شہریار صاحب اور کتنی بے عزتی کرائیں گے
سیکڑوں انتہاپسندوں کے سامنے وہ جس آرام سے اپنے دفتر میں بیٹھے مسکرا رہے تھے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سارا معاملہ طے شدہ ہو
انھوں نے یہ نہ سوچا کہ مودی کی حکومت آنے کے بعد وہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے: فوٹو: فائل
''شیوسینا کے انتہا پسندوں کا بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ، چیئرمین پی سی بی شہریارخان کیخلاف نعرے بازی''
آج صبح ایک عزیز کے گھر جانا ہوا تو وہاں ٹی وی پر یہ ''بریکنگ نیوز'' دیکھی، سب سے پہلے یہ اطمینان کیا کہ ہمارا جو وفد وہاں گیا وہ محفوظ تو ہے، جب سب کی خیریت کا علم ہوا تو شکرادا کیا، ویسے بورڈ حکام نے خود کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی کسر تو نہیں چھوڑی تھی، خیریت سے وہاں سے واپس آ کر انھیں کالے بکروں کا صدقہ دینا چاہیے، جس طرح بورڈ حکام پاکستان کی بے عزتی کرا رہے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، شہریارخان کا تعلق بھوپال کے نواب خاندان سے ہے۔
ان کے اب بھی کئی عزیز بھارت میں رہتے ہیں ایسے میں انھیں تو سرحد پار کرنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے، اگر میں غلط ہوں تو ذرا انٹرنیٹ پر چیک کر لیں کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ کتنی بار بھارت جا چکے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بورڈ کے لاکھوں روپے خرچ کر کے جگ موہن ڈالمیا کے انتقال پر تعزیت کرنے بھی چلے گئے حالانکہ فون اور خط سے کام چل سکتا تھا، انھوں نے اس دورے کو ذاتی قرار دیا مگر اخراجات پی سی بی نے ادا کیے، نئے بی سی سی آئی صدر ششانک منوہر سے بات کرنے کے بعد بورڈ حکام بھارت جانے کیلیے بے چین ہو گئے کہ شاید اربوں روپے کی سیریز کا کوئی چانس بن جائے۔
انھوں نے یہ نہ سوچا کہ مودی کی حکومت آنے کے بعد وہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے،ان کو پاکستان جانے کا کہا جا رہا ہے، گوشت کھانے پر ایک بیچارے کو قتل کر دیا گیا، آج ہی اخبارات میں ایک مسلم نوجوان پر پولیس تشدد کی تصاویر آئیں، گلوکار غلام علی اور خورشید قصوری کے واقعات بھی چند دن پہلے ہی ہوئے ہیں، وہاں کا ماحول اس وقت مسلمان اور پاکستان مخالف ہے، حیران کن طور پر پی سی بی کو اس کا اندازہ نہیں ہوا یا آنے والے ڈالرز کی چمک کے خوابوں نے آنکھیں خیرہ کردیں، شہریارخان کو پہلے بھی چند ماہ قبل کولکتہ ایئرپورٹ پر کئی گھنٹے حراست میں رکھا گیا تھا۔
مگر آج تو حد ہی ہو گئی، بورڈ والے سمجھتے کیوں نہیں کہ وہ وہاں پاکستان کے نمائندے بن کر جاتے ہیں ذاتی حیثیت سے نہیں، ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا تو ایٹمی طاقتوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوجائیںگے، آپ کسی بھی بھارتی ویب سائٹ پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ کی خبر کا لنک کھول کر دیکھیں، میرا دعویٰ ہے کہ 2،3 سے زیادہ کمنٹس نہیں پڑھ سکیں گے، فیس بک اور ٹویٹر کا بھی یہی حال ہے، بے تحاشا گالیوں سمیت لالچی،دہشت گرد، بے ایمان، کیا کیا نہیں کہا جاتا، سیکریٹری بی سی سی آئی انوراگ ٹھاکر نے کیا بیان دیا وہ مجھے یاد دلانے کی ضرورت نہیں، اس کے باوجود ہم ان سے ہاتھ جوڑ کر کہے جا رہے ہیں '' بھائی کھیل لو، پلیز کھیل لو، ہمیں اتنا نقصان ہو جائے گا، ٹیسٹ نہیں تو ون ڈے کھیل لو، ٹرائنگولر سیریز ہی کھیل لو'' بورڈ حکام کچھ تو شرم کریں ۔
شہریارصاحب پاکستانیوں کی اور کتنی بے عزتی کرائیں گے، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے، آپ کے یہاں جو ہر ماہ کروڑوں کے فالتو اخراجات ہو رہے ہیں انھیں کنٹرول کریں، آپ کی ٹیم 99.9 فیصد ڈرا ابوظبی ٹیسٹ کیسے ہارنے لگی اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کریں، وقار یونس کی من مانیوں سے کیا مسائل ہو رہے ہیں یہ پتا چلائیں، 2 ڈائریکٹرز ملازمت ختم ہونے کے باوجود کیسے ہر ماہ وہی تنخواہ اور کار وغیرہ کی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔
اس کو روکیں، نجم سیٹھی پی ایس ایل کے نام پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں اسے دیکھیں، اگر بورڈ اپنے معاملات درست کر لے تو کشکول لے کر گھومنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، برائے مہربانی یہ حقیقت مان لیں کہ بھارت ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا، اس کے ارادے کچھ اور ہی ہیں، جو ملک ہمیں ایک روپے کا فائدہ نہیں ہونے دینا چاہتا وہ کیسے سیریز کھیل کر اربوں روپے کمانے دے گا؟ میں بھی بھارت سے دوستی چاہتا ہوں مگر اپنے ملکی وقار پرنہیں، برابر کی سطح پر بات ہونی چاہیے، نہیں کھیلنا ہے تو نہ کھیلو دوٹوک جواب دیں، مگر افسوس بورڈ میں یہ ہمت نہیں ہے۔
تلخ باتیں سن کر پھر ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں،آپ مجھے بھارتی بورڈ کے کسی ایک آفیشل یا کھلاڑی کا پاکستان کے بارے میں مثبت بیان دکھا دیں، کوئی نہیں ملے گا، مگر ہمارے آفیشلز اور کھلاڑی سب دوستی کے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں، کسی کو کمیشن تو کسی کو آئی پی ایل کھیل کر ڈالرز کمانے کے خواب آ رہے ہوتے ہیں۔
آئندہ برس بھارت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان کو ابھی سے اس بارے میں سوچنا چاہیے، ہمارے غیرمعروف بورڈ آفیشلز وہاں محفوظ نہیں، کھلاڑی تو جانی پہچانی شخصیات ہوتے ہیں انھیں تو حد سے زیادہ خطرہ ہوگا، جس طرح آج بھارتی بورڈ کے دفتر میں تمام تر سیکیورٹی کو توڑ کر انتہا پسند داخل ہوئے وہ کسی میچ میں بھی جا سکتے ہیں، ان کی اپنی پولیس تو ایسے حالات میں کھلی چھوٹ دے دیتی ہے، اسی کے ساتھ مجھے حملے کے وقت ششانک منوہر کا اطمینان بھی کھٹک رہا ہے۔
سیکڑوں انتہاپسندوں کے سامنے وہ جس آرام سے اپنے دفتر میں بیٹھے مسکرا رہے تھے اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سارا معاملہ طے شدہ ہو، جس طرح بنگلہ دیش نے عدالتی فیصلے کو آڑ بنا کر اپنا دامن بچایا اور دورئہ پاکستان منسوخ کر دیا، ایسے ہی بھارت بھی کر سکتا ہے، اس نے سوچا ہو کہ پی سی بی والے بار بار تنگ کرتے رہیں گے ، ایک بار ایسا تماشہ کرا کے کہہ دیتے ہیں کہ ''سیریز کھیلی تو ہم خطرے میں پڑ جائیں گے'' بی سی سی آئی پاکستانی بورڈ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا، اسے آئندہ بھی سبز باغ دکھا کر بگ تھری جیسے اپنے کام نکالنے ہیں، اب تو حکومت کو ہی ایکشن میں آنا چاہیے، پی سی بی پر واضح کر دیں کہ '' بھارت کے پیچھے نہ بھاگو، اسے نہیں کھیلنا تو نہ کھیلے'' ملک کو بار بار بدنام نہ کریں۔
آج صبح ایک عزیز کے گھر جانا ہوا تو وہاں ٹی وی پر یہ ''بریکنگ نیوز'' دیکھی، سب سے پہلے یہ اطمینان کیا کہ ہمارا جو وفد وہاں گیا وہ محفوظ تو ہے، جب سب کی خیریت کا علم ہوا تو شکرادا کیا، ویسے بورڈ حکام نے خود کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی کسر تو نہیں چھوڑی تھی، خیریت سے وہاں سے واپس آ کر انھیں کالے بکروں کا صدقہ دینا چاہیے، جس طرح بورڈ حکام پاکستان کی بے عزتی کرا رہے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، شہریارخان کا تعلق بھوپال کے نواب خاندان سے ہے۔
ان کے اب بھی کئی عزیز بھارت میں رہتے ہیں ایسے میں انھیں تو سرحد پار کرنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے، اگر میں غلط ہوں تو ذرا انٹرنیٹ پر چیک کر لیں کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ کتنی بار بھارت جا چکے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بورڈ کے لاکھوں روپے خرچ کر کے جگ موہن ڈالمیا کے انتقال پر تعزیت کرنے بھی چلے گئے حالانکہ فون اور خط سے کام چل سکتا تھا، انھوں نے اس دورے کو ذاتی قرار دیا مگر اخراجات پی سی بی نے ادا کیے، نئے بی سی سی آئی صدر ششانک منوہر سے بات کرنے کے بعد بورڈ حکام بھارت جانے کیلیے بے چین ہو گئے کہ شاید اربوں روپے کی سیریز کا کوئی چانس بن جائے۔
انھوں نے یہ نہ سوچا کہ مودی کی حکومت آنے کے بعد وہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے،ان کو پاکستان جانے کا کہا جا رہا ہے، گوشت کھانے پر ایک بیچارے کو قتل کر دیا گیا، آج ہی اخبارات میں ایک مسلم نوجوان پر پولیس تشدد کی تصاویر آئیں، گلوکار غلام علی اور خورشید قصوری کے واقعات بھی چند دن پہلے ہی ہوئے ہیں، وہاں کا ماحول اس وقت مسلمان اور پاکستان مخالف ہے، حیران کن طور پر پی سی بی کو اس کا اندازہ نہیں ہوا یا آنے والے ڈالرز کی چمک کے خوابوں نے آنکھیں خیرہ کردیں، شہریارخان کو پہلے بھی چند ماہ قبل کولکتہ ایئرپورٹ پر کئی گھنٹے حراست میں رکھا گیا تھا۔
مگر آج تو حد ہی ہو گئی، بورڈ والے سمجھتے کیوں نہیں کہ وہ وہاں پاکستان کے نمائندے بن کر جاتے ہیں ذاتی حیثیت سے نہیں، ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا تو ایٹمی طاقتوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوجائیںگے، آپ کسی بھی بھارتی ویب سائٹ پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ کی خبر کا لنک کھول کر دیکھیں، میرا دعویٰ ہے کہ 2،3 سے زیادہ کمنٹس نہیں پڑھ سکیں گے، فیس بک اور ٹویٹر کا بھی یہی حال ہے، بے تحاشا گالیوں سمیت لالچی،دہشت گرد، بے ایمان، کیا کیا نہیں کہا جاتا، سیکریٹری بی سی سی آئی انوراگ ٹھاکر نے کیا بیان دیا وہ مجھے یاد دلانے کی ضرورت نہیں، اس کے باوجود ہم ان سے ہاتھ جوڑ کر کہے جا رہے ہیں '' بھائی کھیل لو، پلیز کھیل لو، ہمیں اتنا نقصان ہو جائے گا، ٹیسٹ نہیں تو ون ڈے کھیل لو، ٹرائنگولر سیریز ہی کھیل لو'' بورڈ حکام کچھ تو شرم کریں ۔
شہریارصاحب پاکستانیوں کی اور کتنی بے عزتی کرائیں گے، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے، آپ کے یہاں جو ہر ماہ کروڑوں کے فالتو اخراجات ہو رہے ہیں انھیں کنٹرول کریں، آپ کی ٹیم 99.9 فیصد ڈرا ابوظبی ٹیسٹ کیسے ہارنے لگی اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کریں، وقار یونس کی من مانیوں سے کیا مسائل ہو رہے ہیں یہ پتا چلائیں، 2 ڈائریکٹرز ملازمت ختم ہونے کے باوجود کیسے ہر ماہ وہی تنخواہ اور کار وغیرہ کی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔
اس کو روکیں، نجم سیٹھی پی ایس ایل کے نام پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں اسے دیکھیں، اگر بورڈ اپنے معاملات درست کر لے تو کشکول لے کر گھومنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، برائے مہربانی یہ حقیقت مان لیں کہ بھارت ہمارے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا، اس کے ارادے کچھ اور ہی ہیں، جو ملک ہمیں ایک روپے کا فائدہ نہیں ہونے دینا چاہتا وہ کیسے سیریز کھیل کر اربوں روپے کمانے دے گا؟ میں بھی بھارت سے دوستی چاہتا ہوں مگر اپنے ملکی وقار پرنہیں، برابر کی سطح پر بات ہونی چاہیے، نہیں کھیلنا ہے تو نہ کھیلو دوٹوک جواب دیں، مگر افسوس بورڈ میں یہ ہمت نہیں ہے۔
تلخ باتیں سن کر پھر ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں،آپ مجھے بھارتی بورڈ کے کسی ایک آفیشل یا کھلاڑی کا پاکستان کے بارے میں مثبت بیان دکھا دیں، کوئی نہیں ملے گا، مگر ہمارے آفیشلز اور کھلاڑی سب دوستی کے راگ الاپ رہے ہوتے ہیں، کسی کو کمیشن تو کسی کو آئی پی ایل کھیل کر ڈالرز کمانے کے خواب آ رہے ہوتے ہیں۔
آئندہ برس بھارت ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان کو ابھی سے اس بارے میں سوچنا چاہیے، ہمارے غیرمعروف بورڈ آفیشلز وہاں محفوظ نہیں، کھلاڑی تو جانی پہچانی شخصیات ہوتے ہیں انھیں تو حد سے زیادہ خطرہ ہوگا، جس طرح آج بھارتی بورڈ کے دفتر میں تمام تر سیکیورٹی کو توڑ کر انتہا پسند داخل ہوئے وہ کسی میچ میں بھی جا سکتے ہیں، ان کی اپنی پولیس تو ایسے حالات میں کھلی چھوٹ دے دیتی ہے، اسی کے ساتھ مجھے حملے کے وقت ششانک منوہر کا اطمینان بھی کھٹک رہا ہے۔
سیکڑوں انتہاپسندوں کے سامنے وہ جس آرام سے اپنے دفتر میں بیٹھے مسکرا رہے تھے اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سارا معاملہ طے شدہ ہو، جس طرح بنگلہ دیش نے عدالتی فیصلے کو آڑ بنا کر اپنا دامن بچایا اور دورئہ پاکستان منسوخ کر دیا، ایسے ہی بھارت بھی کر سکتا ہے، اس نے سوچا ہو کہ پی سی بی والے بار بار تنگ کرتے رہیں گے ، ایک بار ایسا تماشہ کرا کے کہہ دیتے ہیں کہ ''سیریز کھیلی تو ہم خطرے میں پڑ جائیں گے'' بی سی سی آئی پاکستانی بورڈ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا، اسے آئندہ بھی سبز باغ دکھا کر بگ تھری جیسے اپنے کام نکالنے ہیں، اب تو حکومت کو ہی ایکشن میں آنا چاہیے، پی سی بی پر واضح کر دیں کہ '' بھارت کے پیچھے نہ بھاگو، اسے نہیں کھیلنا تو نہ کھیلے'' ملک کو بار بار بدنام نہ کریں۔