سندھ بلدیاتی انتخابات فوج تعیناتی کا صائب فیصلہ

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا اونٹ بالآخر ایک کروٹ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا اونٹ بالآخر ایک کروٹ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے، فوٹو:فائل

KENYA:
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا اونٹ بالآخر ایک کروٹ بیٹھتا دکھائی دے رہا ہے، اس سلسلے میں پہلے مرحلے کی انتخابی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ بدھ کو مقامی ہوٹل میں چیف الیکشن کمیشن کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پہلے مرحلے کے 8 اضلاع میں3500 سے زائد نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں 37 ہزار افراد پر مشتمل انتخابی عملہ انتخابی ذمے داریاں ادا کرے گا جب کہ 31 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے، پہلے مرحلے میں 10ہزار سے زائد امیدواروں کے مابین مقابلہ ہو گا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کے مطالبے پر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں فوج اور رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم یہ تعداد کتنی ہو گی اور کہاں تعینات کیا جائے گا اس کا فیصلہ حکومت سندھ، الیکشن کمیشن، فوج اور رینجرز مل کر کریں گے۔


بلدیاتی انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بالکل صائب ہے جس سے نہ صرف سیکیورٹی رسک کم بلکہ دھاندلی کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے ہیں، ماضی میں بھی پولنگ اسٹیشنز پر فوج کی تعیناتی کے مثبت نتائج دیکھنے میں آئے اور انتخابی امیدواروں کو بھی جانب داری یا دھاندلی کی شکایت نہیں ہوئی۔

الیکشن کمیشن کا انتخابی عملے کو سختی سے ہدایت کرنا باعث اطمینان ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جن ریٹرننگ افسران کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں نہ صرف انھیں ہٹا دیا گیا ہے بلکہ ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی بھی کی گئی ہے۔ انتخابی عمل پر الیکشن کمیشن کی کڑی نظر ہے۔

سندھ پولیس اور رینجرز نے بھی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے قائداعظم کی تقریر کا حوالہ دے کر پھر دہرایا کہ سرکاری ملازمین کو حکومتوں کی خوشامد سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بالآخر واضح ہوتا نظر آ رہا ہے، امید ظاہر کی جاتی ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد یہ مراحل بحُسن و خوبی انجام پائیں گے۔
Load Next Story