پاک امریکا ’نتیجہ خیز‘ بات چیت
دورے کا مقصد پاکستان کو اپنی سلامتی اور خطے میں امن کا روڈ میپ امریکیوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
وزیراعظم پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نتیجہ خیز بات چیت کرکے لوٹیں۔ قوم منتظر ہے۔ فوٹو : فائل
RAWALPINDI:
پاکستان نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کرنے کی امریکی پالیسی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوٹے ایٹم بم بنا لیے ہیں، ہمارے جوہری پروگرام کا مقصد بھارت کو جارحیت سے قبل روکنا ہے جنگ کا آغاز کرنا نہیں، صرف اپنا تحفظ کرنا ہے ۔ادھر وزیراعظم نواز شریف امریکا کے چار روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، ان کے دورے کا مقصد پاکستان کو اپنی سلامتی اور خطے میں امن کا روڈ میپ امریکیوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس امتیازی سلوک سے صدر بارک اوباما اور ان کی انتظامیہ کو آگاہ کرنا ہے جو بھارت نوازی کی آخری حد کو چھو رہی ہے، ملکی میڈیا میں وزیراعظم کے دورے کا تجزیاتی تناظر خاصا وسیع اور ہمہ گیر ہے جس میں جوہری ماہرین، سویلین نیوکلیئر معاہدہ پر ''سرپرائزنگ پیش رفت'' کے بجائے انتہائی تناؤ کے امکانات کے ساتھ خطے اور افغانستان سمیت بھارتی جارحیت کا حوالہ دیتے ہیں، چنانچہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم اپنے ساتھ جو ٹھوس استدلال، تقابلی پیپرز اور چوائسز لائے ہیں ان پر امریکی صدر اور دیگر حکام سے بات چیت محض نشستند وگفتند وبرخاستند تک محدود نہیں ہوگی ۔
وزیراعظم کے امریکا کے دورہ کے تناظر میں سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ اس دورے میں پاکستان امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے جوہری معاہدے پر دستخط نہیں کریگا، بھارت کے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے حوالہ سے چوہدری اعزاز نے کہا کہ بھارت اس حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے پہلے ہی اپنی چھاؤنیاں پاکستانی سرحد کے قریب تر لاچکا ہے ، مگر پاکستان نے اس ضمن میں موثر جوابی حکمت عملی بنا لی ہے۔
تاہم پاک امریکا مذاکرات بلاشبہ ایک تفصیلی یا پہلے سے طویل دورانئے کے سوچ بچار سے قطع نظر اقوام متحدہ کے اجلاس کے فوری ہی بعد ہو رہے ہیں اس لیے سفارتی ذرایع اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بات چیت انتہائی اہم بریک تھرو یا پھر اعصاب شکن بھی ہوسکتی ہے۔ امریکی ذرایع ابلاغ اور وائٹ ہاؤس کے مطابق نواز شریف سے صدر اوباما کی بات چیت کا اصل محور جوہری سلامتی، کاؤنٹر ٹیررازم، علاقائی سلامتی ہوگا ۔
جس میں افغانستان ، قندوز پر طالبان کا حملہ گفتگو کے اہم ایشوز ہونگے ، اپنی بریفنگ میں ترجمان جان ارنست نے کہا کہ مبصرین حضرات نیوکلیئر ڈیل سے متعلق اپنی توقعات قدرے کم کرلیں، وائٹ ہاؤس نے بعد ازاں ایک الگ بیان میں کہا کہ صدر اوباما کی نواز شریف سے پاکستان میں سرمایہ کاری، اقتصادیات، تجارت، عالمی صحت، ماحولیات اور موسم کی تبدیلیوں کے اہم ایشوز پر بات ہوگی۔ ادھر امریکا میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان کوئی جوہری معاہدہ ہونے نہیں جا رہا، امریکا نے پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ۔اس صورتحال میں اہل وطن کو کسی جذباتی بحران میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، کچھ انتظار کیجیے۔ بے شک امریکا پر پاکستانی وزیراعظم کو بھارتی مکروہ عزائم کے بارے میں کھل کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے، برصغیر میں مودی حکومت نے طاقت کا توازن بگاڑنے، ہندوتوا کو فروغ دینے ، سیکولر بھارت کی سیاسی صورتحال اور داخلی مسائل سے کروڑوں بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک بلاجواز کشیدگی پیدا کر رکھی ہے ۔
صدر اوباما کو پاکستان کے پر امن جوہری پروگرام پر اعتماد کرنا چاہیے، پاکستان اپنی سالمیت، جغرافیائی وحدت ،خود مختاری اور قومی امنگوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگا۔اس دورہ میں یہی دو ٹوک پیغام امریکا کو مل جانا ناگزیر ہے۔ طالبان کا دوبارہ طاقت پکڑنا خود اوباما کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے، امریکی فوجی حکام نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے امریکی ایف 16طیارے کو نشانہ بنانے کی آخر کار تصدیق کر دی ہے جب کہ امریکا کے دو تھنک ٹینکس نے پاکستان کو نہایت ''عالمانہ'' مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھارت کا انتظار کیے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کردے اور پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلقہ 5اہم اقدامات اٹھائے۔
تھنک ٹینکس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پہلی تجویز یہ ہے کہ پاکستان اپنی اعلان کردہ پالیسی کو پوری سطح سے اسٹرٹیجک ڈیٹرنس، کم سے کم دفاعی صلاحیت پر پرعزم ہے اور کم فاصلے کے حوالے سے وہیکلز اور روایتی جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو محدود کرے، فسائل میٹریل کٹ آف ٹریٹی مذاکرات سے پاکستان کی ویٹو اٹھائی جائے اور فسائل مواد کی پیداوار کم کی جائے، سویلین اور فوجی جوہری سہولیات کو علیحدہ کیا جائے اور حتمی تجویز یہ ہے کہ پاکستان بھارت کا انتظار کیے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے۔ ان ہدایات کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو کس خوبصورتی کے ساتھ دیوار سے لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یعنی ''وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا۔''
بلاشبہ وزیر اعظم نواز شریف ایک ایسے چیلنجنگ ماحول میں واشنگٹن پہنچے ہیں کہ جب صدر اوباما طالبان کی اچانک جارحیت سے اپنے اس کمٹمنٹ پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوئے کہ امریکی فوجیں 2016 ء میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔ وزیراعظم پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نتیجہ خیز بات چیت کرکے لوٹیں۔ قوم منتظر ہے۔
پاکستان نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کرنے کی امریکی پالیسی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوٹے ایٹم بم بنا لیے ہیں، ہمارے جوہری پروگرام کا مقصد بھارت کو جارحیت سے قبل روکنا ہے جنگ کا آغاز کرنا نہیں، صرف اپنا تحفظ کرنا ہے ۔ادھر وزیراعظم نواز شریف امریکا کے چار روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، ان کے دورے کا مقصد پاکستان کو اپنی سلامتی اور خطے میں امن کا روڈ میپ امریکیوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس امتیازی سلوک سے صدر بارک اوباما اور ان کی انتظامیہ کو آگاہ کرنا ہے جو بھارت نوازی کی آخری حد کو چھو رہی ہے، ملکی میڈیا میں وزیراعظم کے دورے کا تجزیاتی تناظر خاصا وسیع اور ہمہ گیر ہے جس میں جوہری ماہرین، سویلین نیوکلیئر معاہدہ پر ''سرپرائزنگ پیش رفت'' کے بجائے انتہائی تناؤ کے امکانات کے ساتھ خطے اور افغانستان سمیت بھارتی جارحیت کا حوالہ دیتے ہیں، چنانچہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وزیراعظم اپنے ساتھ جو ٹھوس استدلال، تقابلی پیپرز اور چوائسز لائے ہیں ان پر امریکی صدر اور دیگر حکام سے بات چیت محض نشستند وگفتند وبرخاستند تک محدود نہیں ہوگی ۔
وزیراعظم کے امریکا کے دورہ کے تناظر میں سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ اس دورے میں پاکستان امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے جوہری معاہدے پر دستخط نہیں کریگا، بھارت کے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے حوالہ سے چوہدری اعزاز نے کہا کہ بھارت اس حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے پہلے ہی اپنی چھاؤنیاں پاکستانی سرحد کے قریب تر لاچکا ہے ، مگر پاکستان نے اس ضمن میں موثر جوابی حکمت عملی بنا لی ہے۔
تاہم پاک امریکا مذاکرات بلاشبہ ایک تفصیلی یا پہلے سے طویل دورانئے کے سوچ بچار سے قطع نظر اقوام متحدہ کے اجلاس کے فوری ہی بعد ہو رہے ہیں اس لیے سفارتی ذرایع اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بات چیت انتہائی اہم بریک تھرو یا پھر اعصاب شکن بھی ہوسکتی ہے۔ امریکی ذرایع ابلاغ اور وائٹ ہاؤس کے مطابق نواز شریف سے صدر اوباما کی بات چیت کا اصل محور جوہری سلامتی، کاؤنٹر ٹیررازم، علاقائی سلامتی ہوگا ۔
جس میں افغانستان ، قندوز پر طالبان کا حملہ گفتگو کے اہم ایشوز ہونگے ، اپنی بریفنگ میں ترجمان جان ارنست نے کہا کہ مبصرین حضرات نیوکلیئر ڈیل سے متعلق اپنی توقعات قدرے کم کرلیں، وائٹ ہاؤس نے بعد ازاں ایک الگ بیان میں کہا کہ صدر اوباما کی نواز شریف سے پاکستان میں سرمایہ کاری، اقتصادیات، تجارت، عالمی صحت، ماحولیات اور موسم کی تبدیلیوں کے اہم ایشوز پر بات ہوگی۔ ادھر امریکا میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان کوئی جوہری معاہدہ ہونے نہیں جا رہا، امریکا نے پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں، وزیراعظم نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ۔اس صورتحال میں اہل وطن کو کسی جذباتی بحران میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، کچھ انتظار کیجیے۔ بے شک امریکا پر پاکستانی وزیراعظم کو بھارتی مکروہ عزائم کے بارے میں کھل کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے، برصغیر میں مودی حکومت نے طاقت کا توازن بگاڑنے، ہندوتوا کو فروغ دینے ، سیکولر بھارت کی سیاسی صورتحال اور داخلی مسائل سے کروڑوں بھارتی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک بلاجواز کشیدگی پیدا کر رکھی ہے ۔
صدر اوباما کو پاکستان کے پر امن جوہری پروگرام پر اعتماد کرنا چاہیے، پاکستان اپنی سالمیت، جغرافیائی وحدت ،خود مختاری اور قومی امنگوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگا۔اس دورہ میں یہی دو ٹوک پیغام امریکا کو مل جانا ناگزیر ہے۔ طالبان کا دوبارہ طاقت پکڑنا خود اوباما کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے، امریکی فوجی حکام نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے امریکی ایف 16طیارے کو نشانہ بنانے کی آخر کار تصدیق کر دی ہے جب کہ امریکا کے دو تھنک ٹینکس نے پاکستان کو نہایت ''عالمانہ'' مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھارت کا انتظار کیے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کردے اور پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلقہ 5اہم اقدامات اٹھائے۔
تھنک ٹینکس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پہلی تجویز یہ ہے کہ پاکستان اپنی اعلان کردہ پالیسی کو پوری سطح سے اسٹرٹیجک ڈیٹرنس، کم سے کم دفاعی صلاحیت پر پرعزم ہے اور کم فاصلے کے حوالے سے وہیکلز اور روایتی جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو محدود کرے، فسائل میٹریل کٹ آف ٹریٹی مذاکرات سے پاکستان کی ویٹو اٹھائی جائے اور فسائل مواد کی پیداوار کم کی جائے، سویلین اور فوجی جوہری سہولیات کو علیحدہ کیا جائے اور حتمی تجویز یہ ہے کہ پاکستان بھارت کا انتظار کیے بغیر سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے۔ ان ہدایات کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو کس خوبصورتی کے ساتھ دیوار سے لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یعنی ''وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا۔''
بلاشبہ وزیر اعظم نواز شریف ایک ایسے چیلنجنگ ماحول میں واشنگٹن پہنچے ہیں کہ جب صدر اوباما طالبان کی اچانک جارحیت سے اپنے اس کمٹمنٹ پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوئے کہ امریکی فوجیں 2016 ء میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔ وزیراعظم پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نتیجہ خیز بات چیت کرکے لوٹیں۔ قوم منتظر ہے۔