سارک ممالک بھارت سے احتجاج کریں
بھارت میں شیوسینا اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی قوت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پورے جنوبی ایشیاء کے لیے خطرے کا باعث ہے. فوٹو: فائل
بھارت نے شیوسینا کے کارکنوں نے ممبئی میں جو کچھ کیا اس کے اثرات یہ مرتب ہوئے ہیں کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کا تو امکان ختم ہو گیا ہے، اس کے ساتھ اگلے ماہ بھارتی پنجاب میں ہونے والا کبڈی ورلڈ کپ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔بھارت میں شیوسینا اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی قوت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان انتہا پسندوں تنظیموں کے کارکن جس طرح کھلے عام مظاہرے کر رہے ہیں اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انھیں بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ گزشتہ روز ممبئی میں انڈین کرکٹ بورڈ کے دفتر پر جس طرح ہلہ بولاگیا، اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔ممبئی کی پولیس کو صورت حال کا یقیناً علم ہو گا۔
مہاراشٹر حکومت بھی صورت حال سے باخبر ہو گی۔بھارتی ایجنسیوں کو معلوم ہو گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ممبئی آ رہے ہیں تو شیوسینا کے کارکن کوئی حرکت کر سکتے ہیں لیکن ان معاملات کی پیش بندی کے لیے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔صرف چند پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیوسینا کے کارکن من مانی کرتے رہے اور انھیں کسی قسم کی قانونی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ عدالت نے بھی گرفتار کارکن کی ضمانتیں لے لیں۔
اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ شرپسندوں کے ساتھ تھی۔ مشرقی پنجاب میں ہونے والا کبڈی کا ورلڈ کپ منسوخ ہونا بھی حیرانی کی بات ہے لیکن مشرقی پنجاب کی حکومت نے یقیناً صورت حال کو بھانپ لیا ہو گا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی انتہا پسند تنظیموں کے کارکن کوئی گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ بھارت میں ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھار رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ بھارت میں بسنے والی دیگر قومیتوں کے خلاف بھی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔
گزشتہ دنوں سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کی بے حرمتی کا واقعہ ہوا ۔بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کہہ کر قتل کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت میں لبرل اور سیکولر قوتیں زوال پذیر ہیں ۔گو بھارت میں شاعروں'ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے ایوارڈ واپس کیے ہیں اور احتجاج بھی کیا ہے لیکن بھارت کی سیکولر اور لبرل سیاسی جماعتوں خصوصاً کانگریس کی طرف سے زور دار احتجاج سامنے نہیں آیا۔ یہ صورت حال پورے جنوبی ایشیاء کے لیے باعث تشویش ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پورے جنوبی ایشیاء کے لیے خطرے کا باعث ہے لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ سارک میں شامل ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کے خلاف موثر حکمت عملی اپنائے تاکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی قوتوں کے راستے کو روکا جا سکے۔سارک میں شامل بنگلہ دیش'سری لنکا 'نیپال اور افغانستان کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کا ساتھ دیں اور بھارت سے احتجاج کریںکیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان ہی نہیں سب کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔
ان انتہا پسندوں تنظیموں کے کارکن جس طرح کھلے عام مظاہرے کر رہے ہیں اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انھیں بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ گزشتہ روز ممبئی میں انڈین کرکٹ بورڈ کے دفتر پر جس طرح ہلہ بولاگیا، اس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔ممبئی کی پولیس کو صورت حال کا یقیناً علم ہو گا۔
مہاراشٹر حکومت بھی صورت حال سے باخبر ہو گی۔بھارتی ایجنسیوں کو معلوم ہو گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ممبئی آ رہے ہیں تو شیوسینا کے کارکن کوئی حرکت کر سکتے ہیں لیکن ان معاملات کی پیش بندی کے لیے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔صرف چند پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیوسینا کے کارکن من مانی کرتے رہے اور انھیں کسی قسم کی قانونی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ عدالت نے بھی گرفتار کارکن کی ضمانتیں لے لیں۔
اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ شرپسندوں کے ساتھ تھی۔ مشرقی پنجاب میں ہونے والا کبڈی کا ورلڈ کپ منسوخ ہونا بھی حیرانی کی بات ہے لیکن مشرقی پنجاب کی حکومت نے یقیناً صورت حال کو بھانپ لیا ہو گا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی انتہا پسند تنظیموں کے کارکن کوئی گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ بھارت میں ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھار رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ بھارت میں بسنے والی دیگر قومیتوں کے خلاف بھی انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔
گزشتہ دنوں سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کی بے حرمتی کا واقعہ ہوا ۔بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کہہ کر قتل کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت میں لبرل اور سیکولر قوتیں زوال پذیر ہیں ۔گو بھارت میں شاعروں'ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے ایوارڈ واپس کیے ہیں اور احتجاج بھی کیا ہے لیکن بھارت کی سیکولر اور لبرل سیاسی جماعتوں خصوصاً کانگریس کی طرف سے زور دار احتجاج سامنے نہیں آیا۔ یہ صورت حال پورے جنوبی ایشیاء کے لیے باعث تشویش ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی پورے جنوبی ایشیاء کے لیے خطرے کا باعث ہے لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ سارک میں شامل ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر بھارت کے خلاف موثر حکمت عملی اپنائے تاکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی قوتوں کے راستے کو روکا جا سکے۔سارک میں شامل بنگلہ دیش'سری لنکا 'نیپال اور افغانستان کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کا ساتھ دیں اور بھارت سے احتجاج کریںکیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان ہی نہیں سب کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔