ٹریفک نظام کی درستگی اہم ٹاسک

وطن عزیز میں تو ٹریفک سسٹم میں لاتعداد خامیاں ہیں، جس کی ذمے داری عوام اورمتعلقہ اداروں پر برابر عائد ہوتی ہے۔

دراصل ٹریفک نظام میں بہتری لانے کے لیے جنگی بنیادوں پر ملک بھر میں کام کرنے کی ضرورت ہے، فوٹو:فائل

کہتے ہیں کہ کسی قوم کا نظم وضبط پرکھنا ہوتواس کے ٹریفک نظام کا مشاہدہ کیجیے، چوڑی سڑکوں سے نہیں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے شہر کا حسن دوبالا ہوتا ہے۔وطن عزیز میں تو ٹریفک سسٹم میں لاتعداد خامیاں ہیں، جس کی ذمے داری عوام اورمتعلقہ اداروں پر برابر عائد ہوتی ہے۔ متعلقہ ادارے قانون پر عملدرآمدکروانے میں ناکام ہیں تو عوام نے قانون شکنی کو وطیرہ بنا لیا ہے۔

لہٰذا ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے،کراچی،اسلام آباد،کوئٹہ ، حیدرآباد ، سکھر، لاہور، ملتان، فیصل آباد،کوئٹہ الغرض سارے چھوٹے بڑے شہر ٹریفک کے مسائل کا بری طرح شکار ہیں، شہرقائد میں توروزانہ صبح وشام عام شہری ٹریفک جام کی وجہ سے جس ذہنی کرب وتکلیف کا سامنا کرتے ہیں،اس کے باعث ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، مزاج میں غصہ و بے بسی بڑھتی جارہی ہے ۔


گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت ایک اجلاس کے نتیجے میں چند خوش کن فیصلے ہوئے جن کے مطابق شہر میں ٹریفک کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے مزید 6ہزار ٹریفک پولیس اہلکار بھرتی کرنے، نومبرمیں یلو لائن اور انٹر سٹی بس ٹرانزٹ منصوبوں پر عمل درآمد پر غورکیا گیا ، علاوہ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کراچی کا یہ بیان قابل غور ہے کراچی میں 30لاکھ سے زائد گاڑیوں صرف 3ہزار ٹریفک اہلکار ہیں،جب کے لاہور میں 2.6ملین گاڑیوں کے لیے بھی 3ہزار ٹریفک اہلکار کام کرتے ہیں۔

دراصل ٹریفک نظام میں بہتری لانے کے لیے جنگی بنیادوں پر ملک بھر میں کام کرنے کی ضرورت ہے ، ٹریفک قوانین پر علمدرآمد کے لیے قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سخت سے سخت سزا اور بھاری جرمانے کیے جائیں ،شفاف لائسنسگ سسٹم ہو، دوسری جانب ٹریفک قوانین پرعمل کرانے کے لیے عوام میں باقاعدہ مہم کے تحت شعور بھی اجاگر کیا جائے تاکہ ٹریفک حادثات کی صورت میں ہر سال ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔
Load Next Story