پاک روس گیس پائپ لائن منصوبہ
منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2017ء میں مکمل ہو گا۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر 42 ماہ میں مکمل کی جائے گی
پاک روس گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فوٹو : فائل
پاکستان اور روس نے دو ارب ڈالر کی روسی سرمایہ کاری کے ساتھ کراچی سے لاہور تک 1100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور روس کے وزیر توانائی الیگز ینڈر نواک نے ''نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن'' بچھانے کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس منصوبے سے پاکستان کے جنوب سے ملک کے بقیہ حصے تک اضافی درآمدی گیس لے جانے میں مدد ملے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ چین بھی گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد میں معاونت کرے گا جو 30 ماہ میں مکمل ہو گا، یہ منصوبہ 42 انچ قطر کی پائپ لائن بچھاتے ہوئے کراچی سے لاہور تک یومیہ 1.2 ارب مکعب فٹ گیس کی نقل و حمل کا حامل ہو گا۔
روسی وزارت سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن بچھانے والی کمپنی 25 سال تک اسے خود ہی چلائے گی اور اسے پھر حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2017ء میں مکمل ہو گا۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر 42 ماہ میں مکمل کی جائے گی اور یہ عمل تین مرحلوں میں مکمل ہو گا۔
روس کی جانب سے اس منصوبے میں پہلی پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور اسے توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ اس حوالے سے یہ معاہدہ روس کی جانب سے دوستی اور تعلق کی ایک خوشگوار علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حکومت پاکستان کے مطابق شمال جنوب پائپ لائن ملک کی توانائی کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کے حکومتی وژن کا حصہ ہے جس سے ملک میں گیس کی قلت قطعی طور پر ختم ہو جائے گی۔
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کثیر المقاصد ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز کی فراہمی پر بھی دستخط ہو چکے ہیں جب کہ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے سلسلہ میں بھی بات چیت جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس پائپ لائن کی تعمیر کا فیصلہ روس کے شہر اوفا میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی روسی لیڈر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں ہوا تھا۔
واضح رہے روس دنیا میں قدرتی گیس برآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جسے یوکرائن کے تنازعے کی وجہ سے اپنی گیس کے لیے نئی منڈی کی ضرورت تھی۔ پاکستان نے اسی نوعیت کا ایک معاہدہ چین کے ساتھ بھی کر لیا ہے جو گوادر پورٹ سے سندھ میں نواب شاہ تک 2.5 ارب ڈالر کی لاگت سے پائپ لائن بچھائے گا۔ یاد رہے گزشتہ پانچ دہائیوں تک روس کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بہت محدود رہے ہیں جس کی وجہ امریکا روس سرد جنگ تھی اس کے باوجودروس نے پاکستان کے دو بڑے منصوبے اسٹیل مل اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو مکمل کیا تھا۔
روسی کمپنی پائپ لائن منصوبے کا کام چار ماہ کے اندر اندر شروع کر دے گی جو دسمبر 2017ء تک مکمل ہو جائے گا جب کہ اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ 2019ء میں مکمل ہو گا۔ پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کی کفالت کے لیے اس سے پہلے ایک سے زیادہ منصوبے بنائے جن میں ایران سے بجلی اور گیس حاصل کرنے کا بھی ایک منصوبہ تھا مگر یہ منصوبہ امریکا کو مرغوب نہ تھا اور وہ پاکستان پر تاجکستان سے براستہ افغانستان پائپ لائن کے منصوبے کا متبادل پیش کر رہا تھا جس کا نام تاپی گیس پائپ لائن رکھا گیا تھا یعنی تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا پائپ لائن۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ افغانستان سے پائپ لائن گزارنا ممکن نہیں ہو گا اور ایران سے پائپ لائن لینا نسبتاً آسان تھا مگر ایران سے تنازعے کی وجہ سے امریکا اس پائپ لائن کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔
اب روسی پائپ لائن کا جو معاہدہ ہوا ہے وہ یقیناً زیادہ قابل عمل ہے لہٰذا یہ کامیاب رہے گا۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران، وسط ایشیا اور روس کے ساتھ تعاون کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا چاہیے۔ پاک روس گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی، معاشی اور ثقافتی تعلقات جیسے جیسے مضبوط ہوں گے اور ان میں پھیلاؤ آئے گا، اس کے اثرات پورے وسط ایشیا اور افغانستان بھر میں پڑیں گے اور یہاں قیام امن کی راہ ہموار ہو گی۔ یہی نہیں ان تعلقات کے اثرات بھارت سے برما تک مرتب ہوں گے کیونکہ روس ایک ایسا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں قدیم اثرات رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو روس کے ساتھ تعلقات زیادہ مضبوط بنانے چاہئیں۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس منصوبے سے پاکستان کے جنوب سے ملک کے بقیہ حصے تک اضافی درآمدی گیس لے جانے میں مدد ملے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ چین بھی گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد میں معاونت کرے گا جو 30 ماہ میں مکمل ہو گا، یہ منصوبہ 42 انچ قطر کی پائپ لائن بچھاتے ہوئے کراچی سے لاہور تک یومیہ 1.2 ارب مکعب فٹ گیس کی نقل و حمل کا حامل ہو گا۔
روسی وزارت سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن بچھانے والی کمپنی 25 سال تک اسے خود ہی چلائے گی اور اسے پھر حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2017ء میں مکمل ہو گا۔ گیس پائپ لائن کی تعمیر 42 ماہ میں مکمل کی جائے گی اور یہ عمل تین مرحلوں میں مکمل ہو گا۔
روس کی جانب سے اس منصوبے میں پہلی پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور اسے توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ اس حوالے سے یہ معاہدہ روس کی جانب سے دوستی اور تعلق کی ایک خوشگوار علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حکومت پاکستان کے مطابق شمال جنوب پائپ لائن ملک کی توانائی کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کے حکومتی وژن کا حصہ ہے جس سے ملک میں گیس کی قلت قطعی طور پر ختم ہو جائے گی۔
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کثیر المقاصد ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز کی فراہمی پر بھی دستخط ہو چکے ہیں جب کہ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے سلسلہ میں بھی بات چیت جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس پائپ لائن کی تعمیر کا فیصلہ روس کے شہر اوفا میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی روسی لیڈر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں ہوا تھا۔
واضح رہے روس دنیا میں قدرتی گیس برآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جسے یوکرائن کے تنازعے کی وجہ سے اپنی گیس کے لیے نئی منڈی کی ضرورت تھی۔ پاکستان نے اسی نوعیت کا ایک معاہدہ چین کے ساتھ بھی کر لیا ہے جو گوادر پورٹ سے سندھ میں نواب شاہ تک 2.5 ارب ڈالر کی لاگت سے پائپ لائن بچھائے گا۔ یاد رہے گزشتہ پانچ دہائیوں تک روس کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بہت محدود رہے ہیں جس کی وجہ امریکا روس سرد جنگ تھی اس کے باوجودروس نے پاکستان کے دو بڑے منصوبے اسٹیل مل اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) کو مکمل کیا تھا۔
روسی کمپنی پائپ لائن منصوبے کا کام چار ماہ کے اندر اندر شروع کر دے گی جو دسمبر 2017ء تک مکمل ہو جائے گا جب کہ اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ 2019ء میں مکمل ہو گا۔ پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کی کفالت کے لیے اس سے پہلے ایک سے زیادہ منصوبے بنائے جن میں ایران سے بجلی اور گیس حاصل کرنے کا بھی ایک منصوبہ تھا مگر یہ منصوبہ امریکا کو مرغوب نہ تھا اور وہ پاکستان پر تاجکستان سے براستہ افغانستان پائپ لائن کے منصوبے کا متبادل پیش کر رہا تھا جس کا نام تاپی گیس پائپ لائن رکھا گیا تھا یعنی تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا پائپ لائن۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ افغانستان سے پائپ لائن گزارنا ممکن نہیں ہو گا اور ایران سے پائپ لائن لینا نسبتاً آسان تھا مگر ایران سے تنازعے کی وجہ سے امریکا اس پائپ لائن کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔
اب روسی پائپ لائن کا جو معاہدہ ہوا ہے وہ یقیناً زیادہ قابل عمل ہے لہٰذا یہ کامیاب رہے گا۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران، وسط ایشیا اور روس کے ساتھ تعاون کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا چاہیے۔ پاک روس گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی، معاشی اور ثقافتی تعلقات جیسے جیسے مضبوط ہوں گے اور ان میں پھیلاؤ آئے گا، اس کے اثرات پورے وسط ایشیا اور افغانستان بھر میں پڑیں گے اور یہاں قیام امن کی راہ ہموار ہو گی۔ یہی نہیں ان تعلقات کے اثرات بھارت سے برما تک مرتب ہوں گے کیونکہ روس ایک ایسا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں قدیم اثرات رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو روس کے ساتھ تعلقات زیادہ مضبوط بنانے چاہئیں۔