ ''نہیں سنتے'' رہے لیکن سمجھ میں اتنا آیا کہ موصوف کو ہر اس پارٹی سے اتفاق تھا جو پاکستان میں ہے کیوں کہ موصوف نظریہ پاکستان کے قائل ہیں اور پاکستان کی ہر پارٹی اپنی پارٹی ہے۔ پوچھا یہ نظریہ پاکستان کیا ہے۔ بولے، جو ہمارا ہے، وضاحت چاہی اور آپ کا نظریہ کیا ہے۔

بولے، جو پاکستان کا ہے ۔ ہم ہنس تو نہ سکے کیوں کہ مقام رونے کا تھا لیکن چپ رہے لیکن ان کی سوئی نظریہ پاکستان پر اٹک گئی۔ ہم تصور ہی تصور میں دیکھ رہے تھے کہ بے چارا نظریہ پاکستان کی حالت ''رضیہ'' کی سی ہو رہی تھی جو غنڈوں میں پھنس گئی تھی ایسے حالات میں ہر شریف آدمی کا فرض ہو جاتا ہے کہ رضیہ بے چاری کو غنڈوں سے چھڑانے کی کوشش کرے، اتنے میں اچانک بس ڈرائیور نے ایک خوب صورت موڑ لیا تو موصوف نے بھی اپنی باتوں کے ریڑھے کو ایک ''بدصورت موڑ'' دے کر ان تمام لوگوں کے پرزے اڑانے شروع کر دیے جو نظریہ پاکستان کو مانتے نہیں یا سمجھتے نہیں یا اس کے نام لیوا نہیں ہیں، یہی وہ موقع تھا جب ہم نے ان کی توجہ بھٹکا کے پوچھا، نظریہ پاکستان تو ٹھیک ہے لیکن کچھ دوسرے نظریات کے بارے میں بھی سنتے ہیں بولے مثلاً... ہم نے کہا مثلاً ''نظریہ ضرورت'' اور ''نظریہ کرسی'' کیونکہ پاکستان کی تمام پارٹیوں اور لیڈروں کے ہارٹ فیورٹ نظریات آج کل یہی بتائے جا رہے ہیں ۔

بولے ، یہ بھی تو اسی کنبے کے افراد ہیں یوں کہئے کہ این خانہ ھمہ نظریات است ۔ عرض کیا کچھ اور تفصیلیے؟ فرمانے لگے دراصل یہ جو نظریہ ضرورت ہے یہ نظریہ پاکستان کا لے پالک ہے اور پھر نظریہ کرسی کو نظریہ ضرورت کا لے پالک سمجھ لیجیے۔ ہم نے عرض کیا لیکن ہم نے تو کچھ اور سنا تھا۔ بولے ، جو بھی سنا ہو گا ٹھیک ہی سنا ہو گا دراصل ان تینوں کا رشتہ کچھ عجیب سا ہے، سارے ہی ایک دوسرے کے وہ لگتے ہیں جو وہ کے یہ لگتے ہیں، بات مسلسل الجھی جا رہی تھی اس لیے گزارش کی کہ اتنا گاڑھا فلسفہ ہم سے ہضم نہیں ہو گا کیوں کہ ہم کوئی لیڈر تو نہیں جو لکڑ ہضم پتھر ہضم یا سیمنٹ ہضم سریا ہضم بلکہ فنڈز ہضم قرضہ ہضم اور سب کچھ ہضم ہاضمہ رکھیں اس لیے بات تھوڑی سی پتلی کر دیجیے۔

بولے، ہاں یہ باتیں ذرا اونچے لیول کی ہیں اس لیے ''عامی امی'' لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں لیکن تم اتنا سمجھ لو کہ ان نظریات کا آپس میں وہی رشتہ ہے جو رحم دین اور گل ملوک کے درمیان تھا اور واقعی ہم سمجھ گئے کیوں کہ رحم دین اور گل ملوک ہمارے گاؤں کے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے کیا تھے؟ یا کیا کیا لگتے تھے یہ ہم سب کو معلوم تھا، ہوا یوں تھا کہ گل ملوک اور رحم دین دونوں رنڈوے تھے اور دونوں کی ایک ایک بیٹی تھی چنانچہ انھوں نے آپس میں اس زمانے کا کاروبار کیا جب سکے ایجاد نہیں ہوئے تھے۔ رحم دین نے اپنی بیٹی گل ملوک سے بیاہی اور گل ملوک نے بدلے میں اپنی بیٹی کو رحم دین کے حبالہ عقد میں دے دیا اور دونوں بیک وقت ایک دوسرے کے سسر بھی ہوئے اور داماد بھی۔

اور ان کی بیویاں ایک دوسرے کی بیک وقت ساس بہو بن گئیں لیکن معاملہ یہیں پر رکا نہیں دونوں کی اولادیں ہوئیں تو وہ بھی پیدائش سے پہلے ہی دہرے تہرے رشتوں میں بندے ہوئے تھے، رحم دین کی بیٹیوں اور گل ملوک کے بیٹوں کے درمیان بھانجے ماموں اور ماموں بھانجے کا رشتہ تو سامنے تھا لیکن دونوں کی بیویوں کے رشتے بہت زیادہ پیچیدہ ہو گئے کہ گل ملوک کی بیوی حیران تھی کہ اپنے ابا کے بیٹوں کو بیٹے کہے پوتا سمجھے یا نواسے کہہ کر پکارے، لوگوں کو بھی ایک عجیب مشغلہ ہاتھ آیا جہاں کہیں اس خاندان کے کسی رکن کو دیکھتے تو پوچھنے لگتے کہ فلاں فلاں تمہارا کیا لگتا ہے، ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایک رشتہ بتا دیتے اور سننے والے قہقہہ لگا کر کہتے ... مگر وہ تو تم کو یہ کہتا ہے، اس رشتے پر ابتداء میں لوگوں نے طرح طرح کے سوال اٹھائے تھے لیکن مولوی صاحب نے اجازت دی تھی کہ یہ رشتہ بالکل جائز اور درست ہے لیکن پھر بھی لوگ تو بولتے رہتے ہیں، نظریہ پاکستان نظریہ ضرورت اور نظریہ کرسی کے درمیان بھی کچھ ایسا رشتہ ہے کہ یقین سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون کس کا کیا ہے

صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
لیکن میں سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں

جدا کی جگہ اگر ''جڑا'' لگایا جائے تو پھر کچھ نہ کچھ بات بن سکتی ہے لیکن پھر بھی کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کیا بات بنتی ہے، ویسے پاپولریٹی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو آج کل ''نظریہ کرسی'' اچھا خاصا اور مقبول عام نظریہ ہے اس کی قبولیت عامہ کا اندازہ اس سے لگایئے کہ پاکستان کی کم و بیش نو ہزار نو سو نناوے پارٹیوں کے درمیان اگر کسی ایک بات میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے تو وہ یہ نظریہ کرسی ہے۔

اس کی مقبولیت کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ بہت سارے نظریات عقائد مارکیٹ میں آئے لیکن اس طاقت ور نظریئے نے سب کو کھا لیا کوئی بڑے زور شور سے اسلام نافذ کرنے کے لیے اٹھا لیکن آہستہ آہستہ اس کے زلف گرہ گیر کا اسیر ہوا، کسی نے بہت دور سے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ پکڑا اور ایسا لگا کہ یہ اژدہا سب کو کھا جائے گا لیکن کچھ عرصے کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ میدان میں صرف ''نظریہ کرسی'' کا نیولا پھدک رہا ہے اور اژدہے کا پتہ تک نہیں، قوم پرستی، جمہوریت پرستی اور نہ جانے کیا ''پرستیاں'' آئیں اور اپنی اپنی بولیاں بول کر اس ''نظریہ کرسی'' کے پیٹ میں سما گئیں کتنی بہار آئیں اور آکر چلی گئیں، اور ایسا لگتا ہے کہ آیندہ بھی کوئی نظریہ اس کے آگے ٹھہرنے والا نہیں کیوں کہ ''نظریہ خوری'' میں یہ اتنا طاق ہو گیا ہے کہ ابھی کوئی نظریہ میدان میں اترا بھی نہیں ہوتا کہ یہ اسے نگل چکا ہوتا ہے اس لیے ثابت ہوا کہ اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا کوئی پاگل ہو گا جو خواہ مخواہ خود کو بلا کے منہ میں دے

دہن شیر میں جا بیٹھئے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہو جئے اس آفت خوں خوار کے پاس
Load Next Story