یورپ کی طرف بڑھتا پناہ گزینوں کا سیلاب

مشرق وسطیٰ سے نکلنے والی انسانوں کے سیلاب کی لہریں کسی سونامی کے سے انداز سے مسلسل یورپ کی طرف بڑھ رہی ہیں

وقت کی ضرورت یہ ہے کہ امریکا اور یورپ مشرق وسطیٰ اور دیگر غریب ممالک کے لیے اپنی پالیسی میں تبدیلی کریں تا کہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔ ملائیشیا،فوٹو فائل

مشرق وسطیٰ سے نکلنے والی انسانوں کے سیلاب کی لہریں کسی سونامی کے سے انداز سے مسلسل یورپ کی طرف بڑھ رہی ہیں جن کو روکنے کے لیے بیشتر یورپی ممالک اپنے ساحلوں پر بند باندھے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تازہ خبر کے مطابق سلوانیہ نے کروشیا کی سرحد پر اپنی فوج تعینات کر دی ہے تا کہ پناہ گزینوں کے سیلاب کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے موثر انداز سے روکا جا سکے۔ اور کوئی بعید نہیں کہ سلوانیہ کی فوج کو پناہ گزینوں کو گولی مارنے کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہوں تا کہ جو سمندر کی بپھری موجوں میں غرقاب ہونے سے بچ گئے، وہ سرحدی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن جائیں۔

اس بار شام عراق اور یمن وغیرہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلنے والے معاشی تارکین وطن نہیں ہیں کیونکہ متذکرہ تمام ممالک میں لوگ ایک نسبتاً خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے مگر خانہ جنگی کے باعث یہ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں اور اگر انھیں یورپی ملکوں والے بھی گولیوں سے بھوننے لگیں تو کس قدر ہولناک درندگی کی بات ہے جیسے ایان کرد جیسے ''ٹوڈلر'' کو سمندر نے ساحل پر پھینک کر ترقی یافتہ دنیا کے دل جھنجھوڑ دیے اور جرمنی کی خاتون چانسلر انجلا مرکل نے کہ دیا کہ جرمنی چار چھ لاکھ مہاجرین کو پناہ دینے پر تیار ہے۔


اس ضمن میں یہ حقیقت قابل ذکر ہے کہ یورپ کے دیگر ممالک کی مانند جرمنی میں بھی بوڑھوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا ہے جو کام کرنے کے قابل نہیں رہے لیکن دوسری طرف شرح پیدائش میں کمی کے باعث نئے نوجوان ان کی جگہ سنبھالنے اتنی تعداد میں نہیں آ رہے۔ چانسلر مرکل کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے پناہ گزین نوجوانوں کو جدید تربیت فراہم کر کے ملازمتوں کا خلا پورا کریں گی۔ ویسے جرمن چانسلر نے طنزاً ایک بات بھی کہی تھی کہ شام سے سعودیہ کا فاصلہ تو بہت نزدیک ہے اس کے باوجود وہ لوگ اتنا لمبا سفر کر کے یورپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ اگر امت مسلمہ کے موروثی حکمرانوں میں احساس کی اس قدر زیادہ قلت ہو چکی ہے کہ انھیں ایک گوری جرمن میم کی طنز کی بھی کوئی پروا نہیں حالانکہ جہاں تک رقبے کی وسعت کا تعلق ہے تو مشرق وسطیٰ کے امیر ممالک تیسری دنیا کی ساری افرادی قوت اکٹھی کر لیں تب بھی بہت سا رقبہ بچ جائے گا اور ان تارکین وطن کی محنت مشقت سے یہ اپنے صحراؤں کو نخلستانوں اور گلستانوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

مال و دولت کی ان کے پاس کوئی کمی نہیں ان کی تو پیڑو ڈالر کی آمدنی کا کوئی حساب نہیں جس کا خرچہ وہ مغرب سے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ اور گاڑیاں خریدنے پر کرتے ہیں۔ یہ سرمایہ انسانی ہمدردی کے استعمال میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ بہر حال یورپ اور امریکا نے شام' عراق' لیبیا' افغانستان' یمن اور افریقہ کے ممالک میں جو فساد برپا کیا ہے' اب وہ پناہ گزینوں کی شکل میں یورپ پر حملہ آور ہے، امریکا' کینیڈا کی طرف بھی پناہ گزین رخ کر رہے ہیں۔ لاطینی امریکا کے ممالک جن میں ارجنٹائن اور یورا گوائے شامل ہیں' وہاں بھی مشرق وسطیٰ سے پناہ گزین جا رہے ہیں، یقیناً پناہ گزینوں کی وجہ سے یورپ میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں' وقت کی ضرورت یہ ہے کہ امریکا اور یورپ مشرق وسطیٰ اور دیگر غریب ممالک کے لیے اپنی پالیسی میں تبدیلی کریں تا کہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
Load Next Story