بھارتی ادیبوں دانشوروں کا احتجاج

ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندی کا میلہ محض نریندرمودی کا نہیں بلکہ بی جےپی سمیت ان تمام انتہا پسند مذہبی جماعتوں کا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندی کا میلہ محض نریندر مودی کا نہیں بلکہ بی جے پی سمیت ان تمام انتہا پسند مذہبی جماعتوں کا ہے جو بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہیں لیکن ان انتہا پسندوں کی کوششوں کے آگے اعتدال پسند ہندو اکثریت ہی نہیں بلکہ معاشروں کی وہ کریم بھی ہے جنھیں ہم ادیبوں، شاعروں، قلم کاروں اور دانشوروں کے حوالے سے جانتے ہیں۔

نریندر مودی بلاشبہ ایک مذہبی انتہا پسند شخص ہے لیکن وہ ان طاقتوں کے آگے بے بس ہیں جو اسی کے ہم مذہب ہونے کے باوجود اس کے عزائم کے آگے دیوار بنے کھڑے ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ طاقتور وہ اعتدال پسند ہندو ہیں جو بھارت میں انتہا پسند ہندو برادری کے آگے دیوار بنے کھڑے ہیں اگر یہ اکثریت اعتدال پسند نہ ہوتی تو بھارت میں آئے دن اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت کے خون سے ہولی کھیلی جاتی کیونکہ انتہا پسند جنونی کوئی نہ کوئی ایسا مذہبی مسئلہ کھڑا کردیتے ہیں جو سادہ لوح عوام کو مشتعل کرسکتا ہے، لیکن بھارت میں اعتدال پسند اکثریت ان حربوں کے فائدے نقصان سے واقف ہے لہٰذا وہ ان اشتعال انگیز واقعات سے لاتعلق رہتی ہے، جس کی وجہ سے انتہا پسندوں کے حربے ناکام ہوجاتے ہیں۔

ہندوستان میں مودی برادری کی دوسری بڑی حزب اختلاف ہندوستان کے ادیب، شاعر اور دانشور ہیں جو مودی کی ہر سازش کے آگے سینہ تان کرکھڑے ہوجاتے ہیں۔ مودی حکومت نے گائے کے ذبیح کے حوالے سے جو مہم شروع کی ہے بھارت کا پڑھا لکھا سیکولر طبقہ اس کا کس شدت سے مخالف ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ مودی کی بیہودہ پالیسیوں کے خلاف اب تک 46 ادیب، شاعر اور دانشوروں نے وہ ایوارڈ واپس کردیے ہیں۔

جو ان کی اعلیٰ کارکردگی کے صلے میں انھیں دیے گئے تھے۔ ان ادیبوں، شاعروں میں 5 وہ ادیب شامل ہیں جنھوں نے ابھی اپنے ایوارڈ واپس کردیے ہیں۔ ان میں نند بھردواج، چندرا شیکر پٹیل، ویرا بھدرپا، کے نیلا، آر کے ہدوگی، کاشی ناتھ امبلگی شامل ہیں یہ وہ عظیم انسان ہیں جو ذات پات دین دھرم کے بھید بھاؤ کو نہیں مانتے۔

اترپردیش میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کو قتل کردیا گیا، پاکستانی گلوکار غلام علی کے کنسرٹ کو منسوخ کردیا گیا اور خورشید قصوری کی کتاب کے لانچر کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی یہ ہندو انتہا پسندوں کے وہ کارنامے تھے جن کے خلاف بھارت کے 46 ادیبوں شاعروں اور دانشوروں نے اپنے ایوارڈ احتجاجاً واپس کردیے اور حکومت پر الزام لگایا کہ بھارت میں آزادی اظہارکی گنجائش دن بہ دن سکڑ رہی ہے۔ بی جے پی کی ہندوتوا کو باالجبر نافذ کرنے کی پالیسی ہمارے معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔


ایکسپریس کے بھارتی کالم نگارکلدیپ نائر نے اپنے ایک تازہ کالم میں بی جے پی اور دوسری مذہبی انتہا پسند جماعتوں کی انسان دشمن سرگرمیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک شخص کو صرف اس وجہ سے جان سے مار دینا چاہیے کہ اس نے بیف کھایا ہے حالانکہ جس الزام میں ایک مسلمان کو جان سے مار دیا گیا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔ بھارت میں اس وقت جو صورتحال ہے اسے دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ملکی معاملات چلانے میں مسلمانوں کا کوئی دخل نہیں۔ مثال کے طور پر دیکھیں کہ مرکزی کابینہ میں صرف ایک فضول سی وزارت کا قلم دان مسلمان کے پاس ہے جب کہ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے تعاون کے بغیر ملک کو چلایا نہیں جاسکتا۔

مودی کو لازماً یہ احساس ہونا چاہیے کہ اجتماعیت ہی ہمارے معاشرے کو زندہ رکھ سکتی ہے خواہ سنگھ پریوار اسے پسند کرے یا نہ کرے ملک کی اکثریت جمہوریت سیکولرزم اور روشن خیالی پر یقین رکھتی ہے۔ کلدیپ جی کہتے ہیں اخلاق حسین کو گھر سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا کیونکہ اس کے بارے میں یہ افواہ اڑائی گئی تھی کہ اس نے بیف کھایا ہے۔

کلدیپ نائر لکھتے ہیں اگرچہ تین ریاستوں کے علاوہ باقی ریاستوں میں گائے کے ذبیح پر پابندی ہے لیکن بیف کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے پھر اخلاق حسین کو بیف کھانے کے جھوٹے الزام میں کیوں قتل کیا گیا؟ قصوری کی کتاب کے لانچر کے منہ پر سیاہی نہیں پھینکی بلکہ شیو سینا نے بھارت کے چہرے کوکالاکردیا۔ کتاب کی لانچنگ کے سلسلے میں جس شخص کا منہ کالا کیا گیا وہ ایک عام آدمی نہ تھا بلکہ ایک قابل احترام صحافی سریندرکلکرنی تھا۔

بھارت میں جب سے نریندر مودی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، بھارت میں ہندوتوا کا شدت سے پرچار شروع ہوگیا ہے کشمیرکے مسئلے پر سابق حکومتوں کے رویے میں بہ ظاہر ہی لچک تھی لیکن مودی حکومت اس حوالے سے اس قدر سخت گیر پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ وہ ہندوستان کے آئین سے اس شق ہی کو نکالنے پر تلی ہوئی ہے جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے۔ بی جے پی کی نامزد کردہ وزیر خارجہ سشما سوراج کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ ہی ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ ان کا ارشاد ہے کہ کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ انگ ہے جس پر بات ہی نہیں ہوسکتی۔

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ کشمیر میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں گائے کے ذبیح پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بلاشبہ گائے ہندو قوم میں ایک مقدس ہے لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت والے علاقوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے کا مطلب اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ مذہب کے نام پر دو بڑی کمیونٹیز میں خون خرابے کا جواز پیدا کیا جائے۔

آج کی دنیا ماضی کی دنیا سے بالکل مختلف ہے اب آئی ٹی کے انقلاب نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل کر رکھ دیا ہے اب دین دھرم کو خون خرابے کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارے کا ذریعہ بننا چاہیے اور وہ لوگ قابل احترام ہیں خواہ ان کا مذہب کوئی کیوں نہ ہو جو مذہب انتہا پسندوں کے آگے دیوار بن جاتے ہیں بلاشبہ بھارت میں رہنے والی ہندو اکثریت اعتدال پسند ہے لیکن پاکستان جیسی مذہبی ریاست کے عوام کی بھاری اکثریت بھی عملاً اعتدال پسند ہے۔

جس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1970 سے لے کر 2013 تک ہونے والے تمام انتخابات میں پاکستانی عوام نے مذہبی جماعتوں کو مسترد کرکے نسبتاً لبرل جماعتوں کو اقتدار تک پہنچایا۔ آج بھی پاکستانی عوام مذہبی انتہا پسندی کے خلاف فوج کے شروع کیے ہوئے ضرب عضب آپریشن کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ مودی اینڈ کمپنی کو اب مذہبی انتہا پسندی کی سرپرستی سے باز آکر بھارت کی اعتدال پسند اکثریت اور ادیبوں شاعروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
Load Next Story