فاٹا کوحصہ صوبہ یا یونٹ بنانے کی تجاویز

ہمارے پڑوسی ملک میں صوبوں کی بڑی تعداد اس کی واضح مثال ہے، بعض یونٹ اور اسٹیٹ ہمارے ایک بڑے شہر کے برابر ہیں۔

پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات کی جاتی ہے تو نقص امن کا خطرہ ابھر آتا ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں انتظامی امور کی بہ سہولت تقسیم کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل یا خودمختار یونٹ کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں نیز گنجلک انتظامی امور اور وسائل کی تقسیم کے لیے چھوٹے یونٹ اور صوبوں کی انتظامی تشکیل دور رس نتائج کی حامل ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں فاٹا کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے، فاٹا کی سینیٹ کی دو نشستوں کے اضافے پر غور کے لیے تجاویز پیش کردی ہیں۔

وزارت پارلیمانی امور کے ذرایع کے مطابق حکومت نے فاٹا کی حیثیت میں تبدیلی کے حوالے سے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پہلی بریفنگ دی ہے جس میں فاٹا کی موجودہ نظام میں تبدیلی کے حوالے سے چار مختلف تجاویز دی گئی ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ فاٹا کو پاٹا کی طرز پر خیبرپختونخوا کا حصہ بنادیا جائے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنادیا جائے۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ فاٹا کونسل تشکیل دی جائے جب کہ چوتھی تجویز یہ ہے کہ فاٹا کوگلگت بلتستان جیسی حیثیت دے دی جائے۔


کمیٹی میں فاٹا کی سینیٹ میں دو نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی جس پر تاحال کسی نے اختلاف نہیں کیا، ان میں ایک ٹیکنو کریٹ اور دوسری خواتین کی نشست ہوگی۔ حکومت کی چاروں ہی تجاویز قابل عمل ہیں لیکن باہمی صلاح مشورہ اور اتفاق رائے ضروری ہے۔تاہم فاٹا کو نسلی و ثقافتی اعتبار سے خیبر پختونخوا کا حصہ ہونا چاہیے۔پھر بھی نئے صوبوں کی تشکیل یوں تو عجب معاملہ نہیں، دنیا بھر میں اس اقدام کا خیر مقدم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ہر معاملہ جذبات کی سطح پر ناپنے کا دستور عام ہے۔

بعض حلقے اور عوام زمینی خطوں سے متعلق جذباتی کشمکش کا شکار ہیں، یہاں کاغذی طور پر زمینی تقسیم کو الگ نام دینا یا دوسرے میں ضم کردینا الگ نظریے سے دیکھا جاتا ہے جسے مفاد پرست عناصر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات کی جاتی ہے تو نقص امن کا خطرہ ابھر آتا ہے۔

عوام کو بھی حقیقت حال کو سمجھنا ہوگا، ہمارے پڑوسی ملک میں صوبوں کی بڑی تعداد اس کی واضح مثال ہے، بعض یونٹ اور اسٹیٹ ہمارے ایک بڑے شہر کے برابر ہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ صوبے کا رقبہ جس قدر محدود ہوگا، وسائل کی تقسیم اور انتظامی امور میں اس قدر ہی سہولت ہوگی۔ فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کردینے کی تجویز بھی قابل عمل ہے لیکن ہر صورت میں فاٹا کی حیثیت میں تبدیلی کے لیے عوامی امنگوں کا خیال اور اتفاق رائے پر زور دیا جائے۔
Load Next Story