جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے
باجوڑ ایجنسی میں بھی فوجی کارروائی کی گئی اور اب وہاں بھی امن قائم ہو گیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن پر ہمیں قومی اتفاق رائے حاصل تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہے. فوٹو: رائٹرز
لاہور:
صدر آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان میں فوری آپریشن کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفاہمت کے بغیر ملک میں کہیں بھی فوجی آپریشن نہیں ہو گا۔
صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو ایوان صدر میں ''میڈیا،عسکریت پسندی اور شفاف انتخابات'' کے موضوع پر سیفما کے زیر اہتمام پانچویں قومی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن پر ہمیں قومی اتفاق رائے حاصل تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہے جو آنے والے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ طاقت کے استعمال کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ مکمل اتفاق رائے' درست پیرائے اور مناسب وقت پر کیا جائے گا' ملالہ سمیت دہشت گردی کا شکار بننے والے ہر بچے کا دکھ ہمارا دکھ ہے' ملالہ واقعے کے تناظر میں حکومت سے جلد بازی میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے کہنا درست نہیں ہے۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کی باتیں نئی نہیں ہیں۔افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس علاقے کے سیاسی حالات میں بہت زیادہ تبدیلی آئی،ایف سی آر کے تحت جو روایتی سسٹم کام کررہا تھا، وہ ناکام ہوگیا۔عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں آغاز میں محدود رہیں لیکن پھر بتدریج ریاست کے مشکلات پیدا ہونے لگیں۔2007ء میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ایک اجلاس ہوا تھا' اس اجلاس میں بھی اس قبائلی ایجنسی میں طالبانائزیشن روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے تھے اور کچھ فیصلے بھی ہوئے تھے۔
ان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی شامل تھا' اس کے بعد بھی گاہے بگاہے یہاں محدود پیمانے پر کارروائی بھی ہوتی رہی، قبائلیوں اور جنگجوؤں سے امن معاہدے بھی ہوئے لیکن یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکا۔ اب سوات میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے بعد میڈیا میں شور اٹھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے' اس میں دورائے نہیں ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ جو شخص' گروہ یا طبقہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے' بے گناہ انسانوں کو قتل کرے' قومی تنصیبات کو نقصان پہنچائے یا بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ملوث پایا جائے، اس کے خلاف ہر صورت میں تادیبی کارروائی ہونی چاہیے لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ کارروائی ٹارگٹڈ ہو اور اسے قوم کی تائید و حمایت بھی حاصل ہو۔ سوات میں جو فوجی آپریشن ہوا' اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا' اسی طرح جنوبی وزیرستان میں آپریشن کو بھی عوامی نمایندوں کی تائید حاصل ہے۔
باجوڑ ایجنسی میں بھی فوجی کارروائی کی گئی اور اب وہاں بھی امن قائم ہو گیا ہے۔ان علاقوں میں آپریشن کے معاملے پر عوام حکومت اور فوج کے ساتھ تھی اور ہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے جن خدشات و خطرات کی نشاندہی کی ہے' وہ قابل غور ہیں' اولاً ملالہ پر قاتلانہ حملے کے جواز میں فوری طور پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنا ،درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ثانیاً شمالی وزیرستان آسان علاقہ نہیںہے۔ یہ جنوبی وزیرستان سے بھی زیادہ دشوار گزار ہے' شمالی وزیرستان کم و بیش ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلو میٹر پر محیط علاقہ ہے اور یہاں ساڑھے تین لاکھ کے قریب قبائلی آباد ہیں' یہ ایجنسی مغرب میں افغانستان سے جڑی ہوئی ہے' اتنے وسیع اور مشکل علاقے میں آپریشن کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ایسے آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بے پناہ وسائل کی ضرورت ہے۔
جنوبی وزیرستان میں پہلے ہی وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ سوات میں بھی بے گھر ہونے والوں کی آبادکاری اور تعمیر نو پر بھاری اخراجات ہوئے ہیں ، ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو متحرک رکھنے کے لیے بھی روزانہ کی بنیاد پر بھاری اخراجات ہورہے ہیں۔ امریکا اور مغربی یورپ کا طرز عمل ہمارے سامنے ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کی قیادت یہ تو کہتی ہے کہ دہشت گردوں یا عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے لیکن پاکستان کو امداد دینے کے معاملے میں پس و پیش کرتی ہے۔ صدر مملکت نے بھی اپنے خطاب میں واضع طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام ممالک نے تعاون کا یقین دلایا لیکن چین کے سوا کسی نے صحیح معنوں میں ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان کی اپنی معاشی حالت بھی سب کے سامنے ہے۔ہماری معیشت جنگی نوعیت کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
پہاڑوں میں گوریلا جنگ لڑنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ سسٹم اور دیگر حربی آلات کی ضرورت ہے' پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے پاس ویسے ہی آلات اور اسلحہ ہونا چاہیے جو افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوج کے زیر استعمال ہے لیکن امریکا اور یورپ ایسی امداد سے گھبرا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے لیے جنوبی وزیرستان اور سوات کے بعد شمالی وزیرستان میں انگیج ہونا' بہت سے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ہمارے ملک کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ اور انٹیلی جنشیا کی سوچ بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
ان حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ منصوبہ بندی' بھرپور تیاری اور عوامی حمایت کے بغیر شمالی وزیرستان کا آپریشن فائر بیک کر سکتا ہے' اگر ایسا ہوا تو اس کے نقصانات انتہائی شدید ہوں گے۔ پاکستان میں ایک طاقتور طبقہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے سخت خلاف ہے۔ کئی سیاسی رہنما اور دانشور برسرعام شمالی وزیرستان میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں' انھیں بہت سے حقائق کا پتہ نہیں ہے۔ پہلے تو یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ جن کے خلاف آپریشن ہونا ہے وہ کون ہیں؟ وہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہیں یا نقصان کا باعث۔کیا ان کی وجہ سے پاکستان کے مفادات خطرات سے دوچار ہیں۔ کیا پاکستان ان کی وجہ سے عالمی تنہائی کا شکار ہے؟ ابھی تک تو ہم اچھے اور برے طالبان کی تقسیم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ کنفیوژن پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ہمارے قبائلی علاقے کیونکہ افغانستان سے متصل ہیں اور وہاں سرحدوں کا تعین بھی پوری طرح واضح نہیں ہے' اس لیے وہاں چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں ہے۔ دراندازوں کا آر پار جانا مشکل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں موجود ایساف آرمی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں' یہ امر خوش آیند ہے' اب اعلیٰ سطح پر عسکریت پسندوں کے خلاف یکساں سوچ پیدا ہو رہی ہے۔ سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن اسی سوچ کی وجہ سے ممکن ہوا' اب شمالی وزیرستان میں آپریشن بھی اسی وقت کامیاب اور ممکن ہو گا جب مقتدر حلقوں میں تقسیم ختم ہو گی۔ اگر اعلیٰ سطح پر کوئی متفقہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے تو پھر قومی اتحاد پیدا کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان کے حوالے سے فیصلہ وہ ہونا چاہیے جو پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد ہو نہ کہ امریکا یا مغربی یورپ کے۔بلا سوچے سمجھے اٹھایا گیا ، کوئی قدم پاکستان کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان میں فوری آپریشن کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفاہمت کے بغیر ملک میں کہیں بھی فوجی آپریشن نہیں ہو گا۔
صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو ایوان صدر میں ''میڈیا،عسکریت پسندی اور شفاف انتخابات'' کے موضوع پر سیفما کے زیر اہتمام پانچویں قومی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن پر ہمیں قومی اتفاق رائے حاصل تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہے جو آنے والے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ طاقت کے استعمال کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ مکمل اتفاق رائے' درست پیرائے اور مناسب وقت پر کیا جائے گا' ملالہ سمیت دہشت گردی کا شکار بننے والے ہر بچے کا دکھ ہمارا دکھ ہے' ملالہ واقعے کے تناظر میں حکومت سے جلد بازی میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے کہنا درست نہیں ہے۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کی باتیں نئی نہیں ہیں۔افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس علاقے کے سیاسی حالات میں بہت زیادہ تبدیلی آئی،ایف سی آر کے تحت جو روایتی سسٹم کام کررہا تھا، وہ ناکام ہوگیا۔عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں آغاز میں محدود رہیں لیکن پھر بتدریج ریاست کے مشکلات پیدا ہونے لگیں۔2007ء میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ایک اجلاس ہوا تھا' اس اجلاس میں بھی اس قبائلی ایجنسی میں طالبانائزیشن روکنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے تھے اور کچھ فیصلے بھی ہوئے تھے۔
ان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی شامل تھا' اس کے بعد بھی گاہے بگاہے یہاں محدود پیمانے پر کارروائی بھی ہوتی رہی، قبائلیوں اور جنگجوؤں سے امن معاہدے بھی ہوئے لیکن یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکا۔ اب سوات میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے بعد میڈیا میں شور اٹھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے' اس میں دورائے نہیں ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ جو شخص' گروہ یا طبقہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے' بے گناہ انسانوں کو قتل کرے' قومی تنصیبات کو نقصان پہنچائے یا بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ملوث پایا جائے، اس کے خلاف ہر صورت میں تادیبی کارروائی ہونی چاہیے لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ کارروائی ٹارگٹڈ ہو اور اسے قوم کی تائید و حمایت بھی حاصل ہو۔ سوات میں جو فوجی آپریشن ہوا' اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا' اسی طرح جنوبی وزیرستان میں آپریشن کو بھی عوامی نمایندوں کی تائید حاصل ہے۔
باجوڑ ایجنسی میں بھی فوجی کارروائی کی گئی اور اب وہاں بھی امن قائم ہو گیا ہے۔ان علاقوں میں آپریشن کے معاملے پر عوام حکومت اور فوج کے ساتھ تھی اور ہے۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے جن خدشات و خطرات کی نشاندہی کی ہے' وہ قابل غور ہیں' اولاً ملالہ پر قاتلانہ حملے کے جواز میں فوری طور پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنا ،درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ثانیاً شمالی وزیرستان آسان علاقہ نہیںہے۔ یہ جنوبی وزیرستان سے بھی زیادہ دشوار گزار ہے' شمالی وزیرستان کم و بیش ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلو میٹر پر محیط علاقہ ہے اور یہاں ساڑھے تین لاکھ کے قریب قبائلی آباد ہیں' یہ ایجنسی مغرب میں افغانستان سے جڑی ہوئی ہے' اتنے وسیع اور مشکل علاقے میں آپریشن کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ایسے آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بے پناہ وسائل کی ضرورت ہے۔
جنوبی وزیرستان میں پہلے ہی وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ سوات میں بھی بے گھر ہونے والوں کی آبادکاری اور تعمیر نو پر بھاری اخراجات ہوئے ہیں ، ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو متحرک رکھنے کے لیے بھی روزانہ کی بنیاد پر بھاری اخراجات ہورہے ہیں۔ امریکا اور مغربی یورپ کا طرز عمل ہمارے سامنے ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کی قیادت یہ تو کہتی ہے کہ دہشت گردوں یا عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے لیکن پاکستان کو امداد دینے کے معاملے میں پس و پیش کرتی ہے۔ صدر مملکت نے بھی اپنے خطاب میں واضع طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام ممالک نے تعاون کا یقین دلایا لیکن چین کے سوا کسی نے صحیح معنوں میں ساتھ نہیں دیا۔ پاکستان کی اپنی معاشی حالت بھی سب کے سامنے ہے۔ہماری معیشت جنگی نوعیت کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔
پہاڑوں میں گوریلا جنگ لڑنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ سسٹم اور دیگر حربی آلات کی ضرورت ہے' پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے پاس ویسے ہی آلات اور اسلحہ ہونا چاہیے جو افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوج کے زیر استعمال ہے لیکن امریکا اور یورپ ایسی امداد سے گھبرا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے لیے جنوبی وزیرستان اور سوات کے بعد شمالی وزیرستان میں انگیج ہونا' بہت سے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ہمارے ملک کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ اور انٹیلی جنشیا کی سوچ بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
ان حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ منصوبہ بندی' بھرپور تیاری اور عوامی حمایت کے بغیر شمالی وزیرستان کا آپریشن فائر بیک کر سکتا ہے' اگر ایسا ہوا تو اس کے نقصانات انتہائی شدید ہوں گے۔ پاکستان میں ایک طاقتور طبقہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے سخت خلاف ہے۔ کئی سیاسی رہنما اور دانشور برسرعام شمالی وزیرستان میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں' انھیں بہت سے حقائق کا پتہ نہیں ہے۔ پہلے تو یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ جن کے خلاف آپریشن ہونا ہے وہ کون ہیں؟ وہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہیں یا نقصان کا باعث۔کیا ان کی وجہ سے پاکستان کے مفادات خطرات سے دوچار ہیں۔ کیا پاکستان ان کی وجہ سے عالمی تنہائی کا شکار ہے؟ ابھی تک تو ہم اچھے اور برے طالبان کی تقسیم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ کنفیوژن پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ہمارے قبائلی علاقے کیونکہ افغانستان سے متصل ہیں اور وہاں سرحدوں کا تعین بھی پوری طرح واضح نہیں ہے' اس لیے وہاں چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں ہے۔ دراندازوں کا آر پار جانا مشکل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں موجود ایساف آرمی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں' یہ امر خوش آیند ہے' اب اعلیٰ سطح پر عسکریت پسندوں کے خلاف یکساں سوچ پیدا ہو رہی ہے۔ سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن اسی سوچ کی وجہ سے ممکن ہوا' اب شمالی وزیرستان میں آپریشن بھی اسی وقت کامیاب اور ممکن ہو گا جب مقتدر حلقوں میں تقسیم ختم ہو گی۔ اگر اعلیٰ سطح پر کوئی متفقہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے تو پھر قومی اتحاد پیدا کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان کے حوالے سے فیصلہ وہ ہونا چاہیے جو پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد ہو نہ کہ امریکا یا مغربی یورپ کے۔بلا سوچے سمجھے اٹھایا گیا ، کوئی قدم پاکستان کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔