بنگلہ دیشی حکومت نے کرکٹ بورڈ پر شکنجہ کس دیا
ترامیم میں خود ہی ردوبدل کرتے ہوئے جمہوری سسٹم لانے کے باوجود کنٹرول برقرار رکھا.
ترامیم میں خود ہی ردوبدل کرتے ہوئے جمہوری سسٹم لانے کے باوجود کنٹرول برقرار رکھا. فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بنگلہ دیشی حکومت نے آئینی ترامیم کے ذریعے ملکی کرکٹ پر کنٹرول مزید مستحکم کرلیا۔
نیشنل اسپورٹس کونسل نے بی سی بی کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترامیم میں خود ہی ردوبدل کرتے ہوئے بورڈ میں جمہوری سسٹم لانے کے باوجود کھیل میں اپنا عمل دخل برقرار رکھا ہے۔ آئینی ترامیم کے تحت اب بی سی بی کے صدر کا تقرر باقاعدہ انتخابات کے ذریعے ہوگا جس میں 168 کونسلرز حصہ لیں گے۔ نیشنل اسپورٹس کونسل نے غیرمنتخب ڈائریکٹرز کی تعداد ایک سے تین کردی اور ان کا تقرر وہ براہ راست کرے گی۔
اسی طرح سابق کھلاڑیوں کی کونسلر شپ ختم کرنے کی سفارش مسترد کرنے کے ساتھ بورڈ صدر کو صرف 5 سابق کپتانوں کو کونسلر منتخب کرنے کا اختیاردیا گیا،سابق انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں میں سے باقی 10 کونسلر کا انتخاب کونسل خود کرے گی، اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرح بی سی بی میں چیف ایگزیکٹیو کے بجائے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تقرری کی تجویز بھی رد کردی گئی۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے تمام کرکٹ بورڈز کو حکومتی اثررسوخ سے باہر نکلنے کی ہدایت کررکھی ہے جس کے تحت بورڈ انتظامیہ کا جمہوری طریقے سے منتخب ہونا ضروری ہے۔یاد رہے کہ نظم الحسن کو حال ہی میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔
بنگلہ دیشی حکومت نے آئینی ترامیم کے ذریعے ملکی کرکٹ پر کنٹرول مزید مستحکم کرلیا۔
نیشنل اسپورٹس کونسل نے بی سی بی کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترامیم میں خود ہی ردوبدل کرتے ہوئے بورڈ میں جمہوری سسٹم لانے کے باوجود کھیل میں اپنا عمل دخل برقرار رکھا ہے۔ آئینی ترامیم کے تحت اب بی سی بی کے صدر کا تقرر باقاعدہ انتخابات کے ذریعے ہوگا جس میں 168 کونسلرز حصہ لیں گے۔ نیشنل اسپورٹس کونسل نے غیرمنتخب ڈائریکٹرز کی تعداد ایک سے تین کردی اور ان کا تقرر وہ براہ راست کرے گی۔
اسی طرح سابق کھلاڑیوں کی کونسلر شپ ختم کرنے کی سفارش مسترد کرنے کے ساتھ بورڈ صدر کو صرف 5 سابق کپتانوں کو کونسلر منتخب کرنے کا اختیاردیا گیا،سابق انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں میں سے باقی 10 کونسلر کا انتخاب کونسل خود کرے گی، اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرح بی سی بی میں چیف ایگزیکٹیو کے بجائے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تقرری کی تجویز بھی رد کردی گئی۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے تمام کرکٹ بورڈز کو حکومتی اثررسوخ سے باہر نکلنے کی ہدایت کررکھی ہے جس کے تحت بورڈ انتظامیہ کا جمہوری طریقے سے منتخب ہونا ضروری ہے۔یاد رہے کہ نظم الحسن کو حال ہی میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔