کشمیر کی خودمختاری پر تاریخی فیصلہ
عدالتی فیصلہ کے بعد اب صورتحال تبدیل ہونے جارہی ہے، بھارت پر عالمی دباؤ بڑھے گا
مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلہ سے بھارت کو کشمیر ایشو کے حل سے انحراف کا کوئی موقع نہیں ملے گا، مودی حکومت سر تسلیم خم کردے۔ فوٹو:فائل
مقبوضہ جموں کشمیر کی عدالت نے کشمیر کے حوالہ سے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے اور اس تاریخی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ریاست مقبوضہ جموں کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوئی ہے۔اس فیصلہ نے بھارتی سیاسی اور آئینی حلقوں میں ارتعاش سا پیدا کرتے ہوئے عالمی برادری تک اہل کشمیر کی حق خودارادیت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور بھارت کے اس استدلال اور فریب کاریوں کا پول کھول دیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور رہے گا۔
مقبوضہ جموں کشمیر کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس حسین مسعودی اور جسٹس راج کوتوال پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے فیصلہ میں کہا ہے آئین کے آرٹیکل 370کے تحت کشمیر نے اپنی خود مختاری برقرار رکھی تھی، آرٹیکل 370کو منسوخ کیا جا سکتا ہے نہ ہی اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے اور اس کے تحت مقبوضہ کشمیر بھارت کی ریاست نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر آرٹیکل 370کے تحت خود مختار ہے، عوام خود فیصلہ کرے گی کہ آیا اس نے کسی ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا الگ ریاست بنانی ہے۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے تو اسے عدلیہ کا تاریخی فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے کشمیر کی خود مختاری کی زمینی حقیقت کو ہٹ دھرمی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ اس موقع پر حریت کانفرنس سمیت متعدد رہنماؤں اور کشمیری عوام نے عدالتی فیصلہ پر زبردست اظہار مسرت کیا ۔ پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے، حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ نریندر مودی کشمیر کو اقتصادی ایشو نہ سمجھیں اور لفظی بازیگری ترک کر کے کشمیر کے سیاسی حل کے لیے ٹھوس پیش قدمی کریں۔
واضح رہے مودی 5 نومبر کو وادی کا دورہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیے اقتصادی پیکیج کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے کشمیری عوام حقارت سے ٹھکرا دیں گے ،کیونکہ عدالتی فیصلہ کے بعد اب صورتحال تبدیل ہونے جارہی ہے، بھارت پر عالمی دباؤ بڑھے گا اور اسے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے میں مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس کا مودی سرکار کو ادراک ہونا چاہیے۔ ادھر ایک کشمیری رہنما نے کہا کہ اہل کشمیر کے مسلم کردار و تشخص کر تبدیلی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ حریت رہنما شبیرشاہ کا کہنا ہے ہندوستان بندوق کے زور پر کشمیر میں حکومت کر رہا ہے تقسیم سے پہلے بھی کشمیر بھارت کا حصہ نہیں تھا ، یاسین ملک کے مطابق ہائیکورٹ نے وہی کہا جو کہنا چاہیے تھا۔
مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکمرانوں نے ہر منطقی، تاریخی ، سفارتی اور سیاسی فارمولے ، استدلال اور مزاکرات کی کوششوں اور اس کے نتائج کو ہمیشہ سبوتاژ کیا ہے، اور خطے میں امن سے وابستہ مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی کے نت نئے طریقے ایجاد کیے لیکن اب مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلہ سے بھارت کو کشمیر ایشو کے حل سے انحراف کا کوئی موقع نہیں ملے گا، مودی حکومت سر تسلیم خم کردے۔
مقبوضہ جموں کشمیر کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس حسین مسعودی اور جسٹس راج کوتوال پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے فیصلہ میں کہا ہے آئین کے آرٹیکل 370کے تحت کشمیر نے اپنی خود مختاری برقرار رکھی تھی، آرٹیکل 370کو منسوخ کیا جا سکتا ہے نہ ہی اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے اور اس کے تحت مقبوضہ کشمیر بھارت کی ریاست نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر آرٹیکل 370کے تحت خود مختار ہے، عوام خود فیصلہ کرے گی کہ آیا اس نے کسی ملک کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا الگ ریاست بنانی ہے۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے تو اسے عدلیہ کا تاریخی فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے کشمیر کی خود مختاری کی زمینی حقیقت کو ہٹ دھرمی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ اس موقع پر حریت کانفرنس سمیت متعدد رہنماؤں اور کشمیری عوام نے عدالتی فیصلہ پر زبردست اظہار مسرت کیا ۔ پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے، حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ نریندر مودی کشمیر کو اقتصادی ایشو نہ سمجھیں اور لفظی بازیگری ترک کر کے کشمیر کے سیاسی حل کے لیے ٹھوس پیش قدمی کریں۔
واضح رہے مودی 5 نومبر کو وادی کا دورہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیے اقتصادی پیکیج کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے کشمیری عوام حقارت سے ٹھکرا دیں گے ،کیونکہ عدالتی فیصلہ کے بعد اب صورتحال تبدیل ہونے جارہی ہے، بھارت پر عالمی دباؤ بڑھے گا اور اسے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے میں مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس کا مودی سرکار کو ادراک ہونا چاہیے۔ ادھر ایک کشمیری رہنما نے کہا کہ اہل کشمیر کے مسلم کردار و تشخص کر تبدیلی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ حریت رہنما شبیرشاہ کا کہنا ہے ہندوستان بندوق کے زور پر کشمیر میں حکومت کر رہا ہے تقسیم سے پہلے بھی کشمیر بھارت کا حصہ نہیں تھا ، یاسین ملک کے مطابق ہائیکورٹ نے وہی کہا جو کہنا چاہیے تھا۔
مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکمرانوں نے ہر منطقی، تاریخی ، سفارتی اور سیاسی فارمولے ، استدلال اور مزاکرات کی کوششوں اور اس کے نتائج کو ہمیشہ سبوتاژ کیا ہے، اور خطے میں امن سے وابستہ مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی کے نت نئے طریقے ایجاد کیے لیکن اب مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلہ سے بھارت کو کشمیر ایشو کے حل سے انحراف کا کوئی موقع نہیں ملے گا، مودی حکومت سر تسلیم خم کردے۔