ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے
حلقہ نمبر 122 کے ضمنی انتخابات تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی ناک کا مسئلہ بنے ہوئے تھے،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
حلقہ نمبر 122 کے ضمنی انتخابات تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی ناک کا مسئلہ بنے ہوئے تھے، دونوں جماعتوں نے اس نشست کو حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، عمران خان نے لاہور میں بڑے بڑے جلسے کیے، جلسوں کے حوالے سے اگر کسی جماعت کی مقبولیت کو ناپا جائے تو بلاشبہ عمران خان سب سے زیادہ مقبول رہنما نظر آتے ہیں لیکن بڑے جلسے کرنے والے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں بیس کروڑ عوام رہتے ہیں اگر کوئی جماعت یا اس کا رہنما دو لاکھ عوام کو بھی اپنے جلسے میں کھینچ لاتا ہے تو 20 کروڑ عوام کی تعداد میں دو لاکھ عوام آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
اس حقیقت کے پس منظر میں اپنے جلسے جلوسوں میں لاکھ دو لاکھ لوگوں کو جمع کر کے یہ سمجھنا کہ وہ پورے ملک کے مقبول لیڈر ہیں اور ہر انتخاب آسانی سے جیت لیں گے ایک بڑی خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہمارے انتخابی نظام میں دولت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے عمران خان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بھاری فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں لیکن حکمران جماعت کے ہاتھوں میں نہ صرف ملکی خزانہ ہوتا ہے بلکہ انتظامی مشینری بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جب یہ دو وسائل ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو وہی معجزے سامنے آتے ہیں جو 11 اکتوبر کو لاہور میں وقوع پذیر ہوئے، این اے 122 کا نتیجہ غیر متوقع نہیں تھا بلکہ توقع کے عین مطابق تھا۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کے ضمنی انتخابات کے آخری چند منٹوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا گیا جس کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، عمران نے کہا کہ ہم یہ تحقیق بھی کر رہے ہیں کہ آخری لمحوں میں تحریک انصاف کے ووٹ حلقے سے باہر کیسے گئے، اس کے ثبوت حاصل کر کے ہم الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے، یہ تو ہوئیں وہ باتیں جو عموماً ہر ہارنے والی جماعت کے رہنما کرتے ہیں۔ این اے 122 کے ضمنی انتخابات کی چھوٹی موٹی دھاندلیاں 2013ء کے الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کی شکایت تقریباً ساری جماعتوں کو تھی لیکن حکومت کا کوئی کچھ نہ بگاڑا، اب 122 کی دھاندلی کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
عمران خان نے جو معقول بات کی ہے وہ یہ ہے کہ ''ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آیندہ مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کریں گے'' تحریک انصاف ملکی سطح پر 2014ء کے دھرنوں کی سیاست سے بڑے پیمانے پر متعارف ہوئی۔ اسلام آباد کے ڈی چوک کا دھرنا اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ایک بہت بڑی غلطی بلکہ نادانی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ دھرنے کے ابتدائی چند دنوں میں عوام کی دلچسپی دھرنوں کے ساتھ تھی لیکن طاہر القادری کے کارکن جس پامردی کے ساتھ دھرنے میں شامل تھے۔
اس کے مقابلے میں عمران خان کے دھرنے میں لوگ شام کے وقت شامل ہوتے تھے اور گھنٹہ دو گھنٹے بعد اس تفریح سے لطف اندوز ہو کر اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے آخری دنوں میں تو ڈی چوک ویران ویران نظر آنے لگا تھا، البتہ طاہر القادری کے دھرنے میں کارکن 24 گھنٹے موجود ہوتے تھے لیکن دھرنا تحریک اس لیے ناکام ہو گئی کہ اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ناموافق موسم کی ستم گریاں غیر محدود مدت تک سہنا مشکل تھا۔ دھرنا تحریک اور گو نواز گو کے نعرے اگرچہ ایک نیا تجربہ ضرور تھا لیکن کسی مضبوط حکومت کو محض دھرنوں کے ذریعے ہٹانا:
''ایں خیال است و محال است و جنوں'' کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
دھرنوں کے خاتمے کے بعد عمران خان نے مختلف شہروں میں بہت بڑے بڑے جلسے کیے جنھیں تاریخی بھی کہا جا سکتا ہے لیکن عمران خان کی پوری سیاست نان ایشوز پر استوار رہی، عمران خان کے دھرنے کا سب سے بڑا مطالبہ نواز شریف کا استعفیٰ تھا فرض کر لیتے ہیں کہ اگر نواز شریف استعفیٰ دے دیتے تو کیا ہو جاتا؟ یہی کہ ان کی پارٹی اپنے کسی اور رہنما کو نواز شریف کی جگہ لے آتی۔
اس تبدیلی سے نہ کوئی انقلاب آتا نہ نیا پاکستان بنتا۔ 2014ء کے بعد عمران خان کو جو فائدہ ہوا وہ یہ ہوا کہ تحریک انصاف نے 15 سال تک غیر معروف رہنے کے بعد ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا اور عمران خان صف اول کے رہنماؤں میں شامل ہو گئے بلا شبہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کا فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سیاسی رہنما کا پہلا اور آخری مقصد حصول اقتدار ہوتا ہے، اس حوالے سے اگر عمران خان اقتدار کے حصول کے خواہش مند ہیں تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن دنیا بھر میں سیاسی پارٹیاں ایک عوامی ایجنڈے کو لے کر اقتدار کے حصول کی جدوجہد کرتی ہیں جب کہ کوئی جماعت عوامی مسائل کے ایجنڈے کے ساتھ عوام میں آتی ہے تو یقینا عوام اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن خان صاحب نے عوامی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے ہمیشہ نان ایشوز پر سیاست کی جس کی وجہ انھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو ملنا چاہیے تھی۔
محض ایک مبہم ''نئے پاکستان'' کے نعرے سے عوام کی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت سے عوام کی بھاری اکثریت سخت بیزار ہے کیوں کہ یہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی سے عوام سخت پریشان ہیں موجودہ حکومت نے اس حوالے سے جتنے دعوے کیے سب سراب ثابت ہوئے۔ آج عوام پہلے سے زیادہ مہنگائی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل سے سخت پریشان ہیں کیا عمران خان نے ان عوامی مسائل پر کوئی ریلی نکالی، کوئی مظاہرہ کیا؟ کوئی دھرنا دیا؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے اور یہی عمران خان کی ناکامی کی وجہ ہے۔
موجودہ حکومت انتہائی ہوشیاری سے عوام کو متاثر کرنے والے پروگراموں کا بھرپور پروپیگنڈا کر رہی ہے، مثلاً اقتصادی راہداری، بجلی گیس کی 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے تیاریاں، ضرب عضب کی کامیابی کو اپنے کھاتے میں ڈالنا۔ لاہور، پنڈی اسلام آباد کی میٹرو بس سروس وغیرہ کے پروپیگنڈے سے بلا شبہ عوام متاثر ہو رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نہ صرف حکومت سے بلکہ اس پورے نظام سے بیزار ہیں اور بامعنی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسی کوئی تبدیلی اکیلے تحریک انصاف نہیں لا سکتی اور عمران اکیلے ایسی تبدیلی لانے پر بضد ہیں۔ ایسی تبدیلی کے لیے ''اسٹیٹس کو'' کی مخالف تمام جماعتوں کے ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے۔ ایسا اتحاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ عمران خان سولو فلائٹ کے سحر سے باہر نکل آئیں۔
حلقہ نمبر 122 کے ضمنی انتخابات تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی ناک کا مسئلہ بنے ہوئے تھے، دونوں جماعتوں نے اس نشست کو حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، عمران خان نے لاہور میں بڑے بڑے جلسے کیے، جلسوں کے حوالے سے اگر کسی جماعت کی مقبولیت کو ناپا جائے تو بلاشبہ عمران خان سب سے زیادہ مقبول رہنما نظر آتے ہیں لیکن بڑے جلسے کرنے والے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں بیس کروڑ عوام رہتے ہیں اگر کوئی جماعت یا اس کا رہنما دو لاکھ عوام کو بھی اپنے جلسے میں کھینچ لاتا ہے تو 20 کروڑ عوام کی تعداد میں دو لاکھ عوام آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
اس حقیقت کے پس منظر میں اپنے جلسے جلوسوں میں لاکھ دو لاکھ لوگوں کو جمع کر کے یہ سمجھنا کہ وہ پورے ملک کے مقبول لیڈر ہیں اور ہر انتخاب آسانی سے جیت لیں گے ایک بڑی خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہمارے انتخابی نظام میں دولت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے عمران خان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بھاری فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں لیکن حکمران جماعت کے ہاتھوں میں نہ صرف ملکی خزانہ ہوتا ہے بلکہ انتظامی مشینری بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جب یہ دو وسائل ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو وہی معجزے سامنے آتے ہیں جو 11 اکتوبر کو لاہور میں وقوع پذیر ہوئے، این اے 122 کا نتیجہ غیر متوقع نہیں تھا بلکہ توقع کے عین مطابق تھا۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ این اے 122 کے ضمنی انتخابات کے آخری چند منٹوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا گیا جس کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، عمران نے کہا کہ ہم یہ تحقیق بھی کر رہے ہیں کہ آخری لمحوں میں تحریک انصاف کے ووٹ حلقے سے باہر کیسے گئے، اس کے ثبوت حاصل کر کے ہم الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے، یہ تو ہوئیں وہ باتیں جو عموماً ہر ہارنے والی جماعت کے رہنما کرتے ہیں۔ این اے 122 کے ضمنی انتخابات کی چھوٹی موٹی دھاندلیاں 2013ء کے الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کی شکایت تقریباً ساری جماعتوں کو تھی لیکن حکومت کا کوئی کچھ نہ بگاڑا، اب 122 کی دھاندلی کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
عمران خان نے جو معقول بات کی ہے وہ یہ ہے کہ ''ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آیندہ مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کریں گے'' تحریک انصاف ملکی سطح پر 2014ء کے دھرنوں کی سیاست سے بڑے پیمانے پر متعارف ہوئی۔ اسلام آباد کے ڈی چوک کا دھرنا اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ایک بہت بڑی غلطی بلکہ نادانی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ دھرنے کے ابتدائی چند دنوں میں عوام کی دلچسپی دھرنوں کے ساتھ تھی لیکن طاہر القادری کے کارکن جس پامردی کے ساتھ دھرنے میں شامل تھے۔
اس کے مقابلے میں عمران خان کے دھرنے میں لوگ شام کے وقت شامل ہوتے تھے اور گھنٹہ دو گھنٹے بعد اس تفریح سے لطف اندوز ہو کر اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے آخری دنوں میں تو ڈی چوک ویران ویران نظر آنے لگا تھا، البتہ طاہر القادری کے دھرنے میں کارکن 24 گھنٹے موجود ہوتے تھے لیکن دھرنا تحریک اس لیے ناکام ہو گئی کہ اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ناموافق موسم کی ستم گریاں غیر محدود مدت تک سہنا مشکل تھا۔ دھرنا تحریک اور گو نواز گو کے نعرے اگرچہ ایک نیا تجربہ ضرور تھا لیکن کسی مضبوط حکومت کو محض دھرنوں کے ذریعے ہٹانا:
''ایں خیال است و محال است و جنوں'' کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
دھرنوں کے خاتمے کے بعد عمران خان نے مختلف شہروں میں بہت بڑے بڑے جلسے کیے جنھیں تاریخی بھی کہا جا سکتا ہے لیکن عمران خان کی پوری سیاست نان ایشوز پر استوار رہی، عمران خان کے دھرنے کا سب سے بڑا مطالبہ نواز شریف کا استعفیٰ تھا فرض کر لیتے ہیں کہ اگر نواز شریف استعفیٰ دے دیتے تو کیا ہو جاتا؟ یہی کہ ان کی پارٹی اپنے کسی اور رہنما کو نواز شریف کی جگہ لے آتی۔
اس تبدیلی سے نہ کوئی انقلاب آتا نہ نیا پاکستان بنتا۔ 2014ء کے بعد عمران خان کو جو فائدہ ہوا وہ یہ ہوا کہ تحریک انصاف نے 15 سال تک غیر معروف رہنے کے بعد ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا اور عمران خان صف اول کے رہنماؤں میں شامل ہو گئے بلا شبہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کامیابی کا فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سیاسی رہنما کا پہلا اور آخری مقصد حصول اقتدار ہوتا ہے، اس حوالے سے اگر عمران خان اقتدار کے حصول کے خواہش مند ہیں تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں لیکن دنیا بھر میں سیاسی پارٹیاں ایک عوامی ایجنڈے کو لے کر اقتدار کے حصول کی جدوجہد کرتی ہیں جب کہ کوئی جماعت عوامی مسائل کے ایجنڈے کے ساتھ عوام میں آتی ہے تو یقینا عوام اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن خان صاحب نے عوامی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے ہمیشہ نان ایشوز پر سیاست کی جس کی وجہ انھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو ملنا چاہیے تھی۔
محض ایک مبہم ''نئے پاکستان'' کے نعرے سے عوام کی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت سے عوام کی بھاری اکثریت سخت بیزار ہے کیوں کہ یہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی سے عوام سخت پریشان ہیں موجودہ حکومت نے اس حوالے سے جتنے دعوے کیے سب سراب ثابت ہوئے۔ آج عوام پہلے سے زیادہ مہنگائی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل سے سخت پریشان ہیں کیا عمران خان نے ان عوامی مسائل پر کوئی ریلی نکالی، کوئی مظاہرہ کیا؟ کوئی دھرنا دیا؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے اور یہی عمران خان کی ناکامی کی وجہ ہے۔
موجودہ حکومت انتہائی ہوشیاری سے عوام کو متاثر کرنے والے پروگراموں کا بھرپور پروپیگنڈا کر رہی ہے، مثلاً اقتصادی راہداری، بجلی گیس کی 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے تیاریاں، ضرب عضب کی کامیابی کو اپنے کھاتے میں ڈالنا۔ لاہور، پنڈی اسلام آباد کی میٹرو بس سروس وغیرہ کے پروپیگنڈے سے بلا شبہ عوام متاثر ہو رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نہ صرف حکومت سے بلکہ اس پورے نظام سے بیزار ہیں اور بامعنی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایسی کوئی تبدیلی اکیلے تحریک انصاف نہیں لا سکتی اور عمران اکیلے ایسی تبدیلی لانے پر بضد ہیں۔ ایسی تبدیلی کے لیے ''اسٹیٹس کو'' کی مخالف تمام جماعتوں کے ایک بڑے اتحاد کی ضرورت ہے۔ ایسا اتحاد بن سکتا ہے، بشرطیکہ عمران خان سولو فلائٹ کے سحر سے باہر نکل آئیں۔