جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اور امریکا

سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کو ایک ساتھ ہی نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بنایا جائے گا۔

بھارت روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے انبار لگا چکا ہے جس کے باعث خطے میں عدم توازن پیدا ہو چکا ہے ۔ فوٹو : این این آئی

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسے اقدامات نہ کرے جو جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود عدم توازن میں اضافے کی وجہ بن سکتے ہیں، امریکا بھارت کے ساتھ جیسے بھی تعلقات رکھنا چاہتا ہے، رکھ سکتا ہے لیکن ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی ہے تو کم از کم اسے چاہیے کہ علاقے میں روایتی اور اسٹرٹیجک عدم توازن کو اتنا نہ بڑھائے کہ وہ خطے کی سالمیت کے لیے خطرہ بن جائے۔امریکی حکام کی جانب سے پاکستان سے فوری جوہری معاہدے کے امکانات مسترد کیے جانے اور جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی پر بات کرنے کے بیان پر سرتاج عزیز نے وضاحت کی کہ اس معاملے پر بات چیت کافی عرصے سے جاری ہے اور عالمی برادری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہے، ہماری بنیادی ترجیح قومی مفاد اور اپنی سیکیورٹی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جہاں تک پاکستان کے جوہری طاقتوں کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے عمل کی بات ہے تو اس سلسلے میں کام جاری ہے۔

سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کو ایک ساتھ ہی نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا میں امریکی حکام سے جن بنیادی امور پر بات ہوگی ان میں بھارت سے تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے علاوہ افغانستان میں امن کی بحالی بھی شامل ہے ، صرف امریکا ہی نہیں دنیا کے باقی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں لیکن بنیادی چیز یہی ہے کہ خطے میں عدم توازن نہ بڑھے۔


وزیراعظم میاں محمد نواز شریف 20 اکتوبر سے اپنا دورہ امریکا شروع کریں گے، جنوبی ایشیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور اس خطے میں امریکا کے مستقبل کے حوالے سے تجارتی اور دفاعی مفادات کے پیش نظر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ دورہ امریکا نہایت اہمیت کا حامل ہے، خبروں کے مطابق دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات کا ایجنڈا چھ نکات پر مشتمل ہو گا۔ سرتاج عزیز کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکرات میں قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف امریکا کو بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی پیش کریں گے۔ پاکستان اس سے قبل اقوام متحدہ کو بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کر چکا ہے اور اب وہ امریکا کو بھی ثبوت پیش کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکا کا ردعمل کیا ہوتا ہے آیا وہ بھارتی مداخلت روکنے میں کامیاب ہو گا یا روایتی بیان بازی کے بعد ماضی کی طرح خاموشی اختیار کر لے گا۔ اب تک بھارتی مداخلت روکنے کے لیے اقوام متحدہ کا بھی کوئی کردار سامنے نہیں آیا لہٰذا مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکا سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہئیں کیونکہ موجودہ حالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے رہا ہے۔

امریکا نے 2005ء میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا تب پاکستان نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ایک اہم اتحادی ہونے کے ناتے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا جائے مگر امریکا نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ گزشتہ دنوں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ پاکستان امریکا کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں مگر چند روز قبل امریکا نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے موقع پر جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کی بات تو ہو گی لیکن جوہری معاہدے کے امکانات نہیں ہیں۔ پاکستان کا امریکا سے یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ وہ ایسے اقدامات نہ کرے جس سے جنوبی ایشیاء میں عدم توازن میں اضافہ ہو اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچے۔ بھارت روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے انبار لگا چکا ہے جس کے باعث خطے میں عدم توازن پیدا ہو چکا ہے امریکا کو بھی اس کا بخوبی ادراک ہے مگر اس کے باوجود اگر وہ بھارت کو مزید طاقتور بنانے کے لیے اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کرتا ہے تو اس سے خطے میں عدم توازن یقیناً بڑھے گا۔

جہاں تک افغانستان کے مستقبل کا معاملہ ہے تو سرتاج عزیز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہاں حالات کی بہتری اور استحکام کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں گے پاکستان ان کا خیرمقدم کرے گا لیکن اصل فیصلہ افغان حکومت کا ہے اگر وہ چاہے گی کہ پاکستان اس کا حصہ بنے تو وہ اس معاملے میں رابطہ کاری اور تعاون کے تیار ہے۔ مضبوط اور پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ وہاں کے حالات بہتر ہو جائیں لیکن وہاں بڑھتے ہوئے بھارتی اثرات اور موجودہ افغان حکومت کا پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ بہت سے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ افغان حکومت کو اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ افغانستان میں مستقل اور پائیدار امن کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان ہی اس کا بہترین دوست ثابت ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں اس کا تعاون نہایت ضروری ہے۔
Load Next Story