انگلینڈ کو اپنے لیے خطرہ خود بنایا ہیڈ کوچ
ابوظبی میچ باآسانی ڈرا کیا جاسکتا تھا لیکن بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی نے مشکل میں ڈال دیا تھا، وقار یونس
کم روشنی پر کھیل روکے جانے پر ٹیم مینجمنٹ کے بند کمرے میں میچ ریفری سے ملاقات میں گلے شکوے، کیا قوانین کے مطابق کھیلنا واقعی خطرناک تھا؟ کک۔ فوٹو: آن لائن/فائل
HYDERABAD:
پاکستانی ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ابوظبی ٹیسٹ میں ہمارے بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے انگلینڈ کو اپنے لیے خطرہ بننے کا موقع دیا، وکٹ سے مایوسی ہوئی، دونوں ٹیموں نے کیچز ڈرا پ کیے، اگر یہ مواقع ضائع نہیں ہوتے تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ہم نے ابوظبی میچ میں انگلینڈ کو اپنے لیے خود خطرہ بننے دیا، ابوظبی کی وکٹ سے مجھے بھی مایوسی ہوئی، خبررساں ادارے سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے انگلینڈ کو خطرہ بننے دیا، ہمارے پلیئرز نے دوسری اننگز میں جس طرح کی بیٹنگ کی وہ میرے لیے کسی طور قابل قبول نہیں ہے، یہ میچ بڑے اطمینان سے ڈرا ہوجاتا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ انگلینڈ کی ٹیم خطرہ بنتے ہوئے جیتنے کی پوزیشن میں آگئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں یہ سیریز جیتنی ہے تو ہمیں بہت کام کرنا ہوگا۔پاکستانی بیٹنگ بہت تجربہ کار ہے لیکن آخری سیشن میں وہ جس طرح آؤٹ ہوئی ہمیں اس پرغور کرنا ہوگا، یہ کھیل ہر سیشن میں اچھا کھیل پیش کرنے کا ہے اور اگر کسی ایک سیشن میں بھی آپ اچھا نہیں کھیلتے تو حریف ٹیم آپ کو نہیں چھوڑتی جیسا کہ انگلینڈ نے کیا تھا، سابق پیسر نے مزید کہا کہ بیٹسمینوں کو سخت دباؤ میں بیٹنگ کرنی ہوگی، تاہم مجھے یقین ہے کہ اگلے میچزمیں صورتحال مختلف ہوگی، یاسر شاہ کی ٹیم میں واپسی پاکستان کے نقطہ نظر سے اہم ہے لیکن انگلینڈ کی ٹیم کو بھی پہلے ٹیسٹ سے حوصلہ ملا ہے۔ابوظبی کی وکٹ کی بابت انھوں نے کہا کہ پچ سے مجھے مایوسی ضرور ہوئی لیکن میں اس پر تنقید کرنا نہیں چاہتا کیونکہ دونوں ٹیموں نے کیچز ڈراپ کیے، اگر یہ کیچز تھام لیے جاتے تو مختلف میچ ہوسکتا تھا، ماضی میں یہ وکٹ ہمیشہ ہمارے لیے مددگار رہی ہے اور اس پر نتیجے برآمد ہوئے ہیں لیکن اس بار یہ بہت سلو تھی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق فتح کیلیے درکار چند اوورز کی مہلت نہ دیے جانے پر انگلش ٹیم مینجمنٹ نے بند کمرے میں زمبابوے سے تعلق رکھنے والے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، برطانوی خبررساں اداروں کی رپورٹ میں شائع ہونے والے الیسٹرکک کے بیانات میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، کپتان نے کہا کہ کیا قوانین کی کتاب کے مطابق ان کنڈیشنز میں کھیلنا واقعی خطرناک تھا، میرے خیال میں کھلاڑیوں کے تحفظ کو کوئی خدشات لاحق نہیں تھے،میں میچ ریفریز کی کئی میٹنگز میں بیٹھا ہوں، ہر بار کھیل جاری رکھنا پلیئرز کیلیے غیر محفوظ ہوتا، کرکٹ کیلیے موزوں نہیں تھا جیسے لفظ ہی سننے کو ملتے ہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ ایک طرٖف ہم ٹیسٹ کرکٹ کی کھوئی ہوئی مقبولیت واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری جانب میچز کا اس طرٖح کا انجام ہوتا ہے جو کھیل اور شائقین دونوں کیلیے اچھی بات نہیں، اگر پاکستان جیت رہا ہوتا تو بھی مصنوعی روشنی میں میچ جاری رہنا چاہیے تھا، ایک طرف تو ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کی باتیں ہوتی ہیں،دوسری جانب ہم دن کے اوورز پورے کرنے کیلیے بھی لائٹس کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتے۔
پاکستانی ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ابوظبی ٹیسٹ میں ہمارے بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے انگلینڈ کو اپنے لیے خطرہ بننے کا موقع دیا، وکٹ سے مایوسی ہوئی، دونوں ٹیموں نے کیچز ڈرا پ کیے، اگر یہ مواقع ضائع نہیں ہوتے تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ ہم نے ابوظبی میچ میں انگلینڈ کو اپنے لیے خود خطرہ بننے دیا، ابوظبی کی وکٹ سے مجھے بھی مایوسی ہوئی، خبررساں ادارے سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی نے انگلینڈ کو خطرہ بننے دیا، ہمارے پلیئرز نے دوسری اننگز میں جس طرح کی بیٹنگ کی وہ میرے لیے کسی طور قابل قبول نہیں ہے، یہ میچ بڑے اطمینان سے ڈرا ہوجاتا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ انگلینڈ کی ٹیم خطرہ بنتے ہوئے جیتنے کی پوزیشن میں آگئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں یہ سیریز جیتنی ہے تو ہمیں بہت کام کرنا ہوگا۔پاکستانی بیٹنگ بہت تجربہ کار ہے لیکن آخری سیشن میں وہ جس طرح آؤٹ ہوئی ہمیں اس پرغور کرنا ہوگا، یہ کھیل ہر سیشن میں اچھا کھیل پیش کرنے کا ہے اور اگر کسی ایک سیشن میں بھی آپ اچھا نہیں کھیلتے تو حریف ٹیم آپ کو نہیں چھوڑتی جیسا کہ انگلینڈ نے کیا تھا، سابق پیسر نے مزید کہا کہ بیٹسمینوں کو سخت دباؤ میں بیٹنگ کرنی ہوگی، تاہم مجھے یقین ہے کہ اگلے میچزمیں صورتحال مختلف ہوگی، یاسر شاہ کی ٹیم میں واپسی پاکستان کے نقطہ نظر سے اہم ہے لیکن انگلینڈ کی ٹیم کو بھی پہلے ٹیسٹ سے حوصلہ ملا ہے۔ابوظبی کی وکٹ کی بابت انھوں نے کہا کہ پچ سے مجھے مایوسی ضرور ہوئی لیکن میں اس پر تنقید کرنا نہیں چاہتا کیونکہ دونوں ٹیموں نے کیچز ڈراپ کیے، اگر یہ کیچز تھام لیے جاتے تو مختلف میچ ہوسکتا تھا، ماضی میں یہ وکٹ ہمیشہ ہمارے لیے مددگار رہی ہے اور اس پر نتیجے برآمد ہوئے ہیں لیکن اس بار یہ بہت سلو تھی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق فتح کیلیے درکار چند اوورز کی مہلت نہ دیے جانے پر انگلش ٹیم مینجمنٹ نے بند کمرے میں زمبابوے سے تعلق رکھنے والے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، برطانوی خبررساں اداروں کی رپورٹ میں شائع ہونے والے الیسٹرکک کے بیانات میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، کپتان نے کہا کہ کیا قوانین کی کتاب کے مطابق ان کنڈیشنز میں کھیلنا واقعی خطرناک تھا، میرے خیال میں کھلاڑیوں کے تحفظ کو کوئی خدشات لاحق نہیں تھے،میں میچ ریفریز کی کئی میٹنگز میں بیٹھا ہوں، ہر بار کھیل جاری رکھنا پلیئرز کیلیے غیر محفوظ ہوتا، کرکٹ کیلیے موزوں نہیں تھا جیسے لفظ ہی سننے کو ملتے ہیں۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ ایک طرٖف ہم ٹیسٹ کرکٹ کی کھوئی ہوئی مقبولیت واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری جانب میچز کا اس طرٖح کا انجام ہوتا ہے جو کھیل اور شائقین دونوں کیلیے اچھی بات نہیں، اگر پاکستان جیت رہا ہوتا تو بھی مصنوعی روشنی میں میچ جاری رہنا چاہیے تھا، ایک طرف تو ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کی باتیں ہوتی ہیں،دوسری جانب ہم دن کے اوورز پورے کرنے کیلیے بھی لائٹس کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتے۔