دُختر کشی ایک بھیانک دستاویز

ایسی خبریں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں کہ ایک، دو یا تین دن کی بچی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

zahedahina@gmail.com

ایسی خبریں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں کہ ایک، دو یا تین دن کی بچی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان خبروں کے تسلسل میں کمی نہیں آتی۔ ماریا کریم جی نے ایسی ہی ایک بچی کے بارے میں لکھا ہے۔ خطا اس کی یہ تھی کہ وہ بیٹی تھی جب کہ باپ کو بیٹے کی تمنا تھی۔ بیٹی کی ماں فریاد کرتی رہ جاتی ہے، لیکن نہ اس کے سسرالی اس کی آہ و زاری سنتے ہیں اور نہ باپ جس نے اس بچی کو ہلاک کیا۔

وہ کسی قسم کی ندامت کا اظہار کرنے کے بجائے الٹا بیوی کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے کہ اس نے بیٹا کیوں نہیں جنا۔ بیٹیاں تو زمین کا بوجھ ہوتی ہیں، انھیں جتنا جلدی زمین میں دبا دیا جائے، وہ اچھا ہے۔ ہمارے لیے یہ ناقابل تصور بات ہے لیکن ہم اس حقیقت سے نگاہیں نہیں چرا سکتے کہ یہ سب کچھ دن دھاڑے ہو رہا ہے اور ان بے زبان معصوموں کے قتل کا پرچا کسی کے نام نہیں کٹتا۔

بیٹیوں کے قتل کا یہ قصہ بہت پرانا ہے۔ ہم اگر ہندوستان، ایران اور عرب کی قدیم تاریخ کا جائزہ لیں تو پیدائش کے فوراً بعد بیٹیوں کا قتل ایک روز مرہ تھا۔ اس کی بنیادی وجہ غربت تھی۔ بیٹے کھیت میں ہل چلاتے تھے، محنت مشقت کرتے تھے جب کہ بیٹی خاندان پر بوجھ تھی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ قبائل کے وسائل محدود ہوتے تھے، ایسے میں بیٹیوں کو ہلاک کر دینا اس لیے جائز سمجھا جاتا تھا کہ بڑی ہوکر وہ ماں بنیں گی اور خود بھی لڑکیوں کو جنم دیں گی۔

یہ نامطلوب بیٹیاں پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ماؤں کے ہاتھوں قتل ہوتی تھیں جب کہ ان کی پیدائش پر اگر ایک دن سے زیادہ گزر جائے تو پھر ان کے قاتل ان کے باپ ہوتے تھے۔ زمانہ قدیم میں نوزائیدہ بچے اور بچیاں، دیوی، دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے ان کے چرنوں میں قربان کر دیے جاتے تھے۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوتا تھا۔ خاندان پر بوجھ بننے والی یا بننے والے سے نجات بھی ہو جاتی تھی اور دیوی، دیوتاؤں کو خوش کرنے کا فرض بھی پورا ہو جاتا تھا۔ آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران مختلف علاقوں میں ایسے مندر برآمد ہوئے ہیں جہاں سے نوزائیدہ یا سال بھر کے بچوں اور بچیوں کے ہزاروں ڈھانچے نکلے ہیں۔

پہلی قبل مسیح میں ایک شخص کا اپنی بیوی کو لکھا ہوا خط تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہے جو دخترکُشی کی ایک بھیانک دستاویز ہے۔ یہ شخص اسکندریہ سے اپنی بیوی کو خط لکھتا ہے جس میں وہ اسے یقین دلاتا ہے کہ جیسے ہی اسے اپنی محنت کا معاوضہ ملے گا وہ اسے فوراً بھجوا دے گا۔ اسی خط میں وہ اسے ہدایت کرتا ہے کہ بیٹے کے کھانے پینے اور ضرورتوں کا خیال رکھا جائے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کرتا ہے کہ اگر اس کے آنے سے پہلے اس کے ہاں ولادت ہو جائے اور بیٹا ہو تو اس کی پرورش احتیاط سے کرنا لیکن اگر بیٹی ہو تو اسے موسم کے سپرد کر دینا۔

روم اور بعض دوسرے علاقوں میں خود کو اپنی اولاد کا قاتل کہنے سے بچانے کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا گیا تھا کہ نوزائیدہ بچی کو کسی چادر میں لپیٹ کر ٹوکری یا مٹی کے برتن میں گھر کے باہر رکھ دیا جاتا۔ اب دیوتا اور موسم جانیں۔ وہ اگر اس بچی پر مہربان ہوتے ہیں اور کوئی راہ گیر اس پر ترس کھا کر اٹھا لے جاتا ہے تو دیوتاؤں کی مرضی اور اگر رات کی ٹھنڈک اور شبنم کی نمی اسے ہلاک کر دیتی ہے یا کوئی بھوکا کتا اسے چیر پھاڑ دیتا ہے تب بھی ذمے داری ماں باپ کی نہیں۔ نوزائیدہ کو موسم کے سپرد کر کے ماں باپ اپنے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں رکھتے تھے اور سب کچھ دیوی دیوتاؤں کی رضا پر چھوڑ دیتے تھے۔

مشہور اطالوی سیاح مارکوپولو نے موسم کے سپرد کر دی جانے والی نوزائیدہ بچیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔ ہمیں تیسری صدی قبل مسیح میں ایک چینی فلسفی کا یہ ''ہدایت نامہ'' بھی ملتا ہے کہ اگر ماں باپ کے یہاںبیٹا ہو تو وہ ایک دوسرے کو مبارکباد دیں اور اگر پیدا ہونے والی بیٹی ہو تو اسے قتل کر دیں۔ بیٹیوں کو پیدائش کے فوراً بعد قتل کر دینے کا ہیبت ناک رویہ قبل مسیح سے شروع ہوا تھا اور بعد مسیح بھی جاری رہا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی نے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے کیسی کیسی دوائیں اور آلات ایجاد کیے۔ ان ہی میں سے ایک الٹراساؤنڈ مشین بھی ہے۔ یہ مختلف بیماریوں کی تشخیص کے لیے ایجاد ہوئی تھی لیکن پھر اسے رحم مادر میں بیٹی یا بیٹے کی صنف جاننے کے لیے استعمال کیا جانے لگا اور یہیں سے بچیوں پر وہ ظلم شروع ہوا جو اس سے پہلے سنا یا دیکھا نہیں گیا تھا۔


یہ تمام باتیں مجھے اس وقت یاد آ رہی تھیں جب انجمن ترقی اردو میں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ہمارے عہد کے نہایت اہم اور بڑے ادیب ڈاکٹر حسن منظر کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا اور اس کی صدارت کا اعزاز میرے حصے میں آیا۔ ہمارے بہت سے ادیب جس عمر میں لکھنا ترک کر دیتے ہیں، اس میں حسن منظر صاحب نے افسانوں، ناولوں اور رپورتاژوں کے ڈھیر لگا دیے۔ ان کے موضوعات کا تنوع ہمیں حیران کر دیتا ہے۔

اس روز میں نے ڈاکٹر صاحب کے ایک ایسے افسانے کو موضوعِ گفتگو بنایا جس کا عنوان مرحوم ضمیر نیازی نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کی ہلاکت خیزیوں کے بارے میں اپنے عہد کی کچھ تحریروں کا انتخاب 'زمین کا نوحہ' کے عنوان سے مرتب کیا تھا۔ 'زمین کا نوحہ' ڈاکٹر حسن منظر کا افسانہ ہے جس میں بات ضرورت رشتہ کے اشتہاروں سے شروع ہوتی ہے۔

آہستہ آہستہ یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ لڑکیاں اب شاذ و نادر پیدا ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار اکٹھے کر کے جینیات کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مختلف تجربات کی بنا پر عورتیں اب بیٹیاں پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ رفتہ رفتہ عورتیں ختم ہوتی جاتی ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ساری دنیا کی حکومتیں ایک ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتی ہیں جو ان کی 'انسان بچاؤ' دوا استعمال کر کے فطری طور پر بیٹیوں اور بیٹوں کی ماں بن سکے۔ انھوں نے بچیوں کو پیدائش سے پہلے قتل کر دینے اور ایسے تجربات کا ذکر کیا ہے جن کے سبب عورتیں اب صرف بیٹوں کی ماں بنتی ہیں۔ جلد ہی اندازہ ہوتا ہے کہ عورت کی نسل اس کرۂ ارض سے ملیامیٹ ہونے والی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

'' اور پھر بالآخر وہ وقت آ گیا جب ایک دم لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ عورتیں دنیا سے غائب ہو چکی ہیں۔ ہر گاؤں ہر قریہ یہ بتا سکتا تھا کہ اس میں رہنے والی آخری عورت کب اور کہاں مری تھی اور اب وہ کہاں دفن ہے۔ حتیٰ کہ ایک کروڑ سے زیادہ کے شہر والے بھی اپنے شہر میں مرنے والی آخری پانچ یا دس عورتوں کے نام گنا سکتے تھے۔ مثلاً شیلا، اس سے پہلے جودھا ،اس سے پہلے سکینہ اور اور اس سے پہلے...''

یہ ایک ایسا افسانہ ہے جو اگر سچ ہو جائے تو سوچئے کہ دنیا پر کیا گزرے گی۔ انھوں نے اس افسانے میں صرف یہ مسئلہ نہیں اٹھایا ہے کہ بچیوں کو اب رحمِ مادر میں بھی قتل کا سامنا ہے، انھوں نے ہمیں زمین کی زندگی کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ وہ جس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں صبح، شام نوزائیدہ بچیاں موت کے گھاٹ اتاری جا رہی ہیں، مسئلہ وہی چاند سے بیٹے کا ہے۔

کرۂ ارض کا بھی دم گھٹ رہا ہے اور ہم یہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ ہم نے ہوس زر اور ہوس اقتدار میں اس کا کیا حشر کیا ہے۔ یہاں مجھے محترمہ حجاب امتیاز علی کا ناول 'پاگل خانہ' یاد آتا ہے جس میں انھوں نے زمین پر گزرنے والی ان آفتوں کا ذکر کیا ہے جو خود انسانوں کی لائی ہوئی ہیں جن میں سب سے بڑی آفت ایٹمی تجربات ہیں۔

ڈاکٹر حسن منظر کے افسانے میں ہماری زمین پر صرف ایک عورت بچی ہے، وہ بھی بیمار ہے۔ اس کا شوہر اور وہ اپنے آپ پر 'انسان بچاؤ' دوا کا تجربہ کرانے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں تک کہ وہ ختم ہو جاتی ہے اور اس کا شوہر سیکڑوں صحافیوں، ٹیلی وژن اور سیٹلائٹ کیمروں کی موجودگی میں اسے دفن کرتے ہوئے خود سے باتیں کرتا ہے۔ ''پیاری زمین، تو ابھی تک اچھی ہے۔ ابھی تک کتنی خوبصورت ہے۔ اتنی خوبصورت کہ میں اپنی سب سے خوبصورت متاع جسے میں نے تیرے ان دشمنوں کے حوالے نہیں کیا، آج تیرے حوالے کرنے کو تیار ہوں''۔

یہ جملے ہمیں بتاتے ہیں کہ دنیا کی آخری عورت مٹی میں مل گئی اور اب دنیا آہستہ آہستہ صحرا ہو جائے گی۔ بات دختر کشی اور حالیہ برسوں میں ماں کی کوکھ میں جنم لینے والی بیٹیوں کے قتل سے شروع ہوئی تھی اور ڈاکٹر حسن منظر تک پہنچی جنھوں نے 'زمین کا نوحہ' لکھا ہے۔ کیا یہ نوحہ، نغمے کا رنگ اختیار کر سکتا ہے؟ یہ بس اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم اپنے وجود میں وہ گداز پیدا کریں جو بیٹیوں اور بیٹوں میں تفریق نہیں کرے۔ بیٹیاں تو دل کے آئینے میں اترا ہوا چاند ہیں، اس چاند کو بھلا کون گُل کر سکتا ہے۔
Load Next Story