ڈنگی وائرس علاج کی فوری سہولتیں ناگزیر
ڈنگی بخار اور اس کا سبب بننے والے مچھر کے شکار افراد کی خبریں ایک بار پھر اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
ضرورت ڈنگی بخار کو کنٹرول کرنے کی سائنسی تدابیر کی ہے جو بہر طور بہتر طبی اقدامات اور فوری سہولیات کا تقاضا کرتی ہیں۔ فوٹو: فائل
ڈنگی بخار اور اس کا سبب بننے والے مچھر کے شکار افراد کی خبریں ایک بار پھر اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں، ملک کے مختلف اسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سینٹرز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں 2 ہزار افراد ڈنگی کا شکار ہوگئے ہیں ، کئی اسپتالوں میں مزید مریض اسپتال پہنچ گئے ہیں جس کے باعث اسپتالوں میں بیڈ کم پڑگئے ہیں جب کہ آٹھ افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں۔
ڈنگی کے انسدادی حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔افسوس ناک بات ڈنگی کی بے قابو واپسی نہیں بلکہ وہ بے بسی ہے جو سرکاری اسپتالوں میں ضروری آلات ، طبی سہولیات اور دواؤں کی قلت یا کمیابی کے باعث نظر آتی ہے، کہیں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ، اور کہیں ڈسپنسریوں کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے ، تشخیصی میکنزم نہیں، پلیٹی لٹ بیگز موجود نہیں۔ ڈنگی بخار عالمی ادارہ صحت کے مطابق استوائی اور نیم استوائی خطوں کے شہری و نیم شہری علاقوں میں پرورش پاتا ہے جہاں درجہ حرارت 35-36 سینٹی گریڈ یا اس سے کم و بیش رہتا ہے تو تیزی سے اپنے شکار کو ہدف بناتا ہے، یہی صورتحال خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی دیکھی گئی جہاں ڈنگی مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
واضح رہے گزشتہ سال بھی اکتوبر کا مہینہ پنجاب میں ڈنگی بخار کی شدت سے واپسی کا مہینہ تھا جس میں راولپنڈی کے 297 افراد کو ڈنگی مچھروں نے کاٹا۔ راولپنڈی میں اتوار کو 6 مریضوں کو سول اسپتال ، 36کو ہولی فیملی جب کہ 28 کوبینظیر بھٹو جنرل اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ تینوں اسپتالوں میں ڈنگی کے مریضوں کے لیے مجموعی طور پر 400 بیڈ مختص ہیں اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز ہونیوالے اضافے کے باعث بیڈ کم پڑگئے ہیں اور ساتھ ساتھ اسپتالوں میں دیگر مریضوں کے علاج معالجے کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔
کراچی سے ڈنگی سر ویلنس سیل کے سربراہ ڈاکٹر مسعود کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15افراد ڈنگی بخار کا شکار ہو گئے ہیں۔ رواں سال سندھ میں ڈنگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 2500 تک جا پہنچی ہے۔ادھرسوات میں دو نئے کیس سامنے آنے کے بعد ڈنگی مریضوں کی تعداد25 ہوگئی ہے۔ ملتان میں ڈنگی کے مریض بڑھ کر میں 160 ، لاہور میں21 ہوگئی ہے۔
ملتان میں 19نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ بٹگرام میں بھی ڈنگی وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد ضلع میں ڈنگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 10ہوگئی ہے۔ ضرورت ڈنگی بخار کو کنٹرول کرنے کی سائنسی تدابیر کی ہے جو بہر طور بہتر طبی اقدامات اور فوری سہولیات کا تقاضا کرتی ہیں۔
ڈنگی کے انسدادی حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔افسوس ناک بات ڈنگی کی بے قابو واپسی نہیں بلکہ وہ بے بسی ہے جو سرکاری اسپتالوں میں ضروری آلات ، طبی سہولیات اور دواؤں کی قلت یا کمیابی کے باعث نظر آتی ہے، کہیں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ، اور کہیں ڈسپنسریوں کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے ، تشخیصی میکنزم نہیں، پلیٹی لٹ بیگز موجود نہیں۔ ڈنگی بخار عالمی ادارہ صحت کے مطابق استوائی اور نیم استوائی خطوں کے شہری و نیم شہری علاقوں میں پرورش پاتا ہے جہاں درجہ حرارت 35-36 سینٹی گریڈ یا اس سے کم و بیش رہتا ہے تو تیزی سے اپنے شکار کو ہدف بناتا ہے، یہی صورتحال خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی دیکھی گئی جہاں ڈنگی مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
واضح رہے گزشتہ سال بھی اکتوبر کا مہینہ پنجاب میں ڈنگی بخار کی شدت سے واپسی کا مہینہ تھا جس میں راولپنڈی کے 297 افراد کو ڈنگی مچھروں نے کاٹا۔ راولپنڈی میں اتوار کو 6 مریضوں کو سول اسپتال ، 36کو ہولی فیملی جب کہ 28 کوبینظیر بھٹو جنرل اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ تینوں اسپتالوں میں ڈنگی کے مریضوں کے لیے مجموعی طور پر 400 بیڈ مختص ہیں اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز ہونیوالے اضافے کے باعث بیڈ کم پڑگئے ہیں اور ساتھ ساتھ اسپتالوں میں دیگر مریضوں کے علاج معالجے کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔
کراچی سے ڈنگی سر ویلنس سیل کے سربراہ ڈاکٹر مسعود کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15افراد ڈنگی بخار کا شکار ہو گئے ہیں۔ رواں سال سندھ میں ڈنگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 2500 تک جا پہنچی ہے۔ادھرسوات میں دو نئے کیس سامنے آنے کے بعد ڈنگی مریضوں کی تعداد25 ہوگئی ہے۔ ملتان میں ڈنگی کے مریض بڑھ کر میں 160 ، لاہور میں21 ہوگئی ہے۔
ملتان میں 19نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ بٹگرام میں بھی ڈنگی وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد ضلع میں ڈنگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 10ہوگئی ہے۔ ضرورت ڈنگی بخار کو کنٹرول کرنے کی سائنسی تدابیر کی ہے جو بہر طور بہتر طبی اقدامات اور فوری سہولیات کا تقاضا کرتی ہیں۔