فکسنگ کیس میک کولم کو بچانے کیلیے کینز کی قربانی دینے کا الزام

سابق کرکٹرکے وکیل نے آئی سی سی اینٹی کرپشن اور کیوی آفیشلز کے چھکے چھڑا دیے، بیٹسمین نے مشکوک رابطے کوچھپایا

حکام کی جانب سے سزا نہ دینے کا معاملہ چھایا رہا،معلومات انٹرنیشنل کونسل کو بھیج سکتا ہوں فیصلے کا حق نہیں،جان رہوڈز فوٹو : فائل

نیوزی لینڈ کرکٹ حکام پر سینئر بیٹسمین برینڈن میک کولم کوبچانے کیلیے کینزکی قربانی دینے کا الزام عائد ہو گیا،جھوٹے بیان حلفی کیس میں سابق کیوی کرکٹر کرس کینز کے وکیل نے آئی سی سی اینٹی کرپشن اور کیوی کرکٹ آفیشلز کے چھکے چھڑا دیے۔

تفصیلات کے مطابق لندن کی سائوتھ ورک کرائون کورٹ میں سابق کیوی آل رائونڈر کرس کینز کیخلاف جھوٹے بیان حلفی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کا ٹرائل جاری رہا، گذشتہ روز نیوزی لینڈ کرکٹ کے سربراہ ڈیوڈ وائٹ کٹہرے میں کھڑے ہوئے جہاں کینز کے وکیل اورلینڈو پونیل نے جرح کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انھوں نے میک کولم کو بچانے کیلیے کینز کو قربانی کا بکرا بنایا۔

سینئر بیٹسمین کی جانب سے مشکوک رابطے کو چھپانے کے باوجود سزا نہ دینے کا معاملہ چھایا رہا، نیوزی لینڈ کرکٹ کے سربراہ ڈیوڈ وائٹ نے الزام مسترد کردیا، اینٹی کرپشن تفتیش کار جان رہوڈز نے کہاکہ میرا کام معلومات حاصل کرنااور آئی سی سی ہیڈ کوارٹر بھیجنا ہے، پابندیاں لگانا میرے دائرہ کار میں نہیں۔


وائٹ نے بتایا کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیشل جان رہوڈز اور مارٹن ورٹیگن اگست 2013 میں مجھ سے ملے، انھوں نے تین کھلاڑیوں لوونسنٹ، ڈیرل ٹفی اور کرس کینز کے فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں بتایا، وائٹ نے کہا کہ میں نے کوشش کی یہ بات میڈیا میں نہ آئے مگر پہلے مقامی اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں پلیئرز کے نام شامل نہیں تھے۔

پھر انگلینڈ کے ایک اخبار نے نام بھی دے دیے، اس کے بعدکینز کا مجھے پیغام آیا کہ وہ اس بارے میں ملاقات کرکے اپنا موقف پیش کرنا چاہتا ہے مگر میں نے ایڈوائس لی اور کینز کو آئی سی سی سے رابطہ کرنے کا کہا۔ وکیل صفائی اورلینڈو نے کہا کہ برینڈن میک کولم نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان سے 2008میں کینز نے فکسنگ کیلیے رابطہ کیا تھا مگر تب وہ خاموش رہے، انھوں نے یہ بات ڈینیئل ویٹوری کو بھی بتائی مگر کسی نے رپورٹ نہیں کی، پھر میک کولم نے 2011 میں اپنا آفیشل بیان دیا۔

کیا اس مشکوک رابطے کو چھپانے پر آئی سی سی قوانین کے تحت میک کولم اور ویٹوری دونوں پر پابندی نہیں لگنی چاہیے تھی، جس پر وائٹ نے کہا کہ یہ کونسل کے قوانین ہیں اور ان سے پوچھنا چاہیے، جب اورلینڈو نے کہا کہ آپ نے میک کولم کو بچانے کیلیے کینز کو قربانی کا بکرا بنایا تو انھوں نے کہا کہ ہمارا کام اپنے موجودہ ملازمین کا تحفظ کرنا ہے ایسے پرانے پلیئر کا نہیں جس کا نام مختلف کرپشن تحقیقات میں سامنے آرہا تھا۔

آئی سی سی تفتیش کار جان رہوڈز نے کہا کہ جس وقت میک کولم سے 2008 میں رابطہ کیا گیا تب وہ انڈین کرکٹ لیگ کا معاملہ تھا، وہ چونکہ ایک غیرقانونی ایونٹ تھا اس لیے شریک کھلاڑیوں سے ہم پوچھ گچھ نہیں کرسکتے تھے، جس پر اورلینڈو نے کہا کہ آپ نے اتنے عرصے تک ایک فکسر کو کھیل کو آلودہ کرنے کیلیے کھلا کیوں چھوڑا، جس پر رہوڈز نے کہا کہ میرا کام معلومات جمع کرکے آئی سی سی ہیڈ کوارٹر بھیجنا ہے، ان پر فیصلہ کرنے کا مجھے حق نہیں، رہوڈز پر جرح اگلے روز بھی جاری رہے گی۔
Load Next Story