کوئٹہ مزدور کشی بزدلانہ کارروائی
تشدد کے جواب میں تشدد کے ہاتھوں بلوچستان نے کافی سیاسی اور معاشی زخم کھائے ہیں
ہلاک ہونے والے مزدور پیشہ لوگ تھے جنہیں بظاہر کسی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے تحت قتل نہیں کیا گیا ،مگر تحقیقات ہو کہ سانحے کا سبب کیا ہے۔ فوٹو : فائل
KUALA LAMPUR:
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر مقامی مسافر بس میں بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 2بچوں سمیت11افراد جاں بحق، 25 سے زائد زخمی ہوگئے ۔بس میں 70 مسافر تھے، جاں بحق ہونے والے بس کی چھت کے عقبی حصے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لقمہ اجل بن گئے۔
دہشت گردی کی ہر اصطلاحی تعریف کے مطابق یہ غیر انسانی اور انتہائی بزدلانہ کارروائی تھی ، دہشت گرد ظلم و بیدردی کی پستیوں میں گر گئیِ جب کہ سیاسی حقوق کی لڑائی میں غریب مزدوروں کا خون بہانا انقلابی اور سیاسی جدوجہد تو نہیں کہلاسکتی جس میں بے گناہ افراد کو ہلاک کیا گیا، سیاسی اور سیکیورٹی حکام اسے مزاحمت کاروں کی طرف سے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے رد عمل کا نتیجہ بھی کہہ سکتے ہیں تاہم بعض وزرا کے غیر ضروری بیانات بھی جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے، ڈاکٹر مالک کے بارے میں خبریں اور افواہیں گرم ہیں کہ ان کا دورانیہ ختم ہونے والا ہے۔
تاہم ایک مصروف بس اسٹینڈ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کا نہ ہونا اور وہ بھی بلوچستان کے کوئٹہ جیسے حساس دارالحکومت میں جہاں اس نوعیت کے بم دھماکے اور قتل و غارتگری کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں حیرت ناک ہے ، انسانیت سوز ہلاکتوں سے بلوچستان کا سماج، اس کی سیاست، معیشت اور عوام کی زندگیوں کو جتنے مصائب اور مشکلات کا سامنا رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
دہشتگردی کی تہہ تک جانا ہوگا اور سیاسی افہام و تفہیم کے لیے ٹھوس اقدام کرنا ہونگے، بلوچستان میں ایڈہاک ازم کی گنجائش نہیں اور صرف طاقت کا استعمال بھی نتائج نہیں دے سکتا، حکومت کو بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائی جاری رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ بلوچستان کی سنجیدہ سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد کے تحت عظیم تر سیاسی اتفاق رائے کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
تشدد کے جواب میں تشدد کے ہاتھوں بلوچستان نے کافی سیاسی اور معاشی زخم کھائے ہیں ، سریاب روڈ کے سانحے میں ہلاک ہونے والے محنت کش تو حقوق کی کسی تحریک، جنگ آزادی یا کالعدم سیاسی تنظیموں کی لڑائی کا ہراول دستہ نہ تھے ، وہ اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد خانہ کی دو وقت کی روٹی کے لیے گھر سے نکلتے اور سر شام بس سے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوجاتے، یہ آخری بد نصیب بس تھی جسے نشانہ بنایا گیا۔
اصل میں ارباب اختیار بلوچستان کے تپتے اور سلگتے سیاسی اور سماجی حقائق کے حل کے لیے تاحال فیصلہ کن مکالمے کے ایشو پر تقسیم ہیں، ایک گروہ ناراض بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے بات چیت اور انھیں بیرون ملک سے فوری طور پر مدعو کرنے کا حامی ہے جب کہ دوسرا حلقہ انھیں مین اسٹریم سیاسی دھارے میں منت سماجت کر کے لانے کا مخالف ہے، یہ تقسیم اور سیاسی حکمت عملی بلوچستان میں بد نظمی کا ایک سبب ہے، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلاشبہ زیتون کی مفاہمانہ شاخ آگے بڑھاتے ہوئے خان آف قلات میر سلیمان داؤد، اور براہمداغ بگٹی کی واپسی کے لیے سلسلہ جنبانی شروع کیا اور اس کے ابتدائی نتائج مثبت نکلتے دکھائی دیے مگر پھر وہی بات ہوئی کہ ان ناراض رہنماؤں کی اپنی ترجیحات اور شرائط ہیں، وہ ایک میز پر کیسے بیٹھیں گے ۔
ا سٹیبلشمنٹ بھی اس معاملے پر ابھی تک واضح نہیں کہ کس کس سے بات کس ایجنڈے اور فارمولے پر کی جائے جب کہ بلوچستان میں کئی قبائلی، سرداری، سیاسی ، مذہبی ، فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر قائم تنظیمیں اور گروپس بھی ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں، بھارت سمیت عالمی قوتوں کی للچائی نظریں ہیں، قبائل کی باہمی رقابتیں سیاسی مفاہمت کا راستہ روک لیتی ہیں۔ ہلاک ہونے والے مزدور پیشہ لوگ تھے جنہیں بظاہر کسی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے تحت قتل نہیں کیا گیا ،مگر تحقیقات ہو کہ سانحے کا سبب کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے فی کس10لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے5لاکھ روپے جب کہ عام زخمی کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کردیا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور گورنر نے کوئٹہ میں مسافر بس میں بم دھماکے کو دہشت گردی کی بدترین کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی انھوں نے واقعے میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہارکیا ہے لیکن ضرورت ایکشن کی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے بعد سے اب تک 4 وارداتیں ہوچکی ہیں، بس کی چھت پر مسافربٹھانے پر پابندی کے باوجود غفلت برتی گئی، دہشتگرد اگر بس کے اندر بم نصب کرتے تو نقصان زیادہ ہوتا ۔ اب واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو ایک بار پھر سے خراب کرنا چاہتے ہیں تاہم ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا جائے گا ۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کوئٹہ میں بس دھماکے کی مذمت کی ۔ ان کے نزدیک اس دھماکے میں بھارتی کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس تناظر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے، اس وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز کی کارروائی جاری ہے ۔بلوچستان کو امن ،مفاہمت، ترقی اور آسودگی درکار ہے۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر مقامی مسافر بس میں بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 2بچوں سمیت11افراد جاں بحق، 25 سے زائد زخمی ہوگئے ۔بس میں 70 مسافر تھے، جاں بحق ہونے والے بس کی چھت کے عقبی حصے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لقمہ اجل بن گئے۔
دہشت گردی کی ہر اصطلاحی تعریف کے مطابق یہ غیر انسانی اور انتہائی بزدلانہ کارروائی تھی ، دہشت گرد ظلم و بیدردی کی پستیوں میں گر گئیِ جب کہ سیاسی حقوق کی لڑائی میں غریب مزدوروں کا خون بہانا انقلابی اور سیاسی جدوجہد تو نہیں کہلاسکتی جس میں بے گناہ افراد کو ہلاک کیا گیا، سیاسی اور سیکیورٹی حکام اسے مزاحمت کاروں کی طرف سے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے رد عمل کا نتیجہ بھی کہہ سکتے ہیں تاہم بعض وزرا کے غیر ضروری بیانات بھی جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے، ڈاکٹر مالک کے بارے میں خبریں اور افواہیں گرم ہیں کہ ان کا دورانیہ ختم ہونے والا ہے۔
تاہم ایک مصروف بس اسٹینڈ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کا نہ ہونا اور وہ بھی بلوچستان کے کوئٹہ جیسے حساس دارالحکومت میں جہاں اس نوعیت کے بم دھماکے اور قتل و غارتگری کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں حیرت ناک ہے ، انسانیت سوز ہلاکتوں سے بلوچستان کا سماج، اس کی سیاست، معیشت اور عوام کی زندگیوں کو جتنے مصائب اور مشکلات کا سامنا رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
دہشتگردی کی تہہ تک جانا ہوگا اور سیاسی افہام و تفہیم کے لیے ٹھوس اقدام کرنا ہونگے، بلوچستان میں ایڈہاک ازم کی گنجائش نہیں اور صرف طاقت کا استعمال بھی نتائج نہیں دے سکتا، حکومت کو بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائی جاری رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ بلوچستان کی سنجیدہ سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد کے تحت عظیم تر سیاسی اتفاق رائے کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
تشدد کے جواب میں تشدد کے ہاتھوں بلوچستان نے کافی سیاسی اور معاشی زخم کھائے ہیں ، سریاب روڈ کے سانحے میں ہلاک ہونے والے محنت کش تو حقوق کی کسی تحریک، جنگ آزادی یا کالعدم سیاسی تنظیموں کی لڑائی کا ہراول دستہ نہ تھے ، وہ اپنا اور اپنے زیر کفالت افراد خانہ کی دو وقت کی روٹی کے لیے گھر سے نکلتے اور سر شام بس سے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوجاتے، یہ آخری بد نصیب بس تھی جسے نشانہ بنایا گیا۔
اصل میں ارباب اختیار بلوچستان کے تپتے اور سلگتے سیاسی اور سماجی حقائق کے حل کے لیے تاحال فیصلہ کن مکالمے کے ایشو پر تقسیم ہیں، ایک گروہ ناراض بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے بات چیت اور انھیں بیرون ملک سے فوری طور پر مدعو کرنے کا حامی ہے جب کہ دوسرا حلقہ انھیں مین اسٹریم سیاسی دھارے میں منت سماجت کر کے لانے کا مخالف ہے، یہ تقسیم اور سیاسی حکمت عملی بلوچستان میں بد نظمی کا ایک سبب ہے، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلاشبہ زیتون کی مفاہمانہ شاخ آگے بڑھاتے ہوئے خان آف قلات میر سلیمان داؤد، اور براہمداغ بگٹی کی واپسی کے لیے سلسلہ جنبانی شروع کیا اور اس کے ابتدائی نتائج مثبت نکلتے دکھائی دیے مگر پھر وہی بات ہوئی کہ ان ناراض رہنماؤں کی اپنی ترجیحات اور شرائط ہیں، وہ ایک میز پر کیسے بیٹھیں گے ۔
ا سٹیبلشمنٹ بھی اس معاملے پر ابھی تک واضح نہیں کہ کس کس سے بات کس ایجنڈے اور فارمولے پر کی جائے جب کہ بلوچستان میں کئی قبائلی، سرداری، سیاسی ، مذہبی ، فرقہ وارانہ اور مسلکی بنیادوں پر قائم تنظیمیں اور گروپس بھی ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں، بھارت سمیت عالمی قوتوں کی للچائی نظریں ہیں، قبائل کی باہمی رقابتیں سیاسی مفاہمت کا راستہ روک لیتی ہیں۔ ہلاک ہونے والے مزدور پیشہ لوگ تھے جنہیں بظاہر کسی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے تحت قتل نہیں کیا گیا ،مگر تحقیقات ہو کہ سانحے کا سبب کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے فی کس10لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے5لاکھ روپے جب کہ عام زخمی کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کردیا ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور گورنر نے کوئٹہ میں مسافر بس میں بم دھماکے کو دہشت گردی کی بدترین کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی انھوں نے واقعے میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہارکیا ہے لیکن ضرورت ایکشن کی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے بعد سے اب تک 4 وارداتیں ہوچکی ہیں، بس کی چھت پر مسافربٹھانے پر پابندی کے باوجود غفلت برتی گئی، دہشتگرد اگر بس کے اندر بم نصب کرتے تو نقصان زیادہ ہوتا ۔ اب واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو ایک بار پھر سے خراب کرنا چاہتے ہیں تاہم ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا جائے گا ۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کوئٹہ میں بس دھماکے کی مذمت کی ۔ ان کے نزدیک اس دھماکے میں بھارتی کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس تناظر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے، اس وقت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز کی کارروائی جاری ہے ۔بلوچستان کو امن ،مفاہمت، ترقی اور آسودگی درکار ہے۔