امن ناگزیر باہمی اختلافات ختم کیے جائیں
آپریشن کے مثبت اثرات دیکھنے میں آئے اور شہر قائد میں امن کی فضا مکمل نہ سہی لیکن جزوی طور پر بحال نظر آنے لگی
پاک فوج و رینجرز صحیح سمت میں گامزن ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔فوٹو: فائل
ملک کے معاشی ہب میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال پر قابو پانے اور دہشت گردوں و شرپسندوں کی سرکوبی کے لیے شروع کیا جانے والا ''کراچی آپریشن'' کامیابی سے جاری ہے۔
بلاشبہ آپریشن کے مثبت اثرات دیکھنے میں آئے اور شہر قائد میں امن کی فضا مکمل نہ سہی لیکن جزوی طور پر بحال نظر آنے لگی لیکن ساتھ ہی شہر کی نمایندہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات بھی منظر عام پر آئے جس میں بطور خاص متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یکطرفہ کارروائی اور ٹارگٹ کیے جانے کی شکایات کا غلغلہ اٹھا، متحدہ کے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ نے اس جانبدارانہ رویے کے خلاف اپنے استعفے بھی داخل دفتر کر دیے تھے لیکن اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وفاقی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کراچی آپریشن پر تحفظات دور کرنے کے لیے 'شکایات ازالہ کمیٹی' قائم کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کمیٹی کے قیام کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار اور متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، ایم کیو ایم نے سینیٹ، قومی اور سندھ اسمبلی میں واپسی کو اس کمیٹی کے نوٹیفکیشن سے مشروط کیا تھا، اس کے علاوہ فاروق ستار نے سیاسی اور فلاحی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ متحدہ رہنما کنور نوید جمیل کے مطابق ایم کیو ایم پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی میں جلد واپس آ جائے گی۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کام کا آغاز ہم نے کیا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، امن قائم ہو گیا ہے، دہشت گردی میں واضح کمی آ گئی ہے، شہر قائد کی رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار اب کراچی آنے لگے ہیں۔ بلاشبہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات ایک جانب رکھ کر ملک و قوم کے مفاد اور ترقی کے لیے یکجا ہونا چاہیے۔ ملک میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، پاک فوج و رینجرز صحیح سمت میں گامزن ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
بلاشبہ آپریشن کے مثبت اثرات دیکھنے میں آئے اور شہر قائد میں امن کی فضا مکمل نہ سہی لیکن جزوی طور پر بحال نظر آنے لگی لیکن ساتھ ہی شہر کی نمایندہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات بھی منظر عام پر آئے جس میں بطور خاص متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یکطرفہ کارروائی اور ٹارگٹ کیے جانے کی شکایات کا غلغلہ اٹھا، متحدہ کے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ نے اس جانبدارانہ رویے کے خلاف اپنے استعفے بھی داخل دفتر کر دیے تھے لیکن اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وفاقی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کراچی آپریشن پر تحفظات دور کرنے کے لیے 'شکایات ازالہ کمیٹی' قائم کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کمیٹی کے قیام کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار اور متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، ایم کیو ایم نے سینیٹ، قومی اور سندھ اسمبلی میں واپسی کو اس کمیٹی کے نوٹیفکیشن سے مشروط کیا تھا، اس کے علاوہ فاروق ستار نے سیاسی اور فلاحی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ متحدہ رہنما کنور نوید جمیل کے مطابق ایم کیو ایم پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی میں جلد واپس آ جائے گی۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کام کا آغاز ہم نے کیا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، امن قائم ہو گیا ہے، دہشت گردی میں واضح کمی آ گئی ہے، شہر قائد کی رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار اب کراچی آنے لگے ہیں۔ بلاشبہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات ایک جانب رکھ کر ملک و قوم کے مفاد اور ترقی کے لیے یکجا ہونا چاہیے۔ ملک میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، پاک فوج و رینجرز صحیح سمت میں گامزن ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔