دعوے کب تک

انتخابات میں عام طور پر قومی رہنما اعلان کرتے آئے ہیں کہ اقتدار میں آ کر ملک و قوم کی حالت بدل دیں گے

KARACHI:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پھر کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر ملک بھر کے گورنر ہاؤسز کو عوام کے لیے کھول دیں گے جب کہ اس سے قبل بھی وہ ایسا اعلان کر چکے ہیں۔ عمران خان سے قبل انتخابی مہم میں میاں نواز شریف بھی گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے اور تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پرائم منسٹر ہاؤس کے بجائے کسی اور چھوٹی جگہ رہنے کا اعلان کرتے رہے مگر ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی پرائم منسٹر ہاؤس جیسے شاندار محل ہی میں رہائش پذیر ہیں۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حال ہی میں آزاد کشمیر کے دورے میں کہا ہے کہ 2017 کے آخر تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی جب کہ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف 2018 میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی نوید دے رہے ہیں۔ خواجہ آصف یہ بھی اعتراف کر چکے ہیں مسلم لیگی رہنماؤں نے پی پی کی گزشتہ حکومت اور انتخابی جلسوں میں جو دعوے کیے تھے اقتدار میں آ کر انھیں معلوم ہوا کہ حالات ایسے نہیں جو وہ سمجھ رہے تھے بلکہ بہت زیادہ خراب ہیں۔

لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر سابق وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف بھی تین ماہ میں خاتمے کا اعلان کر کے بہت خوار ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں بجلی کا مسئلہ حل ہونے کے جھوٹے دعوے ہوتے رہے اور پورے نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنی گزشتہ حکومت اور انتخابی مہم میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی تاریخیں دیتے دیتے جذبات میں آ کر لوڈ شیڈنگ ختم نہ کرا سکنے پر اپنا نام بدل دینے کا بھی اعلان کر گئے جس پر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

بے نظیر بھٹو نے دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں سکھر میں اعلان کیا تھا کہ وہ ضلع گورنروں کا نظام نافذ کریں گی مگر وہ اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات تک نہ کرا سکیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جو وہ پانچ سال میں نہ کرا سکے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1970 کے عام انتخابات میں عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا اعلان کیا تھا جو ان کے بعد ان کی صاحبزادی اپنی دو بار کی حکومتوں میں اور داماد پانچ سال صدر رہ کر بھی پورا نہ کرا سکے۔

انتخابات میں عام طور پر قومی رہنما اعلان کرتے آئے ہیں کہ اقتدار میں آ کر ملک و قوم کی حالت بدل دیں گے مگر اقتدار میں آ کر ان کی اپنی حالت تو بدل جاتی ہے اور ملک و قوم کی حالت مزید بدتر ہو جاتی ہے۔


وزیر اعلیٰ پنجاب نے جھنگ کے قریب بجلی کے منصوبے کے سنگ بنیاد کے موقعے پر دعویٰ کیا کہ (ن) لیگ کی حکومت میں بجلی کے منصوبوں شفافیت پورے مشرق وسطیٰ میں سنائی دے رہی ہے۔ اس موقعے پر وزیر اعلیٰ نندی پور پراجیکٹ کے سلسلے میں اپوزیشن کی طرف سے لگائے جانے والے سنگین الزامات کو شاید بھول گئے جس میں خود انھیں بھی ملوث قرار دیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم نے اس منصوبے کے سربراہ کو بھی ہٹا دیا ہے جس کی شہباز شریف تعریف کرتے ہوئے انھیں سرکاری اعزاز دلانے کی اپنی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اظہار اپنی حکومت میں ایک بار پھر کیا ہے کہ انھیں اپنا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ اب پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ غیر جانبدار ذرایع کے مطابق (ن) لیگ کی حکومت میں لوڈ شیڈنگ کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے جب کہ پانی و بجلی کے دونوں وزیر لوڈ شیڈنگ میں کمی کا دعویٰ کرتے نہیں تھک رہے۔

حکمرانوں کے منہ سے لوگ بعض غلط باتیں سن کر بھی حیران رہ جاتے ہیں اور ان کے جھوٹے دعوؤں کی تردید نہیں کر پاتے اور خاموش رہ جاتے ہیں اور حکمران سمجھتے ہیں کہ عوام ان کی ہر بات پر یقین کر رہے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور عوام مجبور ہیں اور خاموش رہنے پر اکتفا کرتے ہیں اور حکومت پر غصہ ضمنی انتخابات میں بھی نکال لیتے ہیں جس کا ثبوت لاہور اور اوکاڑہ کا ضمنی انتخاب ہے جہاں آزاد امیدوار ریاض الحق جج نے (ن) لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں دو گنے سے بھی زائد ووٹ لیے اور لاہور میں وفاق اور پنجاب حکومتوں کا لاڈلہ اسپیکر بمشکل کامیاب ہو سکا ہے اور اس نشست کے لیے خود وزیر اعظم کو بھی ایک روز پہلے لاہور کا دورہ کرنا پڑا۔

(ن) لیگ کی حکومت میں شفافیت، میرٹ اور حقدار کو حق دینے کے وعدے تو کیے جاتے رہے ہیں مگر یہ دعوے بس کہنے ہی کی حد تک ہیں۔ اقربا پروری، دوست نوازی جاری ہے من مانے فیصلے ہو رہے ہیں۔ بدنام اور الزامات میں ملوث افسروں اور سیاستدانوں کی مکمل پشت پناہی ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ تک کے فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ حکومت اپنے ناپسندیدہ افسروں کو برداشت کرنے پر تیار نہیں جنھیں حکومت کے ہٹانے پر عدلیہ بحال کرتی ہے تو حکومتی سطح پر انھیں تنگ کر کے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

حکمران اور سیاستدان بولتے ہوئے اپنے الفاظ تولنے کے قائل نہیں جو منہ میں آیا بول جاتے ہیں۔ حکمرانوں کو مہنگائی میں کمی نہ جانے کہاں سے نظر آ گئی۔ حکومت کا ہر اقدام ملک میں مہنگائی بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرول سستا ہو تو، تو بھی عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا اور اکتوبر میں تو عوام کو پیسوں کی کمی کا ریلیف نہیں دیا گیا۔ (ن) لیگ کی حکومت عوام کو اب تک کوئی ریلیف نہیں دے پائی کہ وزیر خزانہ تو عوام کے منہ کا نوالہ بھی چھین لینے کے لیے کوشاں ہیں۔

لاہور میں اسپیکر کی دو ہزار ووٹوں سے کامیابی عوام کے موڈ کا پتہ دے گئی ہے اور لاہور اب (ن) لیگ کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے کراچی آپریشن پر کامیابی کے صرف راگ الاپے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں ریت پھسل رہی ہے، اس لیے اب جھوٹے دعوے چھوڑ کر (ن) لیگ کو حقیقت کی دنیا میں آنا ہو گا۔
Load Next Story