آٹوپارٹس کو 10 سال حساس فہرست میں رکھنے کامطالبہ
بھارت سے کم قیمت پرزہ جات کی یلغارپاکستانی وینڈرزکوبہالے جائیگی، چیئرمین پاپام
پرزہ جات کامنفی فہرست سے اخراج نان ٹیرف رکاوٹیں ہٹانے سے مشروط کیا جائے، منیر بانا . فوٹو: فائل
گاڑیوں کے پرزہ جات بنانے والی پاکستانی صنعت نے بھارت سے دسمبرمیں منفی فہرست کے خاتمے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ 10 سال تک گاڑیوں کے پرزہ جات کو حساس فہرست میں شامل رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دسمبر میں منفی فہرست کے خاتمے کے بعد بھارت سے کم قیمت پرزہ جات کی یلغار پاکستانی آٹو انڈسٹری بالخصوص پرزہ جات بنانے والی صنعت کو بہا کر لے جائیگی جس کے آگے بند باندھے رکھنے کیلیے پرزہ جات کو منفی فہرست میں رکھنا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین منیر بانا نے کہا ہے کہ آٹو پرزہ جات کا منفی فہرست سے اخراج بھارت کی جانب سے حائل کردہ نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے سے مشروط کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن بھارت کے ساتھ تجارت کی حامی ہے تاہم تجارت دوطرفہ ہونا ضروری ہے، پاپام بھارت کی جانب سے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی شکل میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہے تاہم پاکستان میں تیار بھارتی مصنوعات کی ڈمپنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔ پاپام کے مطابق توانائی کے بحران کا شکار پاکستانی مینوفیکچررز کو بھارت سے مقابلہ کرنے کیلیے درکار سہولتوں اور یکساں مواقع فراہم کیے بغیر منفی فہرست کا خاتمہ ایک قومی جرم بن سکتا ہے۔
پاپام کے وائس چیئرمین عثمان ملک کے مطابق پاک بھارت سیکریٹری تجارت کی سطح کے مذاکرات میں آٹو انڈسٹری سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پرزہ جات کی صنعت آٹو سیکٹر کی مقامی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے بھارت سے پرزہ جات کی درآمد بلاجواز ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دسمبر میں منفی فہرست کے خاتمے کے بعد بھارت سے کم قیمت پرزہ جات کی یلغار پاکستانی آٹو انڈسٹری بالخصوص پرزہ جات بنانے والی صنعت کو بہا کر لے جائیگی جس کے آگے بند باندھے رکھنے کیلیے پرزہ جات کو منفی فہرست میں رکھنا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین منیر بانا نے کہا ہے کہ آٹو پرزہ جات کا منفی فہرست سے اخراج بھارت کی جانب سے حائل کردہ نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے سے مشروط کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن بھارت کے ساتھ تجارت کی حامی ہے تاہم تجارت دوطرفہ ہونا ضروری ہے، پاپام بھارت کی جانب سے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی شکل میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہے تاہم پاکستان میں تیار بھارتی مصنوعات کی ڈمپنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔ پاپام کے مطابق توانائی کے بحران کا شکار پاکستانی مینوفیکچررز کو بھارت سے مقابلہ کرنے کیلیے درکار سہولتوں اور یکساں مواقع فراہم کیے بغیر منفی فہرست کا خاتمہ ایک قومی جرم بن سکتا ہے۔
پاپام کے وائس چیئرمین عثمان ملک کے مطابق پاک بھارت سیکریٹری تجارت کی سطح کے مذاکرات میں آٹو انڈسٹری سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پرزہ جات کی صنعت آٹو سیکٹر کی مقامی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے بھارت سے پرزہ جات کی درآمد بلاجواز ہے۔